خاندانی منصوبہ بندی کی ’بے شرمی‘

 

 

 

 

تحریر: یاسر پیر زادہ

بشکریہ : روزنامہ جنگ

 

جتنے بچے پاکستان میں ہر سال پیدا ہوتے ہیں اتنے پورے یورپ میں پیدا نہیں ہوتے۔ اِن بچوں کی تعداد ستّر لاکھ ہے۔ جبکہ پاکستان کی معیشت براعظم یورپ کی معیشت کا بمشکل ڈیڑھ فیصد ہے۔ گویا جو خطہ ہم سے ہر لحاظ سے ساٹھ گنا زیادہ دولت مند ہے وہ اتنے بچے پیدا نہیں کرتا جتنے ہم کرتے ہیں۔ ہے کوئی اِس کی تُک؟ پوچھو تو کہتے ہیں کہ اُمّت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اللّٰہ جانے ہم نے مذہب کی کون سی تشریح ایجاد کی ہوئی ہے جو پوری مسلم دنیا میں کہیں اور رائج نہیں۔ بقول شخصے، مسلمان تو پوری دنیا میں ہیں مگر پاکستانی تو باؤلے ہی ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیش تو ہمارا ہی حصہ تھا، وہاں بھی مسلمان ہیں، اُن کی مساجد سے مولویوں نے خاندانی منصوبہ بندی کی تبلیغ کی، کیا وہ خلاف اسلام تھی؟ کیا مذہب کا سارا علم ہم نے گھوٹ کے پیا ہوا ہے اور باقی پوری اسلامی دنیا کو دین کی سمجھ نہیں ہے؟ کیا بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک کے علما نے قرآن و حدیث نہیں پڑھی؟ ہمارا بھی کوئی قابل ذکر عالم دین یہ نہیں کہتا کہ اندھا دھند بچے پیدا کرو لیکن نہ جانے کیوں ’نیانے جمنا‘ ہم نے اسلامی فرض سمجھ لیا ہے۔ نماز پڑھیں نہ پڑھیں، سچ بولیں نہ بولیں، پورا تولیں نہ تولیں، بچے ضرور پیدا کریں گے۔

بنگلہ دیش کا ماڈل کیا ہے؟ ہم سے علیحدگی کے وقت مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کے مقابلے میں 80 لاکھ زیادہ تھی جبکہ رقبہ تقریباً پانچ گنا کم۔ اب وہی بنگلہ دیش ہے جسکی آبادی 17 کروڑ ہے اور ہم 25 کروڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ پہلا بڑا قدم جو بنگلہ دیش نے اٹھایا، وہ مسجد کے منبر کا درست استعمال تھا۔ وہ جانتے تھے کہ مسلم معاشرے میں جب تک مذہبی طبقے کو اعتماد میں نہ لیا جائے، کوئی سماجی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت نے ہزاروں علمائے کرام اور اَئمہ مساجد کے ساتھ ورکشاپس کیں، انہیں قرآنی آیات اور احادیث کے ذریعے یہ سمجھایا کہ اسلام میں ’نسل کے معیار‘ (Quality) پر زور دیا گیا ہے محض ’تعداد‘ (Quantity) پر نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جمعے کے خطبات میں مولوی صاحبان نے لوگوں کو بتایا کہ اپنی بساط سے زیادہ بچے پیدا کرنا اور پھر انہیں بھوکا ننگا چھوڑ دینا اسلام کی رُو سے پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ دوسرا حربہ خواتین کو بااختیار بنانا تھا۔ بنگلہ دیش نے اپنی کروڑوں خواتین کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر گارمنٹس فیکٹریوں میں کھڑا کر دیا۔ جب ایک عام بنگالی عورت صبح اٹھ کر فیکٹری جاتی ہے، مہینے کے آخر میں اپنی تنخواہ وصول کرتی ہے اور گھر کے مالی معاملات میں حصہ دار بنتی ہے، تو اسے پتا ہوتا ہے کہ آٹھ بچے پیدا کر کے وہ نہ تو فیکٹری میں کام کر سکتی ہے اور نہ ہی ان بچوں کو اچھی زندگی دے سکتی ہے۔ تیسری اہم بات، بنگلہ دیش نے لاکھوں کی تعداد میں خواتین ہیلتھ ورکرز بھرتی کیں جنہیں فیملی ویلفیئر اسسٹنٹس کہا جاتا ہے۔ یہ خواتین بنگلہ دیش کے دور دراز دیہاتوں، جزیروں اور کچی بستیوں میں پیدل چل کر جاتیں، ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتیں اور عورتوں کو حمل میں وقفے کے طریقے بتاتیں اور ادویات اُن کی دہلیز پر فراہم کرتیں۔ انہوں نے مانع حمل ادویات کو شرم کی چیز نہیں، بلکہ صحت کی بنیادی ضرورت بنا دیا۔ یہ موازنہ اُس ملک سے ہے جو ہمارا ہی حصہ تھا اور ہم سے زیادہ پسماندہ تھا، اگر بنگالی کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں!

