ناقابلِ فہم جنگ: اسلامی دفاعی الحاق

 

 

 

 

تحریر : حفیظ اللہ نیازی

بشکریہ : روزنامہ جنگ

 

 

کیا امریکہ ایران جنگ ’اختتام ‘کا آغاز ہوا چاہتا ہے؟ اگرچہ دونوں فریق کم وبیش 14 پوائنٹس پر متفق مگر شقوں کی وضاحت اپنی اپنی سہولت کےمطابق جاری و ساری ہے ۔ حیف ! ایسی حرکات و سکنات پر جس میں صدر ٹرمپ کو ہر لفظ کی وضاحت میں درجنوں جھوٹ بولنا پڑے ۔

ایران کو کریڈٹ کہ صدر ٹرمپ کی بڑھکوں دھمکیوں کی بوچھاڑ میں لرزہ براندام کیا ہوتا ، نہ پلک جھپکی ، نہ ہی کوئی لغزش ، سفارتی مذاکرات اور ذہانت فطانت کی دھاک بٹھادی ۔ 8 اپریل کی جنگ بندی کے چند دن بعدجو چارٹر آف ڈیمانڈ لیک ہوا ، کم وبیش انہی 14 پوائنٹس پردستخط کیے گئے۔ آج جب دونوں اطراف ، صدر ٹرمپ اور صدر مسعود پزشکیان ،وزیراعظم پاکستان بطور ثالث آن لائن دستخط کئے تو من و عن 14 پوائنٹس جسکی بازگشت ایرانی میڈیا سے بار بار سنائی دی۔ صدر ٹرمپ کی الیکشن مہم 2024کا بیانیہ ( MAGA) یعنی کہ ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا تھا‘‘ ، اپنے طور اعترافی بیان کہ امریکہ اپنی عظمت کھونے کو، آج عظمت مزید داغدار ہو چکی ہے ۔ آج کا معاہدہ امریکہ کی ایران کے ہاتھوں عبرتناک شکست کی دستاویز ہی تو ہے۔ امریکی میڈیا شد و مد سے امریکہ کا ٹوٹل سرنڈر بتا رہا ہے۔

27 فروری 2026کو ایران کے وہم و گمان میں نہ ہوگا کہ 36روزہ جنگ کے اختتام پر اسکی قسمت کےسَوتے پھوٹ پڑیں گے۔ امریکہ کی یوں درگت بنے گی ۔ اگرچہ جمعہ سے پہلے 12 ارب ڈالر نقد ایران منتقل ہونے ہیں ۔ مغربی میڈیا پکار پکارکر اعلان فرما رہا ہے کہ قطر 22 ارب ڈالر اور امارات کے 4ارب ڈالر منتقل ہو چکے ہیں ۔دیگر خلیجی ممالک دامے درمے اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہیں ۔ ایران کے پاس امریکہ پر اعتماد نہ کرنے کی گنجائش موجود کہ ایران صدر ٹرمپ سے تین بار ڈسا جا چکا ہے ۔ 27فروری کو عمانی وزیرخارجہ نے ڈیل فائنل ہونے کامژدہ سنایا ہی تھا کہ اگلے دن امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر قیامت ڈھا دی۔ پہلے ہی ہلے میں شدید بمباری سے ایران کے روحانی رہنما سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت 40 قائدین کو تاک تاک کر شہید کر ڈالا۔

9 ماہ پہلے دوحہ قطر میں ایران اور امریکہ کی یورینیم افزودگی کو محدود کرنے کا معاہدہ بھی طے ہو چکا تھا کہ 12 جون 2025 کو ایران پر تابڑ توڑ حملے کر دیئے ۔ 2015میں امریکی صدر اوباما نے دنیا کے 5 بڑے ممالک کیساتھ مل کر ( 5+1 ) ڈیڑھ سال کی محنت شاقہ سے ایران کےساتھ ایک معاہدہ ( JCPOA ) کیا ۔ معاہدہ کے تحت ایران نے یورینیم افزودگی 3.67% پر لانی تھی ، جبکہ ان دنوں ایران صرف 15% تک یورینیم افزودگی کر رہا تھا ۔ صدر ٹرمپ نے 8مئی 2018 میں بیک جنبش قلم معاہدہ پر خطِ تنسیخ پھیر دیا ۔ ایران ’’مومن‘‘ کی ہر شرط پوری کرنے کے باوجود صدر ٹرمپ سے تین دفعہ ڈسا جا چکا ہے ۔ ممکن ہی نہیں کہ ایران صدقِ دل سے امریکہ پر اعتبار کرے ۔ ایران بخوبی جانتا ہے کہ آج کے دن امریکہ کے پاس معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ، مگر جب بھی موقع ملا تو وہ معاہدے کی دھجیاں اُڑا دے گا ۔امریکہ کے پاس جنگ کی گنجائش ہوتی تو ایران کی تباہی پہلی ترجیح رہتی۔

صدر ٹرمپ نفسیاتی ہیجان کا شکار ہیں۔ 28فروری کے بعد ایران کو تباہ و برباد کرنے کے بارے جھوٹ بولے ، انکا کہنا ہے کہ ایران کی ملٹری صلاحیتیں صرف 20% تک رہ گئی ہیں ۔ جبکہ عباس عراقچی نے CNN کو بتایا کہ 18 اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے اور اب تک ایران اپنی جنگی صلاحیتیں 28 فروری کے مقابلے میں دُگنی کرچکا ہے ۔ ایران کی تمام اہم تنصیبات اور پروڈکشن لائنز زیرِ زمین ہیں، دفاعی پیداواری صلاحیتوں کی بنیاد مضبوط ہے ۔ بقول ایرانی قیادت ہم 1 سال تک اس جنگ کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

