امریکہ ایران ڈیل میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟

تحریر: سلیم صافی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اس جنگ میں امریکہ کے صرف 13فوجی ہلاک ہوئے جبکہ دوسری طرف سپریم لیڈر اور قیادت کے اہم افراد سمیت ایران کے ہزاروں لوگ شہید ہوئے لیکن اس کے باوجود امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے ۔ اس کی ہار کی دلیل یہ ہے کہ وہ ایسا کوئی بھی مقصد حاصل نہ کرسکا جس کیلئے یہ جنگ شروع کی تھی۔ اس کا پہلا ہدف رجیم چینج تھا اور ایسا کچھ نہ ہوسکا بلکہ ایران میں زیادہ سخت گیر قیادت سامنے آگئی۔ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ اور افزودہ یورینیم کو حاصل کرنا چاہ رہا تھا اور یہ مقصد بھی حاصل نہ کر سکا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ جنگ امریکہ کے اندر اس قدر غیرمقبول ہوجائیگی لیکن اس نے خود ٹرمپ کی مقبولیت کو بھی داؤ پر لگا دیا ۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے پوری دنیا ، بالخصوص یورپ اور ایشیا کی معیشتوں پر غیرمعمولی دباؤ آیا اور جواب میں وہ امریکہ پر جنگ کے خاتمے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ امریکہ ایران کو مشکل میں ڈالنے کیلئے حملہ آور ہوا تھا لیکن الٹا اپنے خلیجی اتحادیوں کو مشکل میں ڈال دیا۔امریکہ اسرائیل کی خاطر اس جنگ میں کودا تھا لیکن اسرائیل اس قدر نفرت کی علامت بن گیا کہ پہلی مرتبہ اس کے خلاف امریکہ اور یورپ میں بھی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ یوں اب امریکہ اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے لیکن بدقسمتی سے نکل نہیں سکتا ۔ پہلی وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر کسی بھی مقصد کو حاصل کئے بغیر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ ختم کرتے ہیں تو ملک کے اندر ان کی مقبولیت مزید گرے گی اور ان سے سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے اربوں ڈالر کیوں جنگ میں اڑا دئیے ۔ ڈیموکریٹس اور جنگ مخالف امریکی تو پہلے سے ان کے ناقد تھے لیکن اس صورت میں ان کے ہمنوا صہیونی لابی کے لوگ بھی ان کے درپے ہوجائیں گے ۔ اس کا ایک نظارہ گزشتہ دنوں ہم دیکھ چکے ہیں جب فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے دورہ ایران کے بعد امریکی میڈیا نے یہ خبر دی کہ ایران اورامریکہ ایک فریم ورک پر متفق ہوچکے ۔ یہ خبر سن کر صہیونی لابی اور لینزے گراہم جیسے امریکیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔تیسری وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بارک اوبامہ کے دور میں ایران اور امریکہ کے مابین کئی دیگر ممالک کی شراکت سے ہونے والے معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم کیا تھا اور اس کے خلاف بار بار تقاریر کی ہیں۔ اب اگر وہ اس سے بہتر معاہدے کے بغیر جنگ سے نکلتے ہیں تو انہیں طعنہ ملے گا لیکن زمینی صورت حال یہ ہے کہ اب کی بار انہیں اس جیسا معاہدہ بھی مشکل سے ملے گا۔ ایک اور عامل اسرائیل ہے ۔ اسرائیل جنگ کا حامی ہے اور وہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کے حق میں نہیں۔ جب مرضی کا معاہدہ نہیں ملے گا تو اسرائیل کا امریکہ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ جنگ کو جاری رکھے ۔ چوتھی رکاوٹ آبنائے ہرمز ہے ۔