سارا وقت ہم حکومت کو کوستے ہیں کہ وہ عام شہری کو وہ سہولتیں نہیں دیتی جس کا وعدہ ریاست نے آئین میں کر رکھا ہے۔ وعدہ ضرور کر رکھا ہے مگر کیا حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ نو ماہ بعد نیا ماڈل مارکیٹ میں لے آؤ! ڈنمارک کی کل آبادی 60 لاکھ بھی نہیں، اور ہم ہر سال ایک نیا ڈنمارک پیدا کرلیتے ہیں لیکن امید حکومت سے لگاتے ہیں کہ وہ سہولتیں ڈنمارک جیسی مہیا کرے۔ وہ بچہ جو پیرس، برلن یا لندن میں پیدا ہوتا ہے، اس کی صحت، تعلیم اور وظیفے کی ذمہ داری ریاست اٹھا لیتی ہے جبکہ دوسری طرف ہمارا وہ بچہ ہے جو ساہیوال، نوشکی یا جمرود کے کسی سرکاری اسپتال میں پیدا ہوتا ہے، پیدا ہوتے ہی مقروض ہو جاتا ہے۔

آج کل لوگوں کو مسائل سے زیادہ حل میں دلچسپی ہے سو اُنکی تشفی طبع کیلئےحل بھی پیش ہے۔ سب سے پہلے تو ’بنگلہ دیشی ماڈل‘ پر من و عن عمل کریں۔ ہمیں اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر ڈھاکہ سے یہ نسخہ کیمیا مستعار لینا پڑئیگا۔ دوسرا قدم بھی اسی سے جُڑاہے۔ پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی مساجد کے خطیبوں اور اَئمہ کرام کیلئے باقاعدہ سرکاری وظیفہ مقرر کیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اِس وظیفے کے عوض اِن سے کوئی بھی کام بھی لے، بالکل ویسے ہی جیسے بنگلہ دیش نے اپنےاَئمہ کرام سے لیا تھا۔ جب ریاست ان خطیبوں کو وظیفہ دے رہی ہے تو اب ان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہونی چاہیے کہ وہ جمعے کے خطبات میں عوام کو سمجھائیں کہ اپنے بچوں کو کسمپرسی کی حالت میں سڑکوں پر رُلنے کیلئے چھوڑ دینا کوئی کارِ ثواب نہیں ہے۔ منبر و محراب سے جب یہ آواز اٹھے گی کہ اسلام میں اولاد کی تعداد سے زیادہ اسکی بہترین تربیت اور معیارِ زندگی اہم ہے، تو آبادی کے سیلاب کو روکنا آسان ہو جائیگا۔ تیسرا کام ہے لاوارث اور غریب والدین کے بچوں کو گود لینا۔ ایک طرف وہ بے اولاد جوڑے ہیں جو اولاد جیسی نعمت کیلئے لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں مگر اِنکی مراد پوری نہیں ہو رہی اور دوسری طرف وہ غریب والدین ہیں جن کے پاس اپنے بچوں کو کھلانے کیلئے روٹی تک نہیں یا وہ لاوارث بچے ہیں جن کا اس دنیا میں کوئی نہیں۔ ایسے بے اولاد افراد اگر ان بچوں کو گود لیں تو نہ صرف یہ بچے معاشرے کا اثاثہ بن جائینگے بلکہ دنیا میں ہی جنت مل جائیگی۔ پاکستان میں اس وقت باضابطہ طور پر گود لینے کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ یہ قانون بنا کر اگر اسمبلی سے منظور کروا لیا جائے تو لاکھوں بچوں کو والدین مل جائینگے۔ اور آخری بات، ہمارے ہاں فیملی پلاننگ کا اشتہار رات بارہ بجے ٹی وی پر اس طرح شرماتے شرماتے چلایا جاتا تھا جیسے دعوت گناہ دی جا رہی ہو۔حضور، خاندانی منصوبہ بندی کے اشتہارات چلائیں، اس میں کوئی بے شرمی نہیں، بے شرمی وہ غربت ہے جو سڑکوں پر رینگتی اور سسکتی دکھائی دیتی ہے۔

 

Back to top button