کیا عمران خان نو بالز سے حکومت کو آؤٹ کر پائیں گے؟

کرکٹ کو عام طور پر شریف لوگوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے لیکن اس کھیل میں فاسٹ بالر وہ واحد کھلاڑی ہوتاہے جو اپنے مخالف بیٹسمین کو خوفزدہ کرنے اور اس کے جسم کو نشانہ بنانے کے لیے باؤنسرز اور نو بالز کے ذریعے فاؤل پلے کرتا ہے۔ بیٹسمین اس کی جتنی پٹائی کرتا ہے فاسٹ بالر غصّے میں اتنے ہی زیادہ نو بالز کرواتا ہے اور بعض اوقات ایمپائر سے اس کی توتکار بھی ہو جاتی ہے۔ کئی بار تو اسے کھیل سے آؤٹ بھی کر دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس کھلاڑی میں غصّہ اور جارحیت نہ ہو،وہ فاسٹ بالر نہیں بن سکتا اور جس میں تحمل اور بردباری نہ ہو وہ ایک اچھا بیٹسمین ثابت نہیں ہوسکتا۔ لیکن سیاست کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ یہاں قول و فعل کا تضاد زیادہ دیر تک نہیں چلتا اور جلد یا بدیر لوگ اس سیاست دان سے متنفّر ہو جاتے ہیں جسکی تضاد بیانی اور بے اصولی حد سے بڑھ جائے اور جس کا واحد مقصد ہر جائز اور ناجائز طریقے سے اقتدار حاصل کرنا ہو۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار خالد جاوید جان اپنی تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان ایسے فاسٹ بالر نما سیاست دان ہیں جن میں ایک زیرک سیاستدان کی نسبت، جارحیت پسند فاسٹ بالر کا غصّہ اور انتقام زیادہ ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ بڑھتا جار ہا ہے۔ اس کوشش میں قوم خوفناک حد تک تقسیم اور عدم برداشت کا شکار ہو گئی ہے۔ انتشار اور انارکی کی یہ کیفیت اور اداروں کے ساتھ مسلسل ٹکراؤ ہمیں ایک ایسی بند گلی میں لے جا رہا ہے جہاں سے واپسی آسان نہیں ہوگی۔ اس صورتِ حال کے اصل ذمہ دار تو وہ حلقے ہیں جو نئے نئے بُت تراشتے اور انہیں توڑتے رہتے ہیں۔ نہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ بندے میں اہلیت بھی ہے یا نہیں یا اس کا ماضی کیسا ہے۔
خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ عمران نے 2014 سے لیکر تا حال صرف ایک بات ثابت کی ہے کہ بطورِ اپوزیشن لیڈر اور حکمران، انہوں نے ہمیشہ جھوٹ اور بہتان تراشی کی سیاست کی ہے۔ وہ نہ تو خود حکمرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ کسی کو حکومت کرنے کا موقع دینے کا ظرف رکھتے ہیں۔ تضاد بیانی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کو بد ترین معاشی، سیاسی اور سماجی بحران کا شکار کرنے والے عمران اپنے دور حکومت کو پاکستانی تاریخ کا بہترین دور قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں یہ خطرہ بھی تھا کہ ایک دن خان صاحب یہ دعوی ٰکر دیں گے کہ 2018 کے انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کا RTS سسٹم انہیں جتوانے کے لیے نہیں بلکہ دو تہائی اکثریت سے محروم کرنے کے لیے بٹھایا گیا تھا۔ اب یہ بات انہوں نے حامد میر کے ساتھ ایک ملاقات میں کہہ بھی دی ہے۔
عمرانڈوز اور گمرانڈوز غریدہ فاروقی کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟
خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ عمران دور میں اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ کوئی قابلِ ذکر اپوزیشن لیڈر ایسا نہیں تھا جسے موصوف کی انا کی تسکین کے لیے جیل کی ہوا نہ کھانا پڑی ہو۔ لیکن ابھی تو صرف ان کے چیف آف سٹاف شہباز گِل کو فوج میں بغاوت پھیلانے کے خوفناک جرم پر گرفتار کیا گیا تو خان صاحب اور انکی پارٹی نے تشدد کا واویلا مچانا شروع کردیا۔ اسکے بعد خان صاحب نے خود عدالتوں کو دباؤ میں لانے کی خاطر نام لیکر ایک خاتون جج کو کھلے عام دھمکیاں دے ڈالیں، جس کے بعد انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ عمران خان دراصل ایک ایسے فاشٹ کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں جو اپنے مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہے۔ موصوف نے گالم گلوچ اور دھمکیوں کا جو کلچر پاکستانی سیاست میں متعارف کروایا ہے اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتظامیہ، عدلیہ، الیکشن کمشنز اور دوسرے اداروں کی غیر جانبداری برداشت نہیں کر سکتے۔
خالد جاوید جان کے بقول کڑوا سچ تو یہ ہے کہ کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائرز متعارف کروانے کا کریڈٹ لینے والے عمران خان کو زندگی کے کسی اور شعبے میں غیر جانبداری یا نیوٹرل ازم گوارہ نہیں۔ وہ خود کہتے ہیں کہ نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں اور انسان کو تو ہمیشہ جانبدار ہونا چاہیے، یعنی فوج کو میرے ساتھ ہونا چاہیے کیونکہ صرف میں حق پر ہوں۔ اسی گھمنڈ میں ان کی کبھی کسی سے زیادہ دیر تک نہیں بن پائی۔ زندگی کے سفر میں جو کوئی ان کے زیادہ قریب ہوا، وہ اُن سے ہمیشہ کے لیے دور ہو گیا۔ وہ چاہے ان کی بیوی ہو، پرانے دوست ہوں، سیاسی کارکن ہوں، قریبی رشتے دار ہوں یا وہ لوگ جو انہیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر نہ صرف اقتدار میں لائے بلکہ ان کے لیے سارے زمانے میں بدنام ہوتے رہے۔ صرف یہی نہیں، عمران کے سیاسی پھوہڑ پن کی وجہ سے پاکستان اپنے قریبی دوست ممالک سے بھی دور ہوگیا۔ دروغ گوئی کا یہ عالم ہے کہ خان صاحب حکومت میں ہونے والی ہر خرابی کی ذمہ داری اب اداروں پر ڈال کر خود کو معصوم اور مظلوم ثابت کر رہے ہیں جنکی وہ تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ میں ایک با اختیار وزیرِ اعظم ہوں اور ہر قول و فعل کا ذمہ دار ہوں۔ اب وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے پاس تو بطور وزیر اعظم کوئی اختیار تھا ہی نہیں۔
خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر آپ کیوں حکومت سے چمٹے رہے اور اب کیوں حکومت لینے کے لیے ہر غیر قانونی اور غیر آئینی راستہ اختیار کر رہے ہیں اور خو د کو ہر قانون سے بالا تر بھی سمجھتے ہیں۔ کیا یہی ہے عمران خان کی وہ ریاست ِ مدینہ جو وہ بنانا چاہتے تھے؟
