پاکستان مخالف TTP کو القاعدہ کی مدد بھی ملنے لگی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ہوشربا رپورٹ نے نہ صرف پاکستان کا یہ مؤقف درست ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی تحریک طالبان ریاست پاکستان کے لیے ایک سنگین سکیورٹی خطرہ ہے بلکہ اسے اب افغان طالبان کے علاوہ القاعدہ کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کے لیے سازگار ماحول خطے کے لیے مستقل خطرہ ہے اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مانیٹرنگ میکنزم کا بنیادی کام ہی طالبان، القاعدہ، داعش اور متعلقہ شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں اور پابندیوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرنا ہے۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے روابط کے حوالے سے بھی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اس کے مطابق القاعدہ ماضی میں ٹی ٹی پی کو نظریاتی رہنمائی، تربیت اور مختلف نوعیت کی معاونت فراہم کرتی رہی ہے، تاہم حالیہ عرصے میں اس حمایت نے زیادہ واضح شکل اختیار کی۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے سرکاری میڈیا پلیٹ فارم ’’السحاب میڈیا فاؤنڈیشن‘‘ کی جانب سے 28 اپریل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں پہلی بار پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی کھلی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ اس پیش رفت نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف شدت پسند نیٹ ورکس کے درمیان رابطے اور تعاون خطے کے لیے ایک وسیع تر دہشت گردی کے خطرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے تعلقات اگرچہ نئے نہیں ہیں، تاہم ان تعلقات کی نوعیت میں حالیہ عرصے کے دوران آنے والی تبدیلی پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ٹی ٹی پی ایک پاکستانی شدت پسند تنظیم ہے جس کا بنیادی ہدف پاکستان کی ریاست، سکیورٹی فورسز اور دیگر ریاستی ادارے رہے ہیں، جبکہ القاعدہ ایک بین الاقوامی شدت پسند نیٹ ورک ہے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی فروری 2026 کی رپورٹ نے بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے لیے موجود سازگار ماحول پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہاں موجود گروہوں میں ٹی ٹی پی نمایاں ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے قیام کے بعد بھی ٹی ٹی پی کے لیے افغان حکام کی حمایت یا کم از کم اسے برداشت کرنے کا معاملہ برقرار ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہونے والے سرحد پار حملوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ یوں افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کا مسئلہ اب صرف داخلی افغان معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے براہ راست اثرات پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق افغانستان سے پیدا ہونے والا دہشت گردی کا خطرہ بنیادی طور پر تبدیل نہیں ہوا۔ متعدد شدت پسند تنظیموں کی افغانستان میں کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت پڑوسی ممالک اور وسطی ایشیا کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ طالبان حکام نے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور اس تنظیم کی افغانستان میں کارروائیوں کی صلاحیت کو کسی حد تک محدود کیا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق وہ افغانستان میں موجود دہشت گردی کے مجموعی مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے افغانستان میں داعش خراسان کی سرگرمیوں میں کمی ضرور آئی، لیکن پاکستان میں اس گروہ کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ خطے کے رکن ممالک نے داعش خراسان کے پاس جدید ٹیکٹیکل سازوسامان، ڈرون، نائٹ وژن آلات اور تھرمل امیجرز سمیت جدید وسائل کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ افغانستان میں جدید جنگی سازوسامان اور عسکری تربیت کی دستیابی مختلف شدت پسند گروہوں کی آپریشنل صلاحیت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بڑی مقدار میں جدید ہتھیار اور فوجی سازوسامان بھی موجود ہے، جسے افغان حکام ضرورت پڑنے پر ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے بعض رکن ممالک نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ جدید ہتھیاروں، خصوصاً نائٹ وژن آلات اور دیگر جدید نظاموں کے پھیلاؤ نے شدت پسند تنظیموں کو سکیورٹی فورسز کے خلاف زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔ یوں افغانستان میں موجود سابق فوجی سازوسامان بھی خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان حکام نے ٹی ٹی پی کے تقریباً دو ہزار جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستان سے ملحقہ علاقوں سے افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا۔ بظاہر یہ اقدام ٹی ٹی پی کو سرحدی علاقوں سے دور رکھنے اور اسکی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم اس سے بنیادی مسئلہ ختم نہیں ہوتا کہ تنظیم کے ارکان اور ان کا نیٹ ورک افغانستان میں موجود رہے۔
اسی رپورٹ میں یہ اطلاعات بھی شامل کی گئی ہیں کہ افغان طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان کے خلاف حملے روکنے کی تنبیہ کی، بصورت دیگر طالبان کی حمایت سے محرومی کا خطرہ ظاہر کیا گیا۔ تاہم عملی طور پر اس ہدایت کا کوئی نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اسلام آباد گزشتہ کئی برس سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت اور اس کے جنگجو افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی کی قیادت اور اس کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ دوسری جانب افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے تناظر میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں حالیہ اضافہ بھی خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق 2 اگست کو خیبر پختونخوا کے سوات کے علاقے کبل میں پولیس تھانے کے سامنے خودکش دھماکے میں 17 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے، جبکہ 24 جولائی کو ٹانک میں ایک چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے میں 14 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہوئے۔ دونوں واقعات کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتی رہی ہیں کہ افغانستان ٹی ٹی پی کے لیے اہم پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق انہی پناہ گاہوں کی وجہ سے ٹی ٹی پی کو اپنی صلاحیت بڑھانے کا موقع مل رہا ہے اور تنظیم کی جانب سے جدید ڈرون اور کواڈ کاپٹرز کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم افغان امور کے ماہر طاہر خان کے مطابق صورتحال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ ان کے خیال میں طالبان نے ٹی ٹی پی کو سرحدی علاقوں سے دور منتقل کرنے اور اس کے خلاف انتظامی اقدامات کے ذریعے مسئلے کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن افغان طالبان پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور سرحد پار پاکستانی کارروائیوں کے باعث کھلے عام ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا فقدان اتنا زیادہ ہے کہ کسی بھی فریق کی جانب سے اٹھایا جانے والا قدم فوری طور پر ایک نئے تنازع کا سبب بن سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ٹی ٹی پی کے خلاف افغان سرزمین پر مؤثر کارروائی نہ ہوئی اور القاعدہ سمیت دیگر شدت پسند نیٹ ورکس سے اس کے روابط مزید مضبوط ہوئے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی، فوجی جھڑپوں اور دہشت گردی کا یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
