ابھی نواز شریف کی اسٹیبشلمنٹ سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے لندن میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم کا مستقبل قریب میں ملک واپسی کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی ابھی تک ان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی ڈیل طے پائی ہے۔

سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ نواز شریف کے معاملات ابھی طے نہیں پائے، اور وہ ابھی فوری پاکستان واپس بھی نہیں آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھ سے ملاقات میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو حکومت بنے گی کیا اسے آزادی کیساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے گی؟ انہوں نے کہا کہ لیگی قائد کی باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب انکی انڈرسٹینڈنگ ہو گی تب ہی وہ پاکستان واپس آئیں گے۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ نواز شریف جلد وطن واپسی کریں گے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا کیونکہ میری ان کیساتھ جو بات چیت ہوئی اس میں انہوں نے بتایا کہ کرونا کی وبا تھمنے کے بعد ابھی انہوں نے اپنا آپریشن بھی کروانا ہے۔

لانگ مارچ سے حکومت کو گرا کر دکھائیں گے

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر وہ کرونا وائرس کی وبا تھمنے کا انتظار کر رہے ہیں اور ابھی انہوں نے آپریشن بھی کروانا ہے تو ان کا آئندہ دو سے تین ماہ تک پاکستان واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

24 نیوز چینل کے پروگرام نسیم زہرہ @ 8 میں لندن سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ان سے ملاقات میں میاں نواز شریف نے اپنی نااہلی کے کیس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ تاہم بطور سیاست دان ان کے ذہن میں یہ بات ہو گی کہ وہ ابھی پاکستانی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی راستہ نکالا جائے۔ چنانچہ وہ ابھی اس راستے کی تلاش میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے جبکہ اس کے بعد عام انتخابات کا ذکر کرتے ہیں لیکن اس کے آگے ان کے ذہن میں سوالات ہیں کہ اگر نئے الیکشن کے بعد انکی جماعت برسراقتدار آ بھی گئی تو اسے کتنا اختیار حاصل ہو گا۔ یاد رہے کہ سہیل وڑائچ نے پچھلے ہفتے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ان کی لندن رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔

Back to top button