ایران اس کو جنگ سے پہلی والی پوزیشن پر لے جانے کیلئے تیار نہیں اور وہاں اپنا کنٹرول چاہتا ہے ۔ امریکہ اگر آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل کئے بغیر جنگ کا خاتمہ کرتا ہے تو اسے ایک اور طعنہ ملے گا کیونکہ خلیجی ممالک کو بالخصوص اور یورپ وغیرہ کو بالعموم آبنائے ہر مز پر ایران کا کنٹرول اور ٹیکس گوارا نہیں۔ گویا جنگ کے مطلوبہ نتائج ملے اور نہ مرضی کی ڈیل مل رہی ہے لیکن ڈیل نہ ہونے کے باوجود دوبارہ جنگ بھی شروع نہیں کرسکتا کیونکہ ضروری نہیں کہ دوسری جنگ سے بھی مطلوبہ نتائج ملیں۔اسی مخمصے سے ان دنوں ڈونلڈٹرمپ دوچار ہیں۔
اب آتے ہیں ایران کی طرف۔ ایران کا مخمصہ یہ ہے کہ وہاں کی سیاسی قیادت جو دنیا اور امریکہ کے ساتھ ڈیل کررہی ہے اسکے راستے میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ پاسداران انقلاب اور مذہبی قیادت کی وجہ سےمذاکرات کے دوران وہ رعایت بھی نہیں دے سکتی جو وہ دینا چاہتی بھی ہے۔ ایران کی جیت یہ ہے کہ اس نے بطور ریاست جنگ میں اپنے آپ کو قائم اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے سے دنیا کو پریشان کئے رکھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے بھی ایران کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔لیکن اس کے باوجود ایران جنگ بندی کے بعد فاتحانہ نفسیات کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے ۔ ایک طرف وہ منجمد اثاثوں کی بحالی چاہتا ہے اور دوسری طرف مذاکرات کے پہلے دور میں جوہری پروگرام سے متعلق کوئی بات بھی نہیں کرنا چاہتا ۔ خلیج فارس کا پانی سب کا ہے اور اگر وہ ایرانی ملکیت ہوتا تو جنگ سے پہلے بھی ایران اسے اپنے کنٹرول میں رکھتا۔ اب آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ٹیکس کا ایرانی مطالبہ اس کی اس فاتحانہ نفسیات کا ایک ثبوت ہے لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ جو انتظام وہ چاہتا ہے وہ خلیجی ممالک کو بالخصوص اور پوری دنیا کو بالعموم قابل قبول نہیں۔ ٹرمپ کی مذکورہ بالا مجبوریاں اور مخمصے ایرانی قیادت کے ذہن میں بھی ہیں اور وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ امریکہ اس کے پنجے میں آگیا ہے اس لئے خوب آرام سے اسے دبوچ لو لیکن انہیں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ نہایت سفاک لوگ ہیں اور ان سے کسی بھی اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جب ایران پر حملہ کرتے ہیں تو جواب میں ایران کے پاس خلیجی مسلمان ممالک کو نشانہ بنانے کا آپشن ہے ۔ وہ نشانہ بنتے ہیں تو بھی مسلمان نشانہ بنتے ہیں اور اگر وہ جواب دینے پر اتر آئے تو دو مسلمان (ایرانی اور عرب)ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے جو اسرائیل کی دیرینہ خواہش ہے ۔خلیجی ممالک نے یہ غلطی کی تھی کہ اپنے دفاع کیلئے امریکہ پر تکیہ کیا تھا اور اسی لئے آج امریکہ ان کے اڈوں کو استعمال کرتا ہے لیکن اگر امریکہ اور ایران کی کوئی ڈیل ہوجاتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ ان عرب ممالک کی اکثریت ان اڈوں کے خاتمے میں دیر نہیں لگائیگی ۔تیل کی نعمت کے باوجود ایرانی معیشت پہلے سے تباہی سے دوچار ہے ۔ لوگوں کا جینا دشوار ہے ۔ ڈیل کے نتیجے میں پابندیاں ختم ہونے کے بعد ان کی معیشت دن دگنی رات چگنی ترقی کر سکتی ہے لیکن مذکورہ نفسیاتی اور فاتحانہ ذہنیت ان کو ڈیل کرنے سے روکتی ہے ۔ ایرانی دوست جنگ کی صورت میں اسے پورے خطے تک پھیلانے کی دھمکی دے رہے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ جنگ عالم اسلام کے اندر ہی رہے گی اور وہ اسے امریکہ تک وسعت نہیں دے سکتے۔
