عامر لیاقت کی بیوہ کیخلاف FIR کیوں درج نہ ہو پائی؟

ٹی وی اینکر اور سابق ایم این اے عامر لیاقت حسین کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کے خلاف اپنے شوہر کی نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کو خارج کر دیا گیا ہے۔ درخواست ایک سماجی تنظیم کی جانب سے دی گئی تھی۔ تنظیم کے سربراہ شبیر شفقت نے ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 22 اے کے تحت درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ دانیہ شاہ کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت وفاقی تحقیقات ایجنسی کو کارروائی کرنے کی ہدایت دی جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلم حسین خواجہ نے درخواست پر سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا، دوران سماعت جج نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ مرحوم عامر لیاقت کی زندگی میں ان کی اہلیہ دانیہ شاہ نے ایسی تصاویر یا ویڈیوز وائرل کیں جو اخلاقی طور پر قابل اعتراض تھیں۔ لیکن جج نے ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ عامر لیاقت کی بیٹی پہلے ہی ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کو دانیہ شاہ کے خلاف ایک درخواست دے چکی ہیں جس پر چار رکنی ٹیم انکوائری کر رہی ہے لہٰذا ایک ہی معاملے پر دو درخواستیں قابل سماعت نہیں۔

یاد رہے کہ اپنی درخواست میں شہری شبیر شفقت نے موقف اختیار کیا تھا کہ دانیہ شاہ نے اپنے خاوند کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کی جس نے میاں بیوی کے مقدس رشتے پر دراڈ ڈال دی، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ دانیہ شاہ کا ایسا عمل سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پہلے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے خاتون کے خلاف کارروائی کے لیے رجوع کیا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دوسری جانب ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل اعجاز علی کلوڑ نے بھی عدالت میں کہا کہ عامر لیاقت کی بیٹی پہلے ہی اس معاملے پر ایجنسی کو درخواست دے چکی ہیں اور اس پر انکوائری بھی جاری ہے لہٰذا یہ درخواست قابل سماعت نہیں اس لیے خارج کی جائے۔

عامرلیاقت نے بنی گالہ کے قصے سنانے کی دھمکی کیوں دی؟

خیال رہے کہ عامر لیاقت اور دانیہ شاہ نے فروری 2022 میں شادی کی تھی جو زیادہ وقت نہ چل سکی کیونکہ دانیہ شاہ نے مئی 2022 میں عدالت میں خلع لینے کے لیے درخواست دائر کر دی تھی۔

اسکے بعد ٹی وی اینکر کی برہنہ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جن کے جواب میں انہوں نے دانیہ شاہ کی نازیبا گفتگو کی آڈیوذ بھی سوشل میڈیا پر ڈال دی تھیں۔ اسکے بعد عامر لیاقت نے خود کو گھر تک محدود کر لیا تھا۔ پھر اچانک 9 جون کو عامر لیاقت کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے تھے لیکن ہسپتال پہنچنے پر انہیں مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔

Back to top button