نئی حکومت کو الٹانے کا تحریک انصاف کا منصوبہ کیا ہے؟

تحریک انصاف کے سیانے مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی میں اتفاق کو دیرپا تصور نہیں کرتے۔ بے تحاشہ مجبوریوں کی وجہ سے یہ ا اتحاد کچھ دیر برقرار رہا تب بھی ایم کیو ایم کی سیمابی طبیعت حکومتی اتحاد سے کسی وقت بھی الگ ہوسکتی ہے۔جس کے بعد سنی اتحاد کونسل میں مدغم ہوئی تحریک انصاف آ ئندہ وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کی گیم لگاسکتی ہے۔ اگر یہ گیم تیار ہوگئی تو مولانا فضل الرحمن بھی اس میں شامل ہونے کو آمادہ ہوسکتے ہیں اور یوں جب چاہے آئندہ حکومت کا تختہ بآسانی ’’آئینی طریقے‘‘ سے الٹا جاسکتا ہے۔ یہ معلومات سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے اپنے ایک کالم میں فراہم کی ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو محض خواتین اور اقلیتوں کے لئے مختص نشستوں کے حصول کے لئے خود کو سنی اتحاد کونسل میں مدغم ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ بہتر یہی تھا کہ تحریک انصاف کی حمایت سے منتخب اراکین قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھالینے کے بعد ’’انصاف پارلیمانی گروپ‘‘کی حیثیت میں اپنا وجود منواتے۔ تحریک انصاف کے سیانے مگر بتارہے ہیں کہ تحریک انصاف نے ’’فی الوقت‘‘ خو د کو سنی اتحاد کونسل میں مدغم اس لئے کیا ہے کیونکہ یہ ’’اتحاد‘‘ الیکشن کمیشن کے ہاں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کو اجتماعی طورپر جو ووٹ ملے ہیں وہ اب سنی اتحاد کونسل کے کھاتے میں شمار ہوں گے یوں اسے آئندہ قومی اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی سب سے زیادہ نشستیں مل جائیں گی اور وہ آئندہ قومی اسمبلی میں واحد اکثریتی جماعت بن جائے گی جس کی نشستوں پر کم از کم 130خواتین وحضرات براجمان ہوں گے۔ یہ بھاری بھر کم تعداد شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت کو بے ثباتی کے خوف سے مفلوج ر کھے گی۔
نصرت جاوید کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے جو کہانی سنائی گئی ہے وہ ٹھوس اعتبار سے قابل عمل محسوس ہوتی ہے۔سیاست مگر ایک ظالم شے ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ تحریک انصاف کے سنی اتحاد کونسل میں ادغام کے بعد قومی اسمبلی میں اس کا پارلیمانی لیڈر کون ہوگا؟ سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا یا تحریک انصاف کی صفوں سے نامزد ہوا کوئی شخص۔ تحریک انصاف عمر ایوب خان کو وزیر اعظم کا امیدوار نامزد کرچکی ہے۔وہ ا گر وزیر اعظم کے منصب کے لئے منتخب نہ ہوپائے تو آئندہ قومی اسمبلی میں انہیں قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنا چاہیے۔ سوال اٹھتا ہے کہ صاحبزادہ حامد رضا اپنی جماعت ’’قربان‘‘ کردینے کے بعد قائد حزب اختلاف کے باوقار منصب کو اپنے ہاتھ سے کیوں جانے دیں گے؟حامد رضا خان کا قدکاٹھ مذکورہ اتحاد کے بعد بے تحاشہ بلند ہوگیا ہے۔ شکی مزاج لوگ ہرگز سمجھ نہیں پارہے کہ حامد رضا خود کو ملی سیاسی قوت کو ’’چار دن کی چاندنی‘‘ کی طرح آسانی سے اپنے سرسے گزرنے کیوں دیں گے۔ان کی ’’نیک نیتی‘‘پر سیاست واقتدار کا سفاک کھیل کھیلتے ہوئے ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا جارہا ہے۔
بہرحال کسی کی نیت پر سوال اٹھانے کا کسی کو کوئی حق حاصل نہیں۔

Back to top button