بلاگر گورایہ کے ممکنہ قاتل کو فیس کیسے پہنچی؟

یورپی ملک نیدر لینڈ میں مقیم اسٹیبلشمنٹ مخالف پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کے منصوبہ قتل کی تفصیلات دیتے ہوئے برطانوی کراون پراسیکیوشن سروسز نے لندن کی کنگسٹن کراون کورٹ کو بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسی نے قتل کے لیے رقم لندن سے چنیوٹ کے الائیڈ بینک بھجوائی جہاں سے اسے ہنڈی کے ذریعے واپس گوہر خان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ قتل کا سودا ایک مڈل مین کے ذریعے ایک کروڑ برطانوی پاؤنڈز کے عوض طے ہوا تھا۔

پہلی قسط کے طور پر کرائے کے قاتل گوہر خان کو 5 ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی مئی 2021 میں کی گئی تاکہ وہ برطانیہ سے سفر کر کے اپنے شکار کے پاس نیدر لینڈ پہنچ سکے۔ گوہر کے کہنے پر خفیہ ایجنسی اور کرائے کے قاتل کے مابین مڈل مین کا کردار ادا کرنے والے مزمل عرف مڈز نے یہ رقم چنیوٹ کے رہائشی محمد امین آصف کے اکائیڈ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جہاں سے وہ ہنڈی کے ذریعے لندن میں مقیم گوہر خان کو بھجوا دی گئی۔

کراون پراسیکیوشن سروسز نے لندن کی کنگسٹن کرائون کورٹ کے ججوں کو بتایا کہ برطانوی نژاد پاکستانی کرائے کے قاتل گوہر خان کو وقاص گورایہ کے قتل کی عوض 5000 پاونڈز کی پہلی ادائیگی کے بعد 15000 پاؤنڈز مزید ادا کیے جانے تھے جبکہ بقیہ 80 ہزار پاؤنڈز قتل کے بعد ادا ہونے تھے۔

اس رقم میں مڈل مین کا بھی حصہ تھا جس نے خفیہ ایجنسی کے خونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے گوہر خان کو بھرتی کیا تھا۔ دونوں کی واٹس ایپ گفتگو کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرتے ہوئے برطانوی پروسیکیوشن نے بتایا کہ کرائے کے قاتل گوہر خان اور اسکی خدمات حاصل کرنے والے مزمل عرف مڈز نے بینک اکائونٹ میں ادائیگی پر بات کی جسکے بعد مزمل نے چنیوٹ کے ایک الائیڈ بینک اکائونٹ میں 5 ہزار پائونڈز محمد امین آصف کے نام پر بھیجے۔ اس بات کا علم نہیں ہے کہ بینک یا محمد امین آصف کو ادائیگی کا اصل مقصد معلوم تھا یا نہیں، تاہم پراسیکیوشن کا اصرار ہے کہ امین آصف نے ہنڈی منتقلی میں کردار ادا کیا۔

اس دوران ادائیگی میں تاخیر ہوئی کیوں کہ گوہر اور مزمل کے درمیان رقم منتقل کرنے کے طریقہ پر اختلاف تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ مزمل اپنی شناخت ظاہر کر کے منی ٹریل چھوڑنا نہیں چاہتا تھا جس سے وہ کل کلاں کو پکڑا جائے۔

30 اپریل 2019 کو گوہر خان نے قتل کے عوض رقم کی ادائیگی کے لیے چنیوٹ کے ایک رہائشی کی تفصیلات مزمل عرف مڈز کو واٹس ایپ کے ذریعے بھیجیں جلوس کا نام محمد امین آصف تھا۔ پراسیکیوشن کے مطابق، گوہر خان نے شرط عائد کی تھی کہ اسے تمام رقوم برطانوی پائونڈز میں ادا کی جائیں، پاکستانی روپے میں ادائیگی نہ کی جائے اور مکمل رقم اس کے پاس کام مکمل ہونے کے 72 گھنٹوں کے اندر اسے لندن میں وصول ہو جانی چاہیئے۔ جب مزمل نے گوہر کو بتایا کہ وہ رقم کے لیے اپنے بگ باس کی اجازت کا منتظر ہے تو گوہر خان پریشان ہوا اور پوچھا کہ کیا باس کی طرف سے دوبارہ خاموشی ہے۔

برطانیہ نواز شریف کو پاکستان کے حوالے کیوں نہیں کرے گا؟

جب گوہر خان نے ادائیگی سے متعلق اصرار کیا کہ کب ہوگی تو مزمل نے بتایا کہ پاپا جلد ادائیگی کر دیں گے۔ بعد ازان گوہر خان نے چنیوٹ شہر کے رہائشی محمد امین کے بینک کی تفصیلات دوبارہ بھیجیں۔ رقم ادائیگی کے بعد بعد مزمل نے نیدر لینڈ میں مقیم احمد وقاص گورایہ کی تصویر اور اس کے گھر کا پتہ دوبارہ گوہر خان کو بھیجا۔ مزمل نے گوہر کو یہ بھی لکھا کہ یہ ایک نفع بخش کام ہے جسے کرنے سے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جائے گا۔ 20 مئی 2021 کو مزمل نے 5000 پاونڈز کی رقم بینک میں جمع کروانے کی کوشش کی لیکن نہ کامیاب ہو سکا کیوں کہ اس کے پاس اصل شناختی کارڈ نہیں تھا۔

اس پر گوہر خان نے مزمل۔کو ہنڈی کا طریقہ کار اختیار کرنے کا کہا لیکن مزمل۔پھر بھی ہچکچاہٹ میں تھا، اس نے گوہر خان کو بتایا کہ اسے چنیوٹ پہنچنے میں چار گھنٹے لگیں گے۔ اس نے کہا کہ محمد امین آدھے راستے تک اس کے پاس آئے اور اس سے نقد رقم پکڑ لے۔ تاہم پھر یہ طے ہوا کی مزمل رقم بینک میں جمع کروا دے گا۔ لیکن مزمل دوسری بار بھی ناکام رہا کیونکہ اسکے پاس اصل شناختی کارڈ کی بجائے اس کی نقل تھی۔

تیسری کوشش میں یہ رقم گوہر خان کے بتائے ہوئے شخص کے بینک اکائونٹ میں جمع کروا دی گئی۔ بعد ازاں گوہر نے لندن سے نیدرلینڈ تک کا ٹکٹ خرید کر سفر کیا۔ پہلی مرتبہ گوہر نیدرلینڈ میں داخل نہ ہو پایا اور امیگریشن کاونٹر سے ہی واپس بھجوادیا گیا۔ تاہم دوسری مرتبہ وہ بس کا سفر کرتے ہوئے نیدرلینڈز پہنچا اور ایک 19 لمبا چاقو خریدا جس سے اس نے احمد وقاص گورایہ کا قتل کرنا تھا۔ تاہم احمد وقاص گورایہ کی خوش قسمتی کہ وہ ان دنوں شہر سے باہر تھا۔

Back to top button