PTIکو فوج سے لڑانے والے اب مجھےبدنام کرنا چاہتے ہیں
چیئرمین تحریک انصاف و سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو فوج سے لڑانے والے اب مجھے بدنام کر نا چاہتے ہیں ، ہمیں ایسا پیش کیا جائے گا کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں، یہ منصوبہ بندی سے کرایا جارہا ہے۔
میڈیا سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا اس خوفناک سازش میں منصوبہ بنا ہوا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج سے لڑا دیا جائے، ہمیں ایسا پیش کیا جائے گا کہ ہم ایک دوسرے کے مخالف ہیں، یہ منصوبہ بندی سے کرایا جارہا ہے، ہماری حکومت جب چل رہی تھی تو سب سے پہلے بھارت سے تنقید آتی تھی کہ عمران خان کو پاکستانی فوج لے کر ائی ہے اور یہ ان کا پتلا ہے۔
انہوں نے کہا مسلسل ان کو تکلیف تھی کہ حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہے، آپ کا یاد ہو یہ نا ہو، ہمارے جنونی نواجونوں نے یورپین یونین کی ڈس انفارمیشن لیب کو بے نقاب کیا، اس میں تقریبا 800 فیک سائٹس تھیں، یہ ویب سائٹس مسلسل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی تھیں، جس میں پاکستان کے کئی صحافی بھی شامل تھے اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو آج اب موجودہ حکومت کے ساتھ نظر آتے تھے، یہ لوگ مجھ پر اور پاکستان فوج پر اٹیک کرتے تھے۔
عمران خان نے کہا جب ممبئی میں حملے ہوئے تھے تو آصف زرداری نے بیان دیا تھا کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو ممبئی بھیجا جائے، یہی آصف زرداری حسین حقانی کے ذریعے امریکیوں کو میسیج بھیجتا ہے کہ آصف زاردی کو پاکستان کی فوج سے بچوائیں، دوسری طرف نواز شریف نے ممبئی حملوں کے بعد انٹرویو میں بتایا کہ وہ لڑکا پاکستان سے تھا جس نے حملہ کیا، پہلے ہی پاکستان کے خلاف بہت بڑی مہم چلی ہوئی تھی جس میں آئی ایس آئی اور پاک فوج کو ٹارگٹ کیا جارہا تھا۔
انکا کہناتھا ڈان لیکس ہوئی تھی جس میں کہا گیا کہ نواز شریف اور اس حکومت کہتی ہے کہ بھارت کے خلاف جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں پاکستان کی آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج ملوث ہے، اور نریندر مودی بار بار پاکستان کے سابق سپہ سالار جنرل راحیل شریف کو دہشت گردوں کا سردار کہتے تھے، اور نواز شریف اسی نریندر مودی کو شادی پر بلارہا تھا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کھٹمنڈو میں کانفرنس میں بھارت کی صحافی برکھا دت اپنی کتاب میں لکھتی ہے کہ نواز شریف چھپ کر نریندر مودی سے ملاقات کر رہا تھا، اور کہہ رہا تھا کہ مجھے فوج سے بچائیں، یہ لوگ آج ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم غدار ہیں، ان لوگوں کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں، ان کی کرپشن کی داستانیں بیرون ملک کتابوں میں بھی لکھی گئی ہیں، بی بی سی کی ڈاکومینٹری میں بھی ان کی چوری کا ذکر ہے۔
عمران خان نے کہا آج یہ بتایا جارہا ہے کہ ہم لوگ فوج کے خلاف ہیں جبکہ یہ لوگ محب وطن پاکستانی بن گئے ہیں جو آ کر ہمیں غدار کہہ رہے ہیں، یہ سازش اتنی خطرناک ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اپنی فوج کے سامنے کھڑا کر دیں اور ان کے اندر اختلافات پیدا کر دیں، اس سے زیادہ ملک کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
سیٹھ عابد کی بیٹی کے قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا میں 18 برس سے بھی کم عمر میں مارچ 1970 میں مشرقی پاکستان میچ کھیلنے گیا، میرے اپنے فرسٹ کزن بریگیڈئیر شفیق کے ساتھ ٹہرا ہوا تھا، تب مجھے پتا چلا کہ بنگلا دیش کی سب سے بڑی جماعت اور فوج کے اندر کتنی نفرت پھیل چکی تھی، اس کے بعد ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا ملک ٹوٹا، سب سے بڑی جماعت اور فوج کے بیچ میں جو ہوا یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے افسوسناک واقعہ ہے کہ پاکستان ٹوٹ گیا، آج وہی کوشش کی جارہی ہے۔
