قرارداد پاکستان پاس کروانے والا جی ایم سید غدار کیوں بنا؟

سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کو پشتون قوم پرست رہنما خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کے بعد پاکستان کا سب سے معروف ’غدار‘ سمجھا جاتا ہے جو کھلے عام پاکستان کو توڑنے اور سندھو دیش بنانے کی بات کرتے تھے۔ وہ اپنے پاکستان مخالف نظریات کی وجہ سے غداری کے الزامات پر مختلف ادوار میں قید ہوئے اور نظر بند رہے لیکن ان کی 28 سالہ قید و نظربندی کے دوران کبھی بھی انہیں کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غدار قرار دیے جانے سے پہلے وہ 1930 میں بطور مسلم لیگی قرارداد پاکستان پاس کروانے میں مرکزی کردار ادا کر چکے تھے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد وہ سندھیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی وجہ سے قوم پرست بن گے اور سندھ کی آزادی کا نعرہ بلند کر دیا۔

غداری ایک ایسا الزام تھا جسے وہ بخوشی قبول کیا کرتے تھے۔ انکے نزدیک سیاست دو قسموں کے تھی۔ ایک عملی یعنی انتخاب و اقتدار کی سیاست اور دوسری آدرشی یا نظریات و اصولوں کی سیاست۔ نظریات ان کے جیسے بھی تھے، جی ایم سید آدرشوں اور اصولوں پر کھڑے رہنے والے سیاستدان تھے۔ وہ اپنے ملنے والوں سے کہتے کہ آؤ ملکر دعا کریں کہ پاکستان ٹوٹ جآئے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایم سید سدت پسند نہیں تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے قتل کی افواہ سن کر وہ دھاڑیں مار کر رونے لگے تھے۔ جناح پر قاتلانہ حملے کے منصوبے میں ایک سندھی کے پکڑے جانے پر انہوں نے کہا تھا ’حیرت اس بات کی ہے کہ سندھی بھی انتہا پسند ہو سکتے ہیں۔‘

جی ایم سید بنیادی طور پر ایک صوفی تھے۔ وہ سندھ کے عظیم صوفی مخدوم بلاول کے مرید اور ایک بزرگ حیدر شاہ سنائی کے سجادہ نشین بھی تھے۔ جی ایم سید کی کم عمری میں ہی ان کے والد کو قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد انکی تمام تعلیم گھر کی عورتوں کے پاس یا گاؤں کے مکتب میں اور خانگی طور پر مقامی ٹیچروں کے ذریعے ہوئی تھی۔ وہ حاضر جواب، بلا کی حس مزاح کے مالک، منجھے سیاستدان اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ان کی کتابوں میں سے ایک بعنوان ‘جیسا میں نے دیکھا، مذاہب عالم اور ان کی تاریخ بارے ہے جو انہوں نے 1960 کی دہائی میں لکھی۔ انکی ایک اور کتاب ’سندھو دیش کیوں اور کس لیے’ انکی ممنوعہ کتابوں میں شامل ہے۔

ان کے پاکستان مخالف نظریات کی بنیاد پر ان کے مخالفین ان پر غیر مسلم ہونے کا الزام بھی عائد کر دیتے تھے حالانکہ در حقیقت وہ اپنے گاؤں کی مسجد میں بہت عرصے تک نمازوں کی امامت کرتے اور جمعے کے خطبات بھی دیتے رہے۔ آج سندھ میں کئی سندھی قوم پرست اور نوجوان سندھو دریا کے اس پار ایک چھوٹے سے شہر سن جاتے ہیں جہاں جی ایم سید ایک کھلی کتاب کی شکل میں سنگِ مرر کی ایک قبر کے نیچے دفن ہیں۔

17 جنوری 1904 کو سن میں پیدا ہونے والے جی ایم سید جب 35 اپریل 1995 کو سپردِ خاک ہوئے تو ان کے جنازے کے ساتھ قرآن، گیتا، انجیل، توریت اور شاہ جو رسالو بھی ساتھ سفر کرتے رہے تھے۔ جی ایم سید شاید پاکستان میں وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے کئی برس قبل ہی مذہبی انتہا پسندی کے ملک اور خطے میں خطرات سے متنبہ کر دیا تھا۔ وہ پہلے سیاستدان بھی تھے جنہوں نے سرد جنگ کے خاتمے سے قبل کہا تھا کہ سرمایہ دارانہ و اشتراکی بلاکس میں بٹی ہوئی دنیا کے قطع نظر روحانی ممالک کے گروہوں کا بھی ایک بلاک ہونا چاہیے۔ نیز یہ کہ سرد جنگ کے خاتمے پر انہوں نے امنِ عالم کے لیے اقومِ متحدہ کی از سر نو تشکیل کی بات کی تھی۔ یہ بات انہوں نے جنوری 1992 میں نشتر پارک کراچی میں اپنی سالگرہ کے جلسے کے دوران کی تھی جسکے فوراً بعد انہیں گرفتار کر کے گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ نواز شریف کے دنوں میں شروع ہونی والی ان کی نظر بندی بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دوران مئی 1995 میں ان کی وفات تک برقرار رہی۔

