پی ٹی آئی کے جلسے سیاسی جنازے کیوں بنتے جا رہے ہیں؟

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی کالز پر تحریک انصاف کی جانب سے منعقدہ ناکام جلسے پارٹی کے سیاسی جنازوں کی صورت اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔ پشاور میں اتوار 28 ستمبر کو ایک ارب روپے کی لاگت سے منعقد کروایا جانے والا ایک اور ناکام ترین جلسہ پچھلے دو برسوں میں تحریک انصاف کا چودھواں سیاسی جنازہ تھا۔
عمران خان کی گرفتاری سے لے کر اب تک تحریک انصاف دو درجن سے زائد جلسے، لانگ مارچ یا ریلیاں نکال چکی ہے۔ لیکن یہ تمام پاور شوز بدترین ناکامی سے دو چار ہوئے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پارٹی اب عوام میں مقبولیت کے علاوہ اپنی سٹریٹ پاور کھوتی جا رہی ہے۔
عمران خان کی کال پر تحریک انصاف کے ناکام جلسوں اور ریلیوں کا آغاز 9 مئی 2024 کو ہوا تھا۔ جبکہ 28 ستمبر 2025 کو پشاور میں ہونے والا پی ٹی آئی کا یہ چودھواں جلسہ تھا۔ اپنے ہی گھر خیبر پختونخواہ میں ہونے والے اس جلسے کی بدترین ناکامی نے پی ٹی آئی کی مقبولیت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے کیونکہ خیبر پختون خوا میں پچھلے بارہ برس سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اسے پارٹی کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ تاہم اتوار کے عوامی جلسے میں کارکنوں کی انتہائی کم تعداد کو لے کر سوشل میڈ یا پر اب تک بحث کا سلسلہ جاری ہے۔
دلچسپ امر ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہلے دعوی کیا گیا تھا کہ جلسے میں 25 لاکھ کارکنان شریک ہوں گے۔ بعد میں شرکا کی تعداد پانچ لاکھ کر دی گئی۔ لیکن اسکے برعکس جلسے میں صرف 5 ہزار کے قریب لوگ موجود تھے۔ ان میں سے بھی بیشتر تعفن اور گندگی کے باعث جلسہ ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جلسہ گاہ میں مجموعی طور پر پانچ ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں، جو زیادہ تر خالی رہیں، جبکہ حاضرین کی تعداد تین سے چار ہزار بتائی گئی۔ تاہم جلسہ کور کرنے والے صحافیوں کے بقول یہ تعداد 5 ہزار کے قریب تھی جو صوبے کی آبادی کے لحاظ سے شرمناک تھی۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخوا کی آبادی تقریباً چار کروڑ ہے۔صوبے میں اس وقت پی ٹی آئی دوتہائی اکثریت کے ساتھ حکمراں ہے۔ صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد ترانوے ہے۔ اس لحاظ سے اگر ہر ایک ایم پی اے 500 کارکن بھی لاتا تو یہ تعداد 46000 ہزار بنتی۔
بتایا گیا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخو اعلی امین گنڈا پور نے جلسے میں کارکنوں کی بھرپور تعداد لانے کے لئے صوبے میں پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے علاوہ ضلعی سطح پر پارٹی کے تنظیمی عہدیداران میں سات کروڑ روپے تقسیم کئے تھے تا کہ وہ گاڑیوں کا بندوبست کر کے کارکنوں جلسہ گاہ پہنچائیں۔ تاہم یہ پیسے بھی کام نہ آسکے۔ خود وزیر اعلیٰ گنڈا پور کے ترجمان فراز مغل نے اعتراف کیا کہ وزیر اعلیٰ کارکنوں کو لانے کے لئے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو پیسے دیتے ہیں۔ جبکہ کرک سے پارٹی کے نوجوان رہنما فاران خٹک نے ناصرف سٹیج پر کھڑے ہوکر پشاور جلسہ ناکام ہونے کا اعتراف کیا، بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ ہر ڈسٹرکٹ کو فی کس تیس لاکھ روپے دیئے گئے تھے۔ لیکن یہ پیسے کارکنوں کو جلسہ گاہ تک لانے کی بجائے جیبوں میں ڈال لئے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق جلسے کے انتظام پر مجموعی طور پر ایک ارب روپے کے قریب خرچ کئے گئے۔ حالیہ جلسے کی ناکامی کے بنیادی اسباب میں کارکنوں کی عدم دلچسپی اور قیادت کے مابین اختلافات سرفہرست ہیں۔ یہی وجوہات اس سے پہلے کے جلسوں اور ریلیوں کی ناکامی کا سبب بھی رہیں۔
اب پشاور کے ناکام جلسے کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالا جارہا ہے۔ جنیدا کبر گروپ کے حامی ناکام جلسے کا ذمہ دار علی امین گنڈا پور کو ٹھہرا رہے ہیں۔ جب کہ گنڈا پور کے حامیوں کا موقف ہے کہ اس کے ذمہ دار پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر ہیں۔ ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ گنڈا پور اور علی محمد خان سے کارکنوں نے جو بد تمیزی کی وہ بھی جنید اکبر کے اشارے پر کی گئی۔ واضح رہے کہ تقریر کے دوران علی امین گنڈاپور اور علی محمد خان پر بوتلیں اور جوتیاں پھینکی گئیں اور سخت نعرے بازی کی گئی ۔ اس صورتحال سے پریشان گنڈا پور بمشکل پانچ منٹ کا انتہائی مختصر خطاب کر کے چلتے بنے ۔ لوگ اسٹیج پر چڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ انہیں روکنے کے لئے تھپڑ مارے گئے ۔ حسب عادت کچھ کارکنان خواتین کے پنڈال میں گھس گئے جس پر افراتفری پھیل گئی۔
حکومت کے مہنگائی میں پسی عوام کو مہنگی بجلی کے جھٹکے
علیمہ خان بھی زور دار تقریر کرنے کا ارمان لے کر جلسہ گاہ پہنچی تھیں لیکن انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ حتی کہ انہیں سٹیج پر بھی نہیں چڑھنے دیا گیا۔ بدانتظامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جلسے کے دوران دونوں گروپوں کے حامیوں کے مابین تین بار جھگڑا ہوا، جس پر پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ یہ جلسہ صرف پشاور یا کے پی کے کا نہیں تھا بلکہ پورے ملک سے کارکنوں کو لانے کا ہدف دیا گیا تھا۔ تاہم تمام تر سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال اور کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہونے پر بھی ٹاسک پورا نہیں کیا جاسکا۔ اہم بات یہ ہے کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی قیادت اس جلسے سے لاتعلق رہی۔ جلسے سے پہلے پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ، صوبائی صدر جنید اکبر اور پشاور کے صدر عرفان سلیم شہر کی گلیوں اور بازاروں میں جلسے کے لئے کمپین چلاتے رہے۔ لیکن یہ حکمت عملی بھی کارکنوں کو متحرک نہ کرسکی۔
پنجاب یا اسلام آباد کے ناکام جلسوں اور ریلیوں پر پی ٹی آئی کی جانب سے یہ عذر تراشا جاتا تھا کہ پولیس نے ساری رات قیادت اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ جلسے والے روز سڑکیں بلاک کر دیں۔ لہذا کارکنان جلسے میں نہیں پہنچ سکے۔ اس کے برعکس پشاور میں پولیس اپنی تھی۔ حکومت اپنی تھی ۔ گھروں پر چھاپے پڑے نہ گرفتاریاں ہوئیں۔ اور نہ ہی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ لیکن پھر بھی لوگ باہر نہیں نکلے کہ وہ قیادت کی شعبدہ بازیوں سے اب تنگ آچکے ہیں۔
