عمران خان کے سائفر ڈرامے کی حقیقت بے نقاب ہو گئی

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سائفر ڈرامے، رجیم چینج آپریشن اور امریکی مداخلت کے الزامات کی حقیقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی۔ امریکی سی آئی اے کے سابق کاؤنٹر ٹیررسٹیشن چیف اسلام آباد جان کریاکو کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنا اقتدار بچانے کیلئے امریکہ سے مداخلت کیلئے ترلے کئے لیکن امریکہ نے اس حوالے سے کسی قسم کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا جس کے بعد عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا سارا ملبہ اسی امریکہ کے کندھوں پر ڈال دیا جس سے چند روز قبل وہ اپنی سیاسی بقاء کیلئے مدد مانگ رہے تھے۔

خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کی برطرفی کا امریکہ پر عائد کردہ الزام، ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے متنازع بیانیہ بن چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق عمران خان نے اپنے اقتدار کے خاتمے کو "غیر ملکی سازش” قرار دے کر عوامی ہمدردی حاصل کرنے اور اپنی سیاسی ناکامیوں کا ملبہ بیرونی قوتوں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کی۔ تاہم، حالیہ دنوں سابق سی آئی اے افسر جان کریاکو کے انکشافات نے اس عمرانی بیانیے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، سابق سی آئی اے آفیسر کے انکشافات سے پتا چلتا ہے کہ عمران خان کا امریکہ مخالف مؤقف کسی نظریاتی بیانیے یا قومی خودمختاری کا اظہار نہیں تھا، بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا جس کا واحد مقصد اپنی ناکامیوں کو "غیر ملکی سازش” کے غلاف میں لپیٹ کر سیاسی شہادت کا بیانیہ تراشنا تھا۔ تاہم سی آئی اے آفیست کے انٹرویو سے سارے عمرانی بیانیے کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

سی آئی اے کے سابق کاؤنٹر ٹیرر اسٹیشن چیف کے مطابق عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم ہم سے کہا تھا کہ اگر آپ نے میری حکومت کو بچانے کیلئے میری مدد نہ کی تو اندرون ملک سیاسی صورت حال کی وجہ سے میں ہر چیز کی ذمہ داری آپ پر ڈالنے والا ہوں۔ عمران خان کی اس بات پر امریکی سفیر ہنس پڑے اور کہاکہ ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ویسے بھی ہر بات کا الزام ہم پر ہی آتا ہے۔ سابق سی آئی اے آفیسر کے مطابق اس گفتگو کے بعد عمران خان نے ایک عوامی جلسے میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لہرا کر اپنی حکومت کے خاتمے کا تمام تر الزام امریکہ پر عائد کر دیا۔ سابق سی آئی اے چیف کے مطابق صرف اقتدار میں ہی نہیں عمران خان نے گرفتاری کے بعد بھی امریکی حکومت کو پیغام بھیجا کہ آپ میری کیا مدد کر سکتے ہیں کہ میں اس صورت حال سے نکل آؤں۔ اس پر ہم نے ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ سے رابطہ کیاکہ وہ پاکستان جا کر حکام سے کہیں کہ انہیں رہا کریں مگر انہوں نے انکار کردیا۔ ناقدین کے مطابق عمران خان نے اقتدار کے بعد دوغلے پن کی انتہا کر دی ایک طرف وہ عوامی جلسوں میں دعوے کرتے دکھائی دیتے تھے کہ ان کی حکومت کو امریکی دباؤ اور واشنگٹن کے اشاروں پر گرایا گیا جبکہ دوسری جانب وہ اسی امریکہ سے اپنی سیاسی بقاء اور دوبارہ اقتدار کی بھیک مانگتے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، سابق سی آئی اے چیف کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ عمران خان کا ’’امریکہ مخالف بیانیہ‘‘ دراصل ایک سیاسی حربہ تھا، جسے انہوں نے عوامی ہمدردی اور سیاسی مظلومیت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے وقت خود کو ’’قومی خودمختاری‘‘ کا نمائندہ اور مخالفین کو ’’غیر ملکی ایجنڈے‘‘ کا حصہ ظاہر کرنے کی شعوری کوشش کی۔ تاکہ اپنی حکومتی ناکامیوں کو چھپاتے ہوئے سیاسی شہید بنا جا سکے کیونکہ “عمران خان جانتے تھے کہ پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات گہرے ہیں۔ انہوں نے اسی جذباتی فضا کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنی سیاسی حمایت کو برقرار رکھا جا سکے۔”

کیا سہیل آفریدی کا اسلام آباد پر یلغار کی کا منصوبہ کامیاب ہوگا 

سفارتی ماہرین کے بقول عمران خان نے امریکہ مخالف بیانیے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ اپنی ناکامیوں،معاشی بدحالی، اتحادیوں سے بغاوت، اور سیاسی تنہائی کو ’’بیرونی سازش‘‘ کے پردے میں چھپایا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا عمران خان کا یہ بیانیہ ایک وقتی نعرہ ہم کوئی غلام ہیں تو بن گیا، مگر اس نے ریاستی اداروں اور سفارتی تعلقات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ تاہم سابق سی آئی اے چیف جان کریاکو کے انکشافات کے بعد عمران خان کا امریکی سازش والا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہر سیاسی ناکامی کا الزام کسی نہ کسی ’بیرونی ہاتھ‘ پر ڈال کر عوام کو وقتی طور پر جوش دلاتے ہیں، مگر حقیقت ہمیشہ سامنے آ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے انھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن عمران خان ایسی حرکتوں پر شرمندہ ہونے کی بجائے مستقبل میں پہلے سے بڑا جھوٹ لے کر میدان میں آ جاتے ہیں۔

ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان نے اقتدار میں رہتے ہوئے امریکی حکام سے بارہا سفارتی روابط استوار رکھنے کی کوشش کی۔ اس لئے ان کے حوالے سے یہ سمجھنا کہ وہ امریکہ کے مخالف تھے، محض سیاسی ڈرامہ تھا۔ تاہم عمران خان کے ’’سائفر بیانیے‘‘ نے وقتی طور پر اُنہیں عوامی مقبولیت ضرور دی، مگر طویل المدتی طور پر اس بیانیے نے اُن کی رہی سہی سیاسی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ اب سابق سی آئی اے افسر کے انٹرویو سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کا امریکہ مخالف بیانیہ محض سیاسی مفاد پرستی اور عوامی جذبات سے کھیلنے کی کوشش تھی تاہم عمران خان کی اپنے اقتدار کے خاتمے کے صدمے کو نظریاتی جنگ میں بدلنے کی اس کاوش کا خمیازہ نہ صرف ان کی جماعت بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بھی بھگتنا پڑا۔

 

Back to top button