نواز شریف اور سہیل وڑائچ میں سے سچ کون بول رہا ہے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف نے بالآخر اپنے بھائی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ حکومتی امور پر اختلافات کے تائثر کو رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہباز کے بارے میں ان سے منسوب منفی تبصرے گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں لیکن نواز لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر حکومتی امور پر اختلافات بدستور برقرار ہے اور نواز شریف کے حالیہ بیان کا مقصد صرف گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنا ہے تاکہ چھوٹے بھائی کو فیس سیونگ دی جا سکے۔
یاد رہے کہ پچھلے کچھ ہفتوں سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا تھا کہ نواز لیگ کے سربراہ شہباز حکومت کی جانب سے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر سخت نالاں ہیں کیونکہ اس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس دوران ایسی اطلاعات بھی آئی تھیں کہ نواز شریف نے ویڈیو لنک پر ایک پارٹی اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کی تجویز پر اظہار افسوس کرتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا تھا۔
تاہم وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا تھا، اس کے بعد مریم نواز کی جانب سے ایک ٹویٹ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے پٹرول کی قیمت بڑھانے کے فیصلے کو عوام دشمن قرار دے کر مسترد کر دیا تھا، ان واقعات کے بعد میڈیا میں یہ تاثر عام تھا کہ مسلم لیگ ن کے مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ چکے ہیں۔
لیکن 25 اگست کی رات نواز شریف نے لندن سے ٹوئٹر پر ایک بیان میں واضح کیا کہ ’شہباز شریف کے بارے میں مجھ سے منسوب کیے گے منفی کمنٹس گمران کن اور بے بنیاد ہیں، مجھے اُمید ہے کہ انتہائی مشکل حالات میں شہباز شریف کی مخلصانہ اور انتھک کوششیں رنگ لائیں گی اور وہ عمران خان کے پیدا کردہ بحران سے ملک کو نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
نواز شریف کو یہ وضاحت دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے 25 اگست کی رات ہی شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں میاں صاحب سے اپنی حالیہ ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف نہ تو شہباز شریف کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور نہ ہی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پرفارمنس سے۔
سہیل وڑائچ نے بتایا کہ نواز شریف حکومت کی معاشی پالیسوں سے بالکل بھی مطمئن نہیں اور مفتاح اسماعیل کی کارکردگی تو انہیں بالکل بھی نہیں بھا رہی، سینئر صحافی نے بتایا کہ نواز شریف نے انہیں ملاقات کے دوران بار بار کہا کہ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ حکومت نہ لیں اور الیکشن کی طرف جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے مجھے کئی بار یہ بھی کہا کہ آپ خود شہباز صاحب سے مل کر انہیں سمجھائیں کہ حکومت کے معاملات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں، سہیل وڑائچ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف نے ذہن بنا لیا ہے کہ اگر کوئی معاشی پالیسی چل سکتی ہے تو وہ اسحاق ڈار ہی دے پائیں گے، وہ مفتاح اسماعیل پر اعتماد نہیں کر رہے اور سمجھتے ہیں کہ وزیرخزانہ کو معیشت کا اتنا علم نہیں۔
تاہم نواز شریف نے شاہ زیب خانزادہ کا پروگرام آن ائیر ہونے کے فوری بعد ایک ٹویٹ کے ذریعے سہیل وڑائچ کی گفتگو سے دوری اختیار کر لی اور کہا کہ ان سے منسوب باتیں بے بنیاد ہیں، دوسری جانب سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو بھی گفتگو کی اس کے راوی نواز شریف ہی ہیں، ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ وہ اس گفتگو کو آف دی ریکارڈ رکھنا چاہتے ہوں، یاد رہے کہ سہیل وڑائچ کا شمار ان صحافیوں میں کیا جاتا ہے جو سنسنی پھیلانے پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی کبھی کسی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، سہیل وڑائچ کے امریکہ میں مقیم ایک قریبی دوست اور سینئر صحافی آفاق خیالی کے بقول سہیل وڑائچ تو سچ میں ملا ہوا زہر بھی نکال دیتے ہیں، لہٰذا ایسا کیا ہوا کہ نواز شریف نے ان سے جو کچھ کہا اس کی تردید کر دی۔
پاک فوج کا تین روز کا راشن سیلاب متاثرین میں تقسیم
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل وڑائچ نے نواز شریف سے منسوب شہباز شریف بارے جو گفتگو کی وہ یقیناً ہوئی ہوگی کیونکہ بڑے میاں صاحب کے قریبی حلقے ان کے اس موقف سے اچھی طرح آگاہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل کو نواز شریف کی مرضی کے برعکس وفاقی وزیر خزانہ بنایا گیا حالانکہ وہ یہ ذمہ داری اسحاق ڈار کو سونپنا چاہتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ملکی معیشت کو سنبھالنے کا فریضہ ان سے بہتر طریقے سے اور کوئی شخص انجام نہیں دے سکتا تھا تاہم اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کی طرح اسحاق ڈار کو بھی کلئیرینس دینے سے انکار کر دیا اور اسی وجہ سے وہ بار بار وطن واپسی کے اعلانات کے باوجود پاکستان نہیں پہنچ پائے۔
اب سوال یہ ہے کہ نواز شریف نے اگر سہیل وڑائچ سے شہباز بارے باتیں کی تھیں تو پھر ان کی تردید کیوں کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سہیل وڑائچ کی طرح نواز شریف بھی کسی حساس معاملے پر اتنی کھلی گفتگو آن ریکارڈ کرنے کے عادی نہیں ہیں، خصوصا جب بات ان کے چھوٹے بھائی کے حوالے سے کی جا رہی ہو چناچہ انہوں نے مناسب یہی سمجھا کہ اب جبکہ ان کی گفتگو رپورٹ کی جا چکی ہے تو اس کی تردید بھی کر دی جائے تا کہ دونوں بھائیوں کو فیس سیونگ مل سکے۔
