امریکا نے 100 ایرانی شہریوں کو ملک بدر کر دیا

واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک حالیہ معاہدے کے بعد امریکا نے تقریباً 100 ایرانی شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔ ان افراد کی مکمل شناخت یا امریکا آنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں، تاہم متعدد افراد نے کئی ماہ حراستی مراکز میں گزارنے کے بعد رضاکارانہ طور پر وطن واپسی پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ کچھ افراد نے ایسا نہیں کیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ان ایرانیوں کی ملک بدری کی تصدیق دو ایرانی حکام اور ایک امریکی عہدیدار نے کی ہے، جو اس منصوبے سے براہ راست واقف ہیں اور مذاکرات کا حصہ تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک امریکی چارٹرڈ فلائٹ پیر کے روز ریاست لوزیانا سے روانہ ہوئی، جو منگل کو قطر کے راستے ایران پہنچی۔
وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ ان شہریوں کی واپسی کے انتظامات کر رہی تھی اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وطن واپسی پر انہیں کسی خطرے یا مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امیگریشن قوانین کو سخت کرنے اور لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کی پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ 23 مارچ 2025 کو جاری کردہ ایک حکم نامے میں، امریکی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاکھوں تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کر رہی ہے، جنہیں ملک چھوڑنے کے لیے چند ہفتے دیے جائیں گے۔
یہ ملک بدریاں ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پر سخت موقف کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا جیسے ممالک کے شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر افراد جو بائیڈن کے دور میں متعارف کردہ اسکیم کے تحت امریکا آئے تھے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل فروری 2025 میں بھی امریکا نے ایران، پاناما اور دیگر 119 ممالک کے شہریوں کو واپس بھیجا تھا، جو دو طرفہ معاہدے کا حصہ تھے۔
