برطانیہ نواز شریف کو پاکستان کے حوالے کیوں نہیں کرے گا؟
کپتان حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کی خاطر برطانوی حکومت کے ساتھ سزا یافتہ مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ کرنے کی کوششیں تیز تر ہو چکی ہیں لیکن قانونی ماہرین کا کہنا کہ اول تو ایسا معاہدہ اسلام آباد کی شرائط پر ہونا ممکن نہیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو برطانیہ کسی صورت نواز شریف کو بیدخل کر کے پاکستانی حکام کے حوالے نہیں کرے گا۔
اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی برطانیہ کے ساتھ سزا یافتہ مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔ سفارتی ذرائع کے بقول وجہ یہ تھی کہ برطانیہ ایسے ممالک سے مجرموں کے تبادلے کا سمجھوتہ نہیں کرتا جہاں بار بار فوجی آمر منتخب حکومتوں کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہو جاتے ہوں اور عوام کے حق حکمرانی کی نفی کی جاتی ہو ۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کپتان حکومت برطانیہ کے ساتھ سزا یافتہ مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کا بہت بڑا معرکہ ہوگا۔ یاد رہے کہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے 17 جنوری کو یہ بیان داغا ہے کہ وہ برطانیہ کیساتھ مجرموں کے تبادلے کا سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انکی حکومت کی جانب سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کے معاہدے یعنی (Extradition Treaty) کے مسودے کی منظوری دے دی گئی ہے ور جیسے ہی معاہدہ طے پائے گا، برطانیہ میں پناہ لینے والے تمام مجرموں کو وطن واپس لایا جائے گا۔
واضح رہے کہ کپتان حکومت کو مطلوب اہم ترین سیاسی شخصیات میں نواز شریف، متحدہ قومی موومنٹ کے سابق قائد الطاف حسین، نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اور سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار شامل ہیں جو اس وقت لندن میں قیام پذیر ہیں۔ حکومت نے پاکستان اور برطانیہ سے مجرموں کے تبادلے کیلئے گزشتہ برس ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں وزیر داخلہ شیخ رشید ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری ، مشیر احتساب شہزاد اکبر اور متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز شامل تھے۔
معاہدے کا جو مسودہ سامنے آیا ہے اس کے مطابق دونوں ملک اپنے سزا یافتہ مجرموں کو ایک دوسرے کے ممالک واپس بھیج سکیں گے۔ معاہدے سے صرف ایسے شہریوں کو واپس لانے کی اجازت ہو گی جن کو متعلقہ عدالتیں سزا سنا چکی ہیں، اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے جس مسودے کو منظور کیا اس پر برطانیہ سے ابھی مشاورت کا عمل شرقع ہونا بھی باقی ہے، لیکن اگر مشاورت کے بعد برطانیہ نے سمجھوتے کے مسودے سے اتفاق کیا تو اس پر دستخط ہو جائیں گے۔ لیکن اسلام آباد میں موجود سفارتی ذرائع سے اس حوالے سے زیادہ پرامید نہیں ہے۔
عمران عہد حکومت میں برطانیہ کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کے سمجھوتے پر ڈیڈ لاک کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جون 2019 میں ابھی نواز شریف لندن نہیں گئے تھے، تو پاکستان نے الطاف حسین اور دیگر مطلوب مجرموں کی واپسی کیلئے برطانیہ کو ایک ایکسٹراڈیشن ٹریٹی کرنے کی پیش کش کی لیکن ایسا نہ ہو پایا۔ اگر حکومت پاکستان اب برطانیہ کے ساتھ یہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان ان 100 سے زائد ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جن کا برطانیہ کے ساتھ حوالگی کا معاہدہ موجود ہے اور دونوں ملک سزا یافتہ مجرمان کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔
بلاگر گورایہ کے ممکنہ قاتل کو فیس کیسے پہنچی؟
یاد رہے کہ گزشتہ سال کے وسط میں بھی وزیرداخلہ شیخ رشید نے برطانیہ کے ساتھ مجرمان کی واپسی کے معاہدے کا مسودہ تیار ہونے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ پاکستان اب برطانیہ کے ساتھ جلد از جلد اس معاہدے پر دستخط کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بدقسمتی سے معاہدے کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد ہائی پروفائل مجرمان برطانیہ میں پناہ لے چکے ہیں۔
لیکن بعد ازاں ایک برطانوی حکومت وزیر نے واضح کر دیا کہ یہ معاہدہ کیوں نہیں ہو سکتا۔برطانوی وزیرخارجہ جریمی نیٹ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں برطانوی وزیر خارجہ نے دو ٹوک کہہ دیا تھا کہ برطانیہ ایسے ملکوں کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کا سمجھوتہ نہیں کرتا جہاں طالع آزمائی سے بار بار جمہوری حکمرانی ختم کی جاتی رہی ہو اور عوام کے منتخب نمائندے زیر عتاب ہوں۔
ماہرین اور مبصرین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرف دور کے تین وزرائے داخلہ جنرل ( ر) معین الدین حیدر ، آفتاب احمد خان شیر پائو اور فیصل صالح حیات سر توڑ کوششیں کرتے رہے کہ الطاف حسین سمیت دیگر مفرور ملزمان کو واپس لائیں تاکہ ان کے خلاف کیسز انجام کو پہنج سکیں تاہم ایسا نہیں ہو پایا حالانکہ الطاف حسین کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں 700 سے زیادہ سنگین جرائم کے مقدمے گزشتہ 25 سال سے زیر التوا پڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ناقدین کہتے ہیں کہ کپتان حکومت کا یہ سوچنا کہ وہ برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ کر کے تین مرتبہ کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپس لا پائے گی، ایک دیوانے کے خواب کے سوا کچھ بھی نہیں۔
