مریم اورنگزیب کی مداخلت پر عظمی بخاری وزارت چھوڑنے کو تیار

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمٰی بخاری نے وزیر اعلیٰ مریم نواز سے کہا ہے کہ ان کی وزارت تبدیل کر دی جائے کیونکہ وہ اپنی وزارت اطلاعات میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی مسلسل بڑھتی ہوئی مداخلت سے تنگ آ چکی ہیں۔
سینیر اینکر پرسن منصور علی خان نے اپنے تازہ وی لاگ میں تحقیقاتی صحافی حسن نقوی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مریم اورنگزیب اور عظمی بخاری کے مابین چپقلش عروج پر پہنچ چکی ہے جس کے بعد عظمی نے وزیراعلی مریم نواز سے اپنی وزارت تبدیل کرنے کی درخواست کر دی یے۔ منصور علی خان نے بتایا کہ دی سکوپ کی ایک رپورٹ کے مطابق عظمی بخاری کی وزیراعلی سے اپنی وزارت تبدیل کرنے کی درخواست جلد قبول کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق عظمی بخاری کو شکایت ہے کہ حکومت پنجاب کے سرکاری اشتہارات کا اجرا مریم اورنگزیب کے ایک قریبی عزیز کی ملکیتی چینل 7 پرائیویٹ لمیٹیڈ نائن اشتہاری کمپنی کے ذریعے کیا جا رہا ہے جس میں گھپلوں کی اطلاعات ہیں۔ عظمی بخاری کے جانب سے یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ مریم نواز کے وزیراعلی بنتے ہی چینل 7 کو 15 کروڑ روپے کی ادائیگی ایک ڈیجیٹل اشتہاری مہم چلانے کی مد میں کی گئی۔ اس سے پہلے پنجاب میں ڈیجیٹل میڈیا کو اشتہارات جاری کرنے کی پالیسی نہیں تھی لیکن چینل 7 کو 15 کروڑ روپے جاری کرنے کے لیے راتوں رات یہ پالیسی لائی گئی۔ عظمی بخاری کی جانب سے میڈیا کے لوگوں کو آف دی ریکارڈ یہ بتایا جا رہا ہے کہ چینل 7 کا مرکزی دفتر دبئی میں ہے اور اسے مریم اورنگزیب کے خاندان کا ایک بہت قریبی فرد چلاتا ہے۔

منصور علی خان نے حسن نقوی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عظمی بخاری نے مریم نواز سے کہا ہے کہ اشتہارات کی مد میں کرپشن کا سکینڈل صرف میری نہیں بلکہ آپ کی ساکھ کو بھی داغدار کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دو سیکریٹری انفرمیشن اور دو ڈی جی پی آر پہلے ہی مریم اورنگزیب کے ایما پر تبدیل ہو چکے ہیں اور جلد ہی تیسرے سیکرٹری اور ڈی جی پی آر شہنشاہ فیصل عظیم کو بھی ہٹا دیا جائے گا۔

دی سکوپ کی رپورٹ کے مطابق موجودہ ترجمان پنجاب حکومت کوثر کاظمی کو پنجاب کابینہ میں معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ وہ مریم اورنگزیب کے تحت وزارت اطلاعات کے امور سنبھال سکیں۔
ذرائع کے مطابق عظمی بخاری اور مریم اورنگزیب کے درمیان تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مریم نے مبینہ طور پر وزارت کے امور میں مداخلت شروع کی۔ دونوں وزراء حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کی منظوری کے بعد ڈیجیٹل میڈیا میں آنے والے خطیر فنڈز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مریم اورنگزیب نے حکومت کے رمضان نگہبان پیکیج کی تشہیر کے کھاتے میں 150 ملین روپے چینل 7 پرائیویٹ لمیٹڈ کو منتقل کیے، یہ اشتہارات 15 مارچ سے 22 مارچ 2024 تک چلائے گئے، اور یہ سب کچھ مروجہ طریقہ کار اپنائے جب وزارت اطلاعات کے سینیئر افسران نے اس پر اعتراض کیا تو سیکریٹری اطلاعات دانیال گیلانی اور ڈی جی پی آر روبینہ افضل کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا، اس کے بعد دانیال گیلانی کی جگہ گریڈ 20 کے بیوروکریٹ احمد عزیز تارڑ کو مقرر کیا گیا تھا، جن کا تعلق فرح گوگی کرپشن سکینڈل سے تھا، تارڑ کو ڈی جی پی آر کی اضافی ذمہ داریاں بھی دی گئی تھیں۔ اس اقدام سے یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ مریم اورنگزیب طاقت کا وہ ڈھانچہ دوبارہ بنا رہی ہیں، جو فرح گوگی کے دور میں تھا، اور جس میں انکے وفادار بیوروکریٹس نے ان حکام کی جگہ لے لی تھی جو عدم تعاون کی وجہ سے ہٹائے جا چکے تھے۔ لیکن بعد میں تارڑ کو بھی ہٹا دیا گیا اور شہنشاہ فیصل عظیم کو ڈی جی پی آر اور سیکریٹری اطلاعات کا اضافی چارج دے دیا گیا۔ عظمی بخاری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انکی وزارت میں مریم اورنگزیب کی مداخلت بدستور جاری یے اور اب سیکرٹری انفارمیشن شہنشاہ فیصل کو بھی تبدیل کیے جانے کا امکان ہے لہذا انہوں نے وزیراعلی سے اپنی وزارت تبدیل کرنے کی ریکویسٹ کر دی ہے۔

جب یہ خبر بریک کرنے والے سینیئر صحافی حسن نقوی نے سینئر وزیر مریم اورنگزیب سے رابطہ کر کے پوچھا کہ آیا عظمٰی بخاری نے واقعی ان کی مداخلت کی وجہ سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ کس نے کہا ہے۔ میرا میڈیا کے معاملوت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کامیاب رہے کہ جب وہ یہ موقف دے رہی تھیں تب وہ لاہور میں تحریک انصاف کے جلسے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کرنے کی تیاری میں تھیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عظمی بخاری سے اس معاملے پر بات کریں گی تو انہوں نے جواب دیا، "میں اس سے کیوں پوچھوں؟ اس نے مجھ سے ایسا کچھ نہیں کہا جیسا کہ اپ بتا رہے ہیں۔”

دوسری طرف، جب حسن نقوی نے وزیر اطلاعات عظمٰی بخاری سے رابطہ کر کے استعفیٰنکی پیشکش بارے پوچھا تو انہوں نے صرف اتنا کہا، "نہیں، ایسا خچھ نہیں یے۔”

Back to top button