جی ایم سید سے مراد غلام مرتضی شاہ سید تھا، غفار خان کی طرح جی ایم سید بھی مہاتما گاندھی سے متاثر تھے۔ 27 اپریل 1921 کو انھوں نے گاندھی کا سن ریلوے اسٹیشن پر استقبال کیا، جی ایم سید کو گاندھی نے کھدر کا لباس پہنے کے لیے کہا جس پر انھوں نے کھدر کا لباس اپنا لیا اور پھر ساری زندگی پہنا۔

جی ایم سید نے 1924ء تک خلافت تحریک میں حصہ لیا تاآنکہ ہندو مسلم اختلاف کے سبب تحریک کا جوش اور ولولہ ختم ہوگیا۔ 1925ء میں جی ایم سید نے تحصیل بورڈ کوٹری کے صدر اور ضلع کونسل کراچی کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد سیاست کو سماجی تبدیلی کا ذریعہ سمجھ کر عوام کی فلاح و بہبود کی کوششیں شروع کیں۔ 1928ء میں وہ ضلع لوکل بورڈ کراچی کے صدر منتخب ہوئے۔ 1930ء میں انھوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی جب انگریزوں نے سائمن کمیشن کا انعقاد کیا تو کانگریس اور مسلم لیگ نے اس میں من پسند افراد کے شامل ہونے پر اس کا بائیکاٹ کیا اور جی ایم سید نے کانفرنس بلا کر سندھ میں سیاہ جھنڈوں سے اس کا بائیکاٹ کیا۔ 1928ء میں ممبئی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی جدوجہد شروع ہوئی تو اس میں جی ایم سید نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1935ء کے ایکٹ کے تحت جب سندھ کی خود مختاری زیربحث تھی تو سید کے ذہن میں نئے سندھ کا تصور ابھرا اور اس جدوجہد کو سید نے اپنی کتاب ’’نئے سندھ کے لیے جدوجہد‘‘ میں رقم کیا ہے۔

1930ء میں انھوں نے سندھ ہاری کانفرنس کی بنیاد ڈالی اور اسکے سیکریٹری منتخب ہوئے۔ 1936 میں سندھ اسمبلی کے الیکشن میں سندھ اتحاد پارٹی نے بھرپور حصہ لیا اور 60 میں سے 22 نشستیں حاصل کر کے سندھ اسمبلی میں اکثریتی پارٹی کی حیثیت حاصل کی۔

کیا یہودیوں کو یرغمال بنانے والا فیصل ذہنی مریض تھا؟

جی ایم سید بھی رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔ قائد اعظم نے جی ایم سید کو مسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی تھی جو انھوں نے کراچی میں عبداللہ ہارون کے گھر پر قبول کی۔ سندھ میں جہاں مسلم لیگ نے اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے جی ایم سید کا سہارا لیا وہاں اس کو روشناس کرنے میں جی ایم سید نے جو کردار ادا کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

جی ایم سید 19 نومبر 1939 کو پہلی دفعہ گرفتار ہوئے۔ 1941 میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی کونسل کے ممبر بنے۔ 1943 ء میں ان کو مسلم لیگ سندھ کا صدر منتخب کیا گیا۔ سندھ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سائیں جی ایم سید کی سربراہی میں 3 مارچ 1943 کو 1940 کی لاہور قرارداد کی روشنی میں سندھ اسمبلی سے برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے طور پر قرارداد پاس کرائی گئی۔

یہ سید کا بہت بڑا تاریخی کارنامہ ہے۔ یہ پہلی اسمبلی تھی متحدہ ہندوستان میں جہاں قیام پاکستان کی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کے نتیجے میں صرف 4 سال کے عرصے میں مسلمان اپنی علیحدہ ریاست بنانے میں کامیاب ہوئے۔ 1940ء میں لاہور میں قرارداد پاکستان کی بھی جی ایم سید نے بھرپور حمایت کی اور اس کے پاس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لیکن اختلاف رائے کے لیے مشہور یہ لیڈر 1946ء میں مسلم لیگ سے کنارہ کش ہو گیا، اور ایک نئی پارٹی ’’پروگریسیو مسلم لیگ‘‘ کی بنیاد ڈالی۔ پھر ’’سندھ عوامی محاذ‘‘ کے نام سے ایک جماعت بھی بنائی۔ سندھ عوامی محاذ نے 1953ء کے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا اور سندھ سے واضح نشستیں حاصل کیں اور سید سندھ اسمبلی کے اندر پارٹی کے پارلیمانی لیڈر بن گئے۔

جی ایم سید نے ون یونٹ بننے کے بعد مغربی پاکستان کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا اور رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ 16 دسمبر 1971 ء کو جب پاکستان کا ایک بازو جدا ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں سامنے آیا تو پاکستانی سیاست پر فوجی آمروں کے قبضے کی وجہ سے جی ایم سید دلبرداشتہ ہو گئے۔ انہوں نے 17 جنوری 1972 کو اپنی سالگرہ کے موقع پر جئے سندھ تحریک کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد سندھ کو پاکستان سے آزاد کروانا تھا۔ وہ اپنی وفات تک اسی تحریک سے وابستہ رہے۔

Back to top button