انکا کہنا تھا پاکستان میں ایک جماعت ہے جو فیڈرل لیول کی پارٹی ہے اور تمام صوبوں میں موجود ہے جبکہ سب سے بڑا ووٹ بینک بھی اسی جماعت کا ہے، یہ ان کی طرف سے سازش کی جارہی ہے جو ہمارے حکومت گرانے میں ملوث تھے،25 مئی کو ہمارے خلاف جس طرح کا ظلم کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، رات کو 2، 2 بجے گھروں میں گھسے، اور ان سب کا ایک ہی سوچ تھی کہ ان کی جماعت کو کرش کر دو، ان کے ممی ڈیڈی ٹائپ لوگ ہیں، جب ان کو ڈرائیں گے یہ لوگ گھروں میں بیٹھ جائیں گے۔
انہوں نے کہاپنجاب کے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے ہمیں ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا لیکن پاکستان کی تاریخ میں اس طرح عوام کبھی عام انتخابات بھی نہیں نکلے جس طرح اس ضمنی انتخابات میں نکلے، اس طرح ان لوگوں کےسارے منصوبے ناکام ہو گئے، ساری جماعتوں نے مل کر الیکشن لڑا اور ان کا پنجاب سے صفایہ ہو گیا، اس کے بعد ان لوگوں کو اور خوف آ گیا۔
عمران خان نے کہا اب یہ لوگ کوشش کرر ہے ہیں کہ کسی طرح ہماری اور فوج کی لڑائی شروع ہو جائے، دوسری چیز ان لوگوں نے پورا پلان بنایا ہوا ہے کہ ہماری جماعت کو توڑا جائے، اس کے لیے الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیا، اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، یہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ جب بیرون ملک پاکستانی پیسہ بھیجتے ہیں تویہ فارن فنڈن ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی جماعت نے باقاعدہ فنڈ ریزنگ کی ہے، ایسی جماعتیں جن کے سربراہوں کو لوگ کرپٹ سمجھتے ہیں وہ کبھی فنڈ ریزنگ نہیں کرسکتے۔
انکا کہنا تھا ہماری جماعت نے 2012 میں 40 ہزار ڈونرز کے نام دیے ہوئے ہیں، ان میں سے کئی پاکستانیوں کو غیر ملکی بنا دیا، وہ پارٹی جس نے فنڈ ریزنگ کی اور جس کی ساری آڈٹ رپورٹس ہیں، جس کی ایک ایک چیز الیکشن کمیشن کو دی ہے اس پارٹی پر سارا نزلہ گر رہا ہے، میں کیوں چاہتا ہوں کہ تمام سیاسی جماعتوں کی فنڈ ریزنگ کا آڈٹ ایک ساتھ کریں، کیونکہ مجھے پتا ہے ہم نے کیسے پیسہ جمع کیا ہے، ہمارے پاس ان کی کتابیں تیار ہیں جبکہ ان دو جماعتوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ان کے پاس کوئی آڈٹ رپورٹ بھی نہیں ہے، الیکشن کمیشن عدالتی حکم کے باوجود تحریک انصاف کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے، اور اس میں ایسی جھوٹی چیزیں لکھی ہیں کہ جس دن اس پر عدالت میں صحیح معنوں میں تفتیش ہوگی میں چیلنج کرتا ہوں کہ یہ ثابت ہوگا کہ ایک جماعت نے اس ملک صحیح معنوں میں پیسے اکھٹے کیے ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا الیکشن کمیشن ہماری جماعت پر پابندی لگانے کی کوشش کررہی ہے، اور یہ وہی سازش کا حصہ ہے کیونکہ یہ انتخابات میں اب ہرا نہیں سکتے، انہوں نے عارف نقوی کا نام لے لیا، پاکستان کا رائزنگ اسٹار تھا، وہ تیزی سے اوپر جا رہا تھا، ہم نے کے الیکٹرک کی نجکاری نہیں کی، ان دونوں جماعتوں کی حکومت میں نجکاری کرکے اس کے الیکٹرک دی گئی تھی، اس پر 2018 میں الزامات عائد ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا میں کتابیں پڑھ کر تصدیق نہیں کرتا، یہ عمل نیچے سے شروع ہوتا ہے پہلے فنانس ڈیپارمنٹ کرتا ہے، اس کے بعد وہ آڈیٹر کے ساتھ بیٹھے ہیں، پھر وہ رپورٹ پارٹی کی منیجمنٹ کمیٹی کے پاس جاتی ہے، جب مینجمنٹ کمیٹی کلیئر کرتی ہے تو میرے پاس آتی ہے، میں اس کے بعد دستخط کرتا ہوں جبکہ میں اپنے اثاثے ڈکلیئر کرتا ہوں تو اس پر حلف نامہ دیتا ہوں کیونکہ اس کو میں دیکھتا ہوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ایک توشہ خان کا کیس ہے، جو اس ملک کے صدر اور وزیر اعظم بنے ہیں، اسی طرح آرمی چیف اور جو لوگ اس ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہیں سب کو تحفے ملتے ہیں، سب کو ملنے والے تحفوں کے حوالے سے تفتیش کریں کہ کیا انہوں نے جو بھی کام کیا ہے قانونی کے دائرے میں کیا ہے یا کوئی چیز غیر قانونی کی ہے۔
عمران خان کا کہناتھا مجھے پتا ہے کہ میں نے اس حوالے سے تمام چیزیں قانون کے دائرے میں رہ کر کی ہیں، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے تین گاڑیاں لی ہیں جو آپ نہیں لے سکتے، مجھے بھی ایک گاڑی ملی تھی لیکن توشہ خانہ سے گاڑی نہیں لے سکتے، اسی طرح نوازشریف نے توشہ خانہ سے ایک گاڑی لی ہے یہ غیر قانونی ہے، مجھے یہ لوگ ان دو چیزوں میں نااہل کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔
