صدارتی نظام کی بحث کے پیچھے کون سے کردار ہیں؟

سینئر صحافی فہد حسین نے کہا ہے کہ صدارتی نظام کی تازہ بحث کے پیچھے چاہے کوئی سازش ہو یا نہ ہو، یہ اتنی ہی غیر اہم ہے جتنی غیر اہم اس سے پہلے والی بحث تھی۔ تازہ بحث اس لئے غیر اہم ہے کہ یہ نہ تو ہماری گورننس کے اصل مسائل کی تشخیص کرتی ہے اور نہ ہی ہماری گورننس کو خراب کرنے والے کرداروں کی تشخیص کرتی ہے۔ انکے مطابق انتہائی مایوسی کی بات یہ ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی قوالوں اور ان کے ہمنواؤں سے ہم نے صرف یہی سبق سیکھا ہے کہ ہم نے آج دن تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فہد حسین کہتے ہیں کہ ایک بار پھر گھڑی کی سوئیوں کی طرح ایک مخصوص مدار میں گھومتے ہوئے صدارتی نظام لا کر پاکستان کی تقدیر بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن یہ سب کون کروا رہا ہے، یہ کسی کے لئے بھی راز نہیں۔ ذرا سوشل میڈیا پر لوگوں کی باتیں پڑھیں، صاف واضح ہو جائے گا کہ اس مہم کے پیچھے چھپے وہ عقلمند کون ہیں جو سمجھ رہے ہیں کہ وہ اسکی ذمہ داری لینے سے انکار کر سکتے ہیں۔

ہم پہلے بھی اس راہ پر چل کر دیکھ چکے ہیں بلکہ پچھلی سات دہائیوں کا بیشتر حصہ ہم اسی راہ پر چلے ہیں۔ ہم صدارتی نظام پہلے بھی دیکھ چکے ہیں اور اس کا نقصان بھی اٹھا چکے ہیں۔ لیکن آج پاکستان میں گورننس کا برا حال اس لئے نہیں ہے کہ ہم متعدد نظام ہائے سیاست کے تجربات کر چکے ہیں بلکہ اسکی وجوہات ماضی میں کیے جانے والے اسی طرح کے تجربات ہیں۔

فہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان کا اصل مسئلہ نظام نہیں بلکہ گورننس کی ناکامی ہے جس کا حل صدارتی نظام میں نہیں۔ گورننس کے مسئلے کے حل کی تجاویز دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تو ووٹنگ کا نظام ٹھیک کرنا یو گا۔ صدارتی نظام کے ذریعے ستاروں اور پارلیمانی نظام کے ذریعے چاند تک پہنچنے سے پہلے کیا یہ سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ ووٹ کی اہمیت کیا ہے؟ نیپولیئنوں، چرچلوں اور اتاترکوں کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے بے یار و مددگار پاکستانی عوام کی قسمتوں کا سودا کر کے اپنی کایائیں پلٹ ڈالیں لیکن کسی نے یہ سیاسی اور اخلاقی جرات نہیں دکھائی کہ جمہوریت کے سنگِ بنیاد یعنی ووٹنگ کا طریقہ کار درست کر لیتا۔ اس ناکامی کا ذمہ دار نظام نہیں، لیڈران ہیں اور وہ بھی تمام کے تمام۔

فہد حسین کہتے ہیں کہ دوسرا مسئلہ جو حل ہونا چاہیے وہ انتخابی نظام کی درستی ہے۔ انکے بقول ریاست میں واقعی کوئی بڑی خرابی ہے اگر سیاست میں حصہ لینا اتنا مشکل ہو چکا ہو کہ عام آدمی اسے اپنے لئے ویسے ہی ناممکن تصور کر بیٹھے۔ بھول جائیے صدارتی اور پارلیمانی کو، اور اس نظام کے خمیر میں گندھے اصل مسئلے کو پہچانیں جو ہر اس شخص کے لئے سسٹم میں حصہ لینا ناممکن بنا دیتا ہے جس کے پاس ضائع کرنے کے لئے بیش بہا پیسہ نہ ہو۔ یہ نظام عام آدمی کے لئے بند ہے۔ ایک ایسا نظام جو اپنے شہریوں کی اتنی بڑی اکثریت کے لئے بند ہو کیسے ایک نمائندہ نظام کہلا سکتا ہے؟ جب حقیقی ٹیلنٹ کے لئے راہیں اس حد تک مسدود ہوں گی تو برا مال ہی سامنے آئے گا۔

فہد حسین کی تیسری تجویز یہ ہے کہ پولیس کو ٹھیک کیا جائے۔ ایک لوٹ مار کرنے والی ریاست کی نشانی ایک لوٹ مار کرنے والی پولیس ہوتی ہے۔ دہائیوں سے پولیس فورس جمہوریت کے نام پر ہر قسم کی کرپشن کے لئے ایک آلہ کار رہی ہے۔ یہ صدارتی نظام میں بھی اتنی ہی سفاک، نااہل اور کرپٹ رہی ہے جتنی پارلیمانی نظام میں۔

عمران خان ان درجنوں سیاستدانوں کی فہرست میں تازہ ترین ہیں جنہوں نے پولیس کی اصلاحات کے نام پر سیاست کی اور اقتدار میں آنے کے بعد اس وعدے کو بڑی آسانی سے بھلا دیا۔ پولیس عوام کے ساتھ ریاست کا سب سے زیادہ واضح، پر اثر اور براہِ راست رابطہ ہے۔ اس ادارے کو ٹھیک کرنا سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

فہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان میں الٹا یہ ہو رہا ہے ہے کہ صدارتی نظام کے گن گانے والے اور ان کے ہمنوا ہوں یا پارلیمانی نظام کے قوال اور ان کے ہمنوا، سب نے پولیس کو بے دردی سے اپنے جمہوری credentials کو چمکانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ آج اگر پولیس پاکستان میں کسی قسم کی گورننس اصلاحات نہ ہونے کا استعارہ ہے تو اس ناکامی کا ذمہ دار نظام نہیں، لیڈران ہیں۔

کپتان کا کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ ٹھس

تمام کے تمام۔ انکی تیسری تجویز یہ ہے کہ پاکستان کے نظامِ انصاف کو درست کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کسی ایک شہری کا نام بتا دیجیے جو سمجھتا ہو کہ یہ نظام کرپٹ اور تباہ حال نہیں ہے۔ کسی ایک شہری کا نام بتا دیں جو کہتا ہو کہ وہ اس نظام سے فوری اور سستا انصاف حاصل کر سکتا ہے، اور کسی ایک شہری کا نام بتا دیں جو سمجھتا ہو کہ گذشتہ کئی پارلیمانی اور صدارتی نظاموں کے ادوار میں اس نظام میں کوئی بہتری آئی ہے، ایک کا بھی نام بتا دیں۔ ہمارے تمام نیپولین، چرچل اور اتاترک جمہوریت کے اس بنیادی اور اہم ترین رکن کو ٹھیک کیے بغیر ہی اپنی اپنی باریاں لے کر چلے گئے، خواہ وہ صدارتی نظام کا نام استعمال کر رہے تھے یا پارلیمانی۔

کسی کے پاس بے پناہ طاقت تھی، کسی کے پاس کچھ کم ہوگی لیکن سب میں ایک چیز مشترک تھی کہ وہ اس چیز کو ٹھیک کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے جسے ٹھیک کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ آج شہری خوار ہوتے ہیں کیونکہ یہ تمام صدارتی و پارلیمانی قوال اور ان کے ہمنوا اپنی اس بنیادی جمہوری ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے۔لہذا اس ناکامی کا ذمہ دار نظام نہیں، لیڈران ہیں۔

پاکستان میں گورنر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے فہد حسین کی چوتھی تجویز یہ ہے کہ قانون کی عملداری قائم کینجائے۔ میرٹ جائے بھاڑ میں۔ حقوق جائیں بھاڑ میں۔ طاقت مل گئی، تو اسکا غلط استعمال ہوگا۔ کچھ کہانیاں کبھی نہیں بدلتیں حالانکہ کتنا مشکل ہے ایک لیڈر کے لئے آئین پر عملدرآمد کروانا اگر وہ واقعی یہ خواہش رکھتا ہو؟ لیکن جب صدارتی نظام والے آئین کو غیر جمہوری انداز میں اور پارلیمانی نظم والے جمہوری انداز میں پامال کرتے ہیں تو فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کون سی شقیں پامال ہوئیں۔ نظام کے ساتھ تمام تجربے آئین کی قیمت پر ہی کیے گئے۔ آئین میں ترمیم کا ایک قانونی طریقہ موجود ہے۔ غیر قانونی طریقہ بھی ہے جسے بار بار استعمال کیا گیا ہے۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

اگر آج ہمارے صدارتی اور پارلیمانی قوال اور ان کے ہمنوا یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نظام جمہوری اجماع کے نتیجے میں بنتے ہیں اور ان کا ظہور جمہوری اداروں کی شکل میں ہوتا ہے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہم آج بھی اپنی دم منہ میں لینے کی کوشش میں گول گول گھوم رہے ہیں۔ لہذا اس ناکامی کا ذمہ دار نظام نہیں، لیڈران ہیں۔ اور وہ بھی تمام کے تمام۔

فہد کہتے ہیں کہ صدارتی نظام کی تازہ بحث، چاہے اس کے پیچھے کوئی سازش ہے یا نہیں، اتنی ہی غیر اہم ہے جتنی غیر اہم اس سے پچھلے والی یا پھر اس سے پہلے والی تھی۔ یہ اس لئے غیر اہم ہے کہ یہ ہماری گورننس کے اصل مسائل کی تشخیص نہیں کرتی، اور اس سے بھی زیادہ ضروری بات یہ کہ یہ ہماری گورننس کو خراب کرنے والے کرداروں کی بھی درست تشخیص نہیں کرتی۔ انتہائی مایوسی کی بات ہے کہ اپنے صدارتی اور پارلیمانی قوالوں اور ان کے ہمنواؤں سے ہم نے صرف یہی سبق سیکھا ہے کہ ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

Back to top button