کیا یہودیوں کو یرغمال بنانے والا فیصل ذہنی مریض تھا؟

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک یہودی عبادت گاہ میں چار افراد کو یرغمال بنانے والے ملک فیصل اکرم کے خاندان کا کہنا ہے کہ 44 سالہ مقتول برطانوی نژاد شہری ذہنی مسائل کا شکار تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر وہ زندہ پکڑا جاتا تو ذہنی مریض قرار پاکر سزا سے بچ جاتا لیکن ٹیکساس پولیس کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی اسے مار دیا گیا۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹیکساس میں یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والا شخص ذہنی مسائل کا شکار لگتا تھا اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہےبکہ یرغمال بنانے والا جذباتی طور پر غیر مستحکم تھا کیونکہ کچھ عرصہ پہلے لندن میں اس کے ایک جوان بھائی کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکساس پولیس کے ساتھ مذاکرات کے دوران فیصل کافی مشتعل تھا اور بار بار مذاکرات کاروں پر برہم ہوتا رہا، وہ ٹیکساس کی ایک جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ بار بار دہراتا رہا اور خود پر قابو کھوتا رہا۔

ملزم ملک فیصل اکرم کا تعلق برطانیہ کے شہر بلیک برن سے تھا اور اس کا خاندان تقریباً 50 سال قبل جہلم سے برطانیہ منتقل ہوا تھا۔ ملزم نے بیتھ اسرائیل نامی عبادت گاہ میں گھس کر چار افراد کو 12 گھنٹے سے زائد وقت تک یرغمال بنائے رکھا۔

ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے عبادت گاہ پر چھاپہ مارا اور ملک فیصل اس آپریشن میں مارا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نے بار بار۔کے مطالبے کے باوجود ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ میڈیا میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیصل اکرم کی شادی بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون سے ہوئی اور ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے، ملزم کی ازدواجی زندگی مسائل کا شکار تھی اور اس کے اپنے والد کے ساتھ بھی تعلقات خراب تھے۔

ملزم نے حال ہی میں کرونا وبا کے سبب اپنے ایک بھائی کو بھی کھو دیا۔ بلیک برن کی مسلم کمیونٹی کی طرف سے جاری کیے گئے بیان مطابق فیصل کے بھائی گلبار اکرم نے کہا ہے کہ ان کا بھائی ذہنی مسائل کا شکار تھا اور ملزم کے خاندان نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایف بی آئی کے مذاکرات کاروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ گلبار اکرم نے بتایا کہ اگرچہ میرا بھائی دماغی مسائل میں مبتلا تھا، لیکن ہمیں یقین تھا کہ وہ کسی صورت یرغمالیوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 3 بجے دوپہر پہلے یرغمالی کو بازیاب کرلیا گیا تھا، پھر ایک گھنٹے بعد ملزم نے دیگر 3 یرغمالیوں کو بھی بغیر کوئی نقصان پہنچائے ہنگامی دروازے سے رہا کردیا تھا، لیخن اس کے چند منٹوں بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور فیصل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ گلبار اکرم کے مطابق ایسا کچھ نہیں تھا ہو سکا جو اسے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرتا۔

باغی رکن نور عالم خان کی فارورڈ بلاک بنانے کی تیاری

فیصل اکرم نے اس سے قبل اپنی شناخت پاکستانی نژاد نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بھائی فیصل صدیقی کے طور پر کرائی تھی، اس نے ٹیکساس کی جیل سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جہاں وہ 2010 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں 86 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی تصدیق کی ہے کہ حملہ آور نے عافیہ صدیقی کی رہائی کی درخواست کی تھی، انہوں نے کہا کہ ٹیکساس حملے کا تعلق کسی ایسے شخص سے تھا جسے 15 سال قبل گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 10 سال سے جیل میں تھا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی کی زیر قیادت اس معاملے کی تحقیقات تین براعظموں تک پھیل سکتی ہیں، جس میں بنیادی طور پر فیصل اکرم کی برطانیہ میں سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ملزم کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مبینہ مطالبہ ایف بی آئی اور پاکستانی حکام کے درمیان رابطے کا باعث بنے گا۔

تاہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں رہنے والے ان کے بھائی نے بھی ایک وکیل کے ذریعے بیان جاری کرتے ہوئے خود کو فیصل کے عمل سے الگ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا اس شخص کے ساتھ کوئی تعلق یا رابطہ نہیں تھا۔ یاد رہے کہ عافیہ کا بھائی کبھی کبھار اسے ملنے ٹیکساس کی جیل جاتا ہے۔

ادھر برطانیہ کے دفتر خارجہ اور دولت مشترکہ نے تصدیق کی کہ انہیں ٹیکساس میں ایک برطانوی شہری کی موت کا علم ہے اور وہ مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ برطانیہ میں دہشت گردی کے کیسز سے نمٹنے والی لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے کہا کہ وہ ’ٹکساس میں ہونے والے واقعے کے حوالے سے امریکہ میں حکام سے رابطے میں ہے۔

Back to top button