کیا ظواہری کی موت بارے صدر بائیڈن کا دعویٰ جھوٹا تھا؟

افغان طالبان نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کو 31 جولائی کو کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارنے کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دعوے کی تصدیق اس لیے نہیں ہو پائی کہ ظواہری کی لاش ابھی تک نہیں مل پائی۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ انہیں کوشش کے باوجود ایمن الظواہری کی لاش نہیں ملی جبکہ امریکا نے گزشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ القاعدہ سربراہ کو ڈرون حملے میں ماردیا گیا ہے۔ امریکی صدر بائیڈن کے دعوے کے مطابق القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کابل میں اپنے خفیہ گھر کی بالکونی میں کھڑے تھے کہ امریکی ڈورن میزائل نے انہیں نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس سے ایک دہائی پہلے ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز نے القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کو بھی ایک کمانڈو آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا۔ اسامہ بن لادن کی موت کی تصدیق تب کے امریکی صدر بارک اوباما نے کی تھی۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کی لاش کو سمندر برد کر دیا گیا ہے۔
اب افغان طالبان یہ دعوی ٰکر رہے ہیں کہ ایمن الظواہری کو کو کابل میں ہلاک کرنے کا دعوی ٰغلط تھا چونکہ ان کی لاش نہیں مل پائی۔ یاد رہے کہ امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے کابل میں ایمن الظواہری کی ہلاکت کے دعوے کے بعد افغان طالبان پر سوالات اٹھائے جانے لگے تھے کہ آیا انہوں نے امریکہ کیساتھ ہونے والے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے القاعدہ سربراہ کو پناہ دے رکھی تھی۔ یاد رہے کہ افغان طالبان نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا پر امریکا کو 2020 کے معاہدے کے تحت یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ کسی بھی مسلح گروپس کو پناہ نہیں دیں گے۔
تاہم کچھ امریکی حکام کا خیال ہے کہ افغان طالبان جان بوجھ کر ڈاکٹر ایمن الظواہری کی کابل میں ہلاکت کے دعوے کی تصدیق نہیں کر رہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان پر معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے گی۔ اس سے پہلے افغان میڈیا میں ایسی رپورٹس شائع ہوئی تھیں کہ الظواہری کو افغان وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کے زیر انتظام ایک سیف ہاؤس میں رکھا گیا تھا اور امریکی ڈرون حملے میں ان کی ہلاکت کے فوری بعد انہیں ایک خفیہ مقام پر دفن کردیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ ایمن الظواہری کا تعلق مصر سے تھا جو پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر تھے اور مبینہ طور پر امریکا میں 11 ستمبر 2001 میں ہونے والے حملوں میں ملوث تھے جس کے بعد وہ دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے۔
31 جولائی کو کابل میں ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے اعلان کیا تھا کہ ’اب انصاف کی تکمیل ہو چکی، کیونکہ القاعدہ کے دہشت گردوں کا سربراہ اب نہیں رہا‘۔ا سکے بعد ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ ظواہری کی تلاش دہشتگردی کے خلاف مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نے رواں سال اس
عمرانڈوز اور گمرانڈوز غریدہ فاروقی کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟
بات کی نشاندہی کی تھی کہ ایمن الظواہری کی اہلیہ، بیٹی اور دیگر بچوں نے کابل میں کسی محفوظ مقام پر پناہ لی ہے اور بعدازاں یہ بھی نشاندہی کی تھی کہ ایمن الظواہری بھی وہاں موجود ہیں۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ جب ایمن الظواہری وہاں پہنچے تو ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ آیا کہ وہ محفوظ گھر سے واپس جائیں گے مگر کافی مرتبہ اپنے گھر کی بالکونی میں ان کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں آخرکار وہ مارے گئے۔
دوری جانب امریکی سیکریٹری اسٹیٹ اینٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ افغان طالبان نے ایمن الظواہری کو پناہ دے کر طے پائے گئے معاہدے کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی ہے۔ یاد رہے کہ دی ریوارڈ فار جسٹس کے مطابق 12 اکتوبر 2000 کو یمن میں یو ایس ایس کول بحری جہاز پر حملہ کیا گیا تھا جس میں 17 امریکی فوجی ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جس میں القاعدہ کے دیگر اراکین کے ساتھ ساتھ ایمن الظواہری بھی ملوث تھے۔ الظواہری پر کینیا اور تنزانیہ کے سفارت خانوں پر بم حملہ کرنے کے جرم میں امریکا میں 7 اگست 1998 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی، ان حملوں میں 224 لوگ جاں بحق اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ امریکا میں 11 ستمبر کے حملے کے بعد جب امریکی فوج نے 2001 میں افغان طالبان کی حکومت پر قبضہ کیا تو القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری وہاں سے بچ نکلے تھے۔