دوسری طرف مئی 2025 ءمیں چین ایران 10400کلومیٹر ریل لنک کا آغاز ہو چکا ہے ، جس نے جنگی ساز و سامان کی ترسیل کو آسان بنا دیا ہے ۔ دسمبر 2025میں امریکہ نے جب اپنی نیشنل سیکورٹی اسٹرٹیجی بنائی تو ایران کو ’’نمبر 1 دشمن‘‘اور خطے کی سب سے بڑی انتشار پھیلانے والی قوت کہا ، پالیسی میں چین روس کا کہیں ذکر موجود نہیں تھا ۔ چنانچہ 28فروری کا حملہ ایک سوچی سمجھی اسکیم تھا ۔ جنگ کے آغاز ہی سے چین نے ایران کی قومی خودمختاری اور جغرافیائی سلامتی کی حفاظت کی بات کی ۔ بیان کہ ایران بلف نہیں کر رہاتھا ، وہ جنگ کیلئے تیار تھا جبکہ صدر ٹرمپ کی گزر اوقات شروع دن سے جھوٹ اور بلف کے سہارے تھی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آج کا میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ مشرقِ وسطیٰ کیا پوری عالمی سیاست کو یکسر تبدیل کر چکاہے ۔ دنیا متفق کہ معاہدہ امریکہ کیلئے عبرتناک پسپائی ہے ۔ شدید فوجی اقتصادی دباؤ اورتباہی ،بربادی اورتکلیف کے باوجود ایران نہ صرف قائم دائم ہے ، سفارتی اور سیاسی برتری حاصل کر چکا ہے ۔ پابندیوں کے خاتمےاور دولت کی ریل پیل نے ایران کو عالمی طاقت کا درجہ دینا ہے ۔ صدر ٹرمپ جنگ میں داخل ہوئے تھے کہ رجیم کی تبدیلی ، یورینیم افزودگی کو درہم برہم کرکے ایران کے جنگی نظام کو تباہ ، میزائل صلاحیت اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنا اور ایران کو غیرموثر ریاست بنانا تھا۔ آج ایران کی بنیادی اسٹرٹیجک صلاحیتیں محفوظ بلکہ مضبوط ،اب معاہدے کے ذریعے ایسی معاشی اور سیاسی پوزیشن میں آ گیا کہ خطے کا اگلا نظام ایران اور گلف ممالک نے ملکر چلانا ہے۔

آج نہ تو میزائل ، نہ تو یورینیم افزودگی ختم کرنا اور نہ رجیم تبدیلی کا معاہدہ میں ذکر ہے ۔ گفتگو کا محور توانائی اور تیل کی سیاست تک محدود ہے کہ آبنائے ہرمز کیسے کھلوائی جائے ۔ امریکی تیل کے اسٹرٹیجک ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ تمام عالمی تیل ذخائر محدود دباؤ میں ہیں اور اسٹرٹیجک ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں چار ماہ درکار ہوں گے ۔ آنیوالے مہینوں میں ایران کی توانائی کے موثر بہاؤ پر انحصار بڑھنا ہے ۔ ایران ہر ہفتہ 2 ارب ڈالر کا تیل ترسیل کرے گا ۔ عالمی منڈیوں میں شدید دباؤ سے اضطراب بنا ۔ ایران کی سودے بازی کی قوت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

امریکہ کا مفاد یہی کہ دوسرے ممالک بھی ایران میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں تاکہ عالمی معیشت پر دباؤ کم ہو سکے ۔ انکےمطابق اس سے خلیجی ممالک اور دیگر ریاستوں کیلئے ایران میں سرمایہ کاری، ایرانی تیل کی فروخت اور ایران کی معاشی بحالی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

معاشی طور پر مضبوط ایران خطے میں اپنے سیاسی تعلقات اور اثر و رسوخ کو مزید وسعت دے گا، علاقائی نظام میں خلیجی ریاستیں اور ایران سے مسابقت کی بجائے مفاہمت اور ہم آہنگی اختیار کریں گی کہ چین کے نیو ورلڈ آرڈر کی بنیاد SHARED اکانومی ہے جو سب کیلئےWIN ,WIN صورتحال رہنی ہے۔

شکریہ ایران !دنیا امریکی بالادستی سے نکل کر کثیر قطبی عالمی نظام اختیار کر چکی ہے۔ اصل امتحان ایران کا ہوگا کہ آیا معاشی مواقع، علاقائی اثر و رسوخ اور اسٹرٹیجک برتری کو دیرپا سیاسی اور معاشی طاقت میں کیسے تبدیل کرتا ہے ۔ دوحرفی خلاصہ،بہت جلد خطہ ایران ،پاکستان،سعودی عرب ، ترکی ، مصر کا دفاعی الحاق دیکھے گا ، جو روس اور چین کی نگرانی میں اسٹرٹیجک الائنس ہوگا، نئے دفاعی الحاق میں پاکستان کی موجودگی ، ’’ نام ہی کافی‘‘ ہے۔

 

Back to top button