باغی رکن نور عالم خان کی فارورڈ بلاک بنانے کی تیاری

حکومتی جماعت کے پارلیمانی اجلاسوں اور قومی اسمبلی کے فلور پر اپنی ہی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نور عالم خان نے صوبائی صدر پرویز خٹک کی جانب سے بھیجا جانے والا شوکاز نوٹس مسترد کر کے نہ صرف اپنے باغیانہ موقف پر ڈٹے رہنے کا اعادہ کیا ہے بلکہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وہ اپنے لائک مائنڈڈ پارٹی اراکین کا ایک گروپ تشکیل دے رہے ہیں جو کہ مستقبل قریب میں فارورڈ بلاک کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ پارٹی چئیرمین عمران خان کی ہدایت پر خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کے صدر پرویز خٹک نے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کو اسمبلی کے فلور پر پارٹی کیخلاف گفتگو کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس بھجوایا تھا۔ نور عالم نے اسمبلی فلور پر حکومتی کی بنچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان لوگوں کے نام ای سی ایل پر ڈال دیئے جائیں تو پاکستان کے تمام مسئلے حل ہو جائیں گے چونکہ عوام کی مشکلات کے ذمہ داری یہی لوگ ہیں۔
تاہم نور عالم خان نے شو خان نوٹس کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے موقف یہ اختیار کیا ہے کہ وہ اسکا جواب نہیں دیں گے چونکہ پرویز خٹک کو انھیں نوٹس بھیجنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا یے کہ شوکاز پارٹی کے سربراہ یا سیکرٹری جنرل کی جانب سے جاری ہوتا ہے۔
نور عالم نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر ملک میں تاریخی مہنگائی اور بیروزگاری پر بات کرناضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے تو میں یہ بات کرتا رہوں گا۔ انہوں نے شوکاز نوٹس کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پارٹی کے چیئرمین یا سیکرٹری جنرل کی جانب سے انہیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوتا وہ کوئی جواب نہیں دیں گے۔
نور عالم خان نے کہا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے ضابطہ اخلاق کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی، مہنگائی اور بے روزگاری پر بات کرنا نیکی یے جو میں کرتا رہوں گا۔ اس معاملے پر ایک نہیں سو بار بھی شوکاز جاری کئے جائیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ کرپشن اور مہنگائی کے خلاف آواز اٹھائی ہے، میں عوام کا منتخب نمائندہ ہوں، اور عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا میری ذمہ داری ہے، میں یہ ذمہ داری ادا کرتا رہوں گا اور قومی اسمبلی میں آٹا، بجلی اور گیس کے مہنگا ہونے کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا۔
نور عالم خان نے وزیر اعظم عمران خان کے خود احتسابی کے وژن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے تحفظات اٹھانے پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے بجائے کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے کوئی اقدامات کرتی۔ دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ نور عالم خان اپنے لائک مائنڈ پارٹی اراکین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اگر ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا تو وہ قومی اسمبلی میں اپنا فارورڈ بلاک بنانے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں نور عالم خان نے اسمبلی میں صف اول کی تین حکومتی نشستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان پر ملک کے مسائل کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے اگلی نشستوں پر موجود وزیر اعظم عمران خان سمیت تمام لوگوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی بقا کا یہی واحد راستہ ہے۔
یاد رہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی بھی حکمران اتحاد کے حالیہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کے ساتھ نوک جھونک ہوئی تھی۔ نور عالم خان نے پورے خیبر پختونخوا میں اور خاص طور پر ان کے اپنے حلقہ انتخاب پشاور میں نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔
دوسری جانب قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ اپنی ہی جماعتوں کے خلاف بولنے پر ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاسکتا۔ قانون صرف ان ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کا بتاتا ہے جو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اہم مواقع پر جیسے اعتماد کا ووٹ یا منی بل کے موقع پر جماعت کی پالیسی کے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔
برطانیہ نواز شریف کو پاکستان کے حوالے کیوں نہیں کرے گا؟
اس طرح کے معاملات میں پارٹی سربراہ، الیکشن کمیشن آف پاکستان جاسکتا ہے اور منحرف رکن کی نااہلی کے لیے درخواست دے سکتا ہے، تاہم قومی اسمبلی میں کسی بھی پارٹی رکن کو اپنی بات کرنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں، بلکہ وہ تمام تقاریر جو قومی اسمبلی کے فلور پر کی جاتی ہیں انہیں قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور ان کی بنیاد پر کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے اطلاعات میاں فرخ حبیب کا موقف ہے کہ نور عالم خان کو پورے میڈیا کی موجودگی میں قومی اسمبلی کے فلور پر پارٹی پر تنقید کرنے کے بجائے پارٹی کے اندورنی اجلاس میں اپنے تحفظات کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے ایم این اے کو نوٹس جاری کرنے کی توجیہہ دیتے ہوئے فرخ حبیب نے کہا کہ انہوں نے کھلے عام پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔
جب پوچھا گیا کہ کیا نور عالم خان کی پارٹی رکنیت معطل کردی گئی ہے تو وزیر نے جواب دیا کہ معطلی کے حوالے سے وہ یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ان سے جواب ضرور طلب کیا گیا ہے۔ تاہم نور عالم خان اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ انہوں نے صرف اپنے حلقے کے عوام کے تحفظات اٹھائے ہیں اور انہیں اپنا کام کرنے پر پارٹی شوکاز نوٹس کیسے جاری کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کس بنیاد پر پی ٹی آئی کے صوبائی صدر پرویز خٹک مجھے شوکاز نوٹس جاری کرسکتے ہیں جبکہ میں لوگوں کے مسائل کی بات کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ حکومت لوگوں کے مسائل حل نہیں کر سکتی تو میں اس کا حصہ بنے رہنے کا الزام اپنے سر پر نہیں لے سکتا۔
