عوام ٹیکس نہیں دیتے، حکومت یہ جھوٹ کیوں بولتی ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ ہمیں ہر طرف سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہمارے افسران اور حکمران نہ صرف ہر قسم کے حالات میں لوگوں کی جیبوں سے پیسہ نکلوانے اور خود اپنی چونچ گیلی کرنے کے فن میں ماہر ہو چکے ہیں بلکہ الٹا عوام کو بدنام بھی کرتے رہتے ہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔
رؤف کلاسرا نے اپنے سیاسی تجزیے میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک گھر میں گدھا اور بندر تھے، رات کو بندر کچن میں جا کر آٹا کھا جاتا اور واپسی پر کچھ آٹا لا کر گدھے کے منہ پر مل دیتا۔ اگلی صبح مالک گدھے کے منہ پر آٹا لگا دیکھ کر اس کی پٹائی کرتا۔ ان کے بقول عوام کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، سیاستدان، وزرا اور افسران اربوں روپے خرچ اور وصول کرنے کے بعد عوام کے منہ پر آٹا مل دیتے ہیں اور انہیں ٹیکس نہ دینے کا ذمہ دار قرار دیتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’عوام ٹیکس نہیں دیتے‘‘ کا بیانیہ اتنی مرتبہ دہرایا جاتا ہے کہ عام آدمی خود کو مجرم سمجھنے لگتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید ملک کے معاشی مسائل کی بنیادی وجہ وہی ہے۔ کلاسرا کے مطابق لوگ یہ بھی سوچنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ٹیکس دیتے تو حکومتوں کو بینکوں سے قرضے نہ لینے پڑتے، حالانکہ حکومت پر تقریباً 90 ہزار ارب روپے کے بینک قرضے کا بوجھ بتایا جاتا ہے اور رواں مالی سال ان قرضوں پر تقریباً 8 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگی متوقع ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق اس صورتحال میں سب سے زیادہ فائدہ بینکوں کو ہو رہا ہے، جو حکومت کو قلیل مدتی اور کمرشل قرضے فراہم کرکے بھاری منافع کما رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کے لیے حکومت کو قرض دینا زیادہ آسان اور پرکشش بن چکا ہے، جبکہ عام تاجر اور صنعتکار کو قرض فراہم کرکے ملکی معیشت، صنعت اور کاروبار میں سرمایہ کاری بڑھانے کے بجائے حکومتی قرضوں پر سود کمانا زیادہ سہل راستہ بن گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عوام ٹیکس نہیں دیتے تو پھر حکمرانوں کے جہاز، گاڑیاں، سرکاری افسران کی تنخواہیں، الاؤنسز، سرکاری اخراجات، پٹرول اور دیگر سہولتیں کس رقم سے چل رہی ہیں۔
روف کلاسرا نے کہا کہ ’’عوام ٹیکس نہیں دیتے‘‘ کے بیانیے کی حقیقت اس وقت مزید واضح ہوئی جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران موٹرویز پر عوام سے 179 ارب روپے ٹول ٹیکس وصول کیا گیا، یعنی اوسطاً تقریباً 30 ارب روپے سالانہ۔ ان کے مطابق اس کے باوجود این ایچ اے حکام کا مؤقف سامنے آیا کہ ٹول ٹیکس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 300 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ سینیٹر پلوشہ خان کے مطابق کمیٹی میں بتایا گیا کہ اضافہ تقریباً 400 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر ٹول ٹیکس میں اتنے بڑے اضافے کے باوجود سینیٹر پرویز رشید کے سوال پر چیئرمین این ایچ اے نے اعتراف کیا کہ موٹرویز پر سہولتوں کا معیار ماضی جیسا نہیں رہا۔
روف کلاسرا نے سوال اٹھایا کہ اگر چھ برس میں 179 ارب روپے وصول کیے گئے، ٹول ٹیکس میں کئی گنا اضافہ ہوا اور ایم ٹیگ کے ذریعے صارفین سے پیشگی رقم بھی وصول کی جا رہی ہے تو پھر موٹرویز کی سہولتوں اور سڑکوں کا معیار کیوں بہتر ہونے کے بجائے گر رہا ہے اور یہ رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ کلاسرا نے موٹرویز کی سڑکوں کی حالت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر سڑکیں ہموار نہیں رہیں اور گہرے گڑھوں یا اچانک اونچ نیچ کے باعث گاڑی چلانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد، میانوالی موٹروے اور داؤدخیل کے قریب ایک مقام کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا کہ گاڑی اچانک سڑک کی اونچ نیچ سے گزری اور اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ان کے مطابق ماضی میں این ایچ اے کے سربراہ خود موٹرویز پر سفر کرکے سڑکوں اور سہولتوں کا جائزہ لیتے تھے، جبکہ اب یہ سوال اہم ہے کہ متعلقہ حکام زمینی صورتحال سے کس حد تک براہ راست واقف ہیں۔
انہوں نے موٹرویز کے ریسٹ ایریاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقامات بھی اب پہلے کی طرح مسافروں کو سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے زیادہ تر کمرشل مراکز بن چکے ہیں اور مہنگائی نے مسافروں کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔ کلاسرا کے مطابق سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں موٹرویز کے اطراف تیزی سے پھیلتی ہاؤسنگ سوسائٹیز پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جہاں نئی نئی ایگزٹ بننے کے ساتھ قدرتی زمین، درختوں، ندی نالوں اور سبزے کو ختم کیے جانے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔
رؤف کلاسرا نے موٹرویز کے اطراف شجرکاری اور شہری منصوبہ بندی کے رجحانات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں موٹرویز کے اطراف بڑے پیمانے پر سفیدے کے درخت لگائے گئے جو زیرزمین پانی زیادہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ اب بعض شہروں میں ایسے اجنبی درخت بھی لگائے جا رہے ہیں جو مقامی ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے بقول اگر ایسے منصوبوں میں درخت بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کے اخراجات اور فیصلوں کی شفافیت کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عوام سے مسلسل رقم وصول کرنے کے باوجود سرکاری سہولتوں کا معیار بہتر کیوں نہیں ہو رہا اور جواب دہی کا نظام کہاں ہے۔
