فوج میں چیف آف ڈیفنس کا عہدہ آرمی چیف کے پاس ہی رہے گا،وزیردفاع

وزیردفاع خواجہ آصف کاکہنا ہے کہ 27ترمیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ آرمی چیف کے پاس ہی رہے گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آئینی عدالت بااختیار ہوگی اور آئینی عدالت کے ججز عام نوعیت کے کیسز نہیں سن سکیں گے۔ ججز کے تبادلوں سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، یہ عدالت کا اپنا معاملہ ہوگا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تقریباً 55 ہزار کے قریب کیسز پینڈنگ ہیں، جن میں سے تقریباً 16 فیصد آئینی کیسز ہیں۔ یہ کیسز لٹکے رہتے ہیں اور ان کے حل نہ ہونے سے ملکی معاملات پر بھی اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی بینچ کے قیام سے عام کیسز علیحدہ ہوئے، ورک لوڈ کم ہوا اور فیصلے کم وقت میں ہونے لگے، حالانکہ ابھی بھی آئینی کیسز پر 50 فیصد وقت صرف ہوتا ہے جسے حل ہونا چاہیے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ چاہے فوج ہو یا سول بیوروکریسی، تعیناتیاں اور تبادلے منظم نظام کے تحت ہوتے ہیں، اسی طرح ججز کے معاملے میں بھی ایسا ہونا چاہیے۔ حکومت عدلیہ کو بیوروکریسی کی طرز پر ڈیل نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا اپنا نظام ہوگا اور تبادلوں کے لیے بیوروکریٹ، وزیراعظم یا کوئی سیکریٹری عدلیہ میں تبادلوں کا اختیار نہیں رکھے گا۔ تبادلوں کا عمل میرٹ اور قانون کے مطابق ہوگا، روزانہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کے تحت ہوگا۔

وزیردفاع نے کہا کہ افغان حکومت سے مذاکرات ختم ہوچکے ہیں مگر جنگ بندی جاری رہے گی؛ اگر خلاف ورزی ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 40 سے 45 سال افغان مہاجرین کی میزبانی کی، مگر بعض عناصر نے یہاں رہ کر بھی پاکستان دشمن سرگرمیاں جاری رکھیں۔

دریں اثنا وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر امتِ مسلمہ متحد ہو کر عالمِ اسلام کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے خلاف قدم نہ اٹھائے تو فیصلے سب کے لیے غزہ اور مقبوضہ کشمیر جیسی صورتِ حال بن جائیں گے۔

سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ آج علامہ اقبال کا یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے اور ان کا کلام ہمیشہ زندہ رہے گا، تاہم بدقسمتی سے ہم نے اقبال کے پیغام کو فراموش کر دیا ہے۔

وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ امتِ مسلمہ فی الوقت ایک قسم کی بھٹکاؤ کا شکار ہے، غزہ سے لے کر کشمیر تک مظالم جاری ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں ہمت اور طاقت دے تاکہ ہم مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی مدد کر سکیں، ان کے لیے آواز بلند کریں اور اُن کی حمایت میں عملی قدم اٹھائیں۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر ہر ریاست اپنی حفاظت میں مصروف رہ کر یکجا ہو کر ساتھ نہ کھڑی ہو تو بالآخر ہر کوئی مشکلات کا شکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام کے خلاف جنگ کو متحد ہو کر نہ لڑا گیا تو سب کی حالت غزہ اور کشمیر جیسی ہو سکتی ہے۔

Back to top button