الطاف: ابلاغیات کے التفات کا عہد ساز نقیب

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ : روزنامہ جنگ
ایک ایسا خلا جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ الطاف حسن قریشی صاحب کی وفات نے ایک دنیا کو اداس کر دیا ہے۔ 16مئی کی شام جناب مجیب الرحمٰن شامی نے یہ افسوسناک خبر دی کہ ہمارے پیارے دوست، اردو زبان کے نامور دانشور، جادوگر نثر نگار، سکہ بند صحافی، اردو ڈائجسٹ کے بانی مدیر الطاف حسن قریشی ہم سے جدا ہوگئے۔ چھ دہائیوں تک فکری صحافت کو آگے بڑھانے اور اسے ایک مضبوط روایت بنانے کے بعد وہ 96برس کی بھرپور زندگی گزار کر رخصت ہوگئے۔ اردو ادب، صحافت اور فکری دنیا پر الطاف صاحب اپنے گہرے نقوش چھوڑ گئے ہیں۔ وہ ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے صحافت کی تاریخ میں اپناایک خاص مقام ، اپنی الگ شناخت بنائی۔
آج اپنے رب کے حضور ایسے حاضر کہ اپنے حصے کا کام مکمل کر کے دنیا فانی سے مطمئن رخصت ہوئے ’’اے اطمینان پانے والی روح! اپنے رب کی طرف لوٹ اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا‘‘۔ (سورۃ الفجر: 27۔30) ان شاء اللہ، الطاف صاحب پر ایک زمانہ گواہی دے گا کہ انہوں نے اپنی ساری صلاحیتیں اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے دین کی سرفرازی، نظریے اور معاشرے کی بہتری کے لیے وقف کیے رکھا۔
تقریباً پینسٹھ برس کی صحافتی زندگی میں انہوں نے اردو صحافت کو نئی فکری پہچان دی۔ ان کے انتقال کے ساتھ ایک پورا صحافتی دور ختم ہوگیا۔ یوں لگتا ہے جیسے فکر، جرأت اور بصیرت کی ایک پوری تاریخ خاموش ہوگئی ہو۔ وہ اپنی ذات میں صحافت اور ادب کا ایک ادارہ تھے۔ ان کی آواز ہمیشہ حق اور شعور کی آواز رہی۔ الطاف صاحب واقعی ایک عہد تھے، ایسا عہد جس نے اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی فکری تربیت میں موثر کردار ادا کیا۔ الطاف صاحب جیسی شخصیت کا خلا شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔
ہمارا ’’الطاف‘‘ اپنے ساتھ بے شمار خوبصورت یادیں لے گیا۔ ان سے محبت کرنے والوں کی ایک بڑی دنیا اداس ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہمارا ایک جہان ہم سے چھوٹ ہوگیا ہو۔
مجیب الرحمٰن شامی صاحب ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جو تقریباً ساٹھ برس تک ان کے ساتھ قدم بہ قدم رہے۔ دونوں شخصیات میں غیر معمولی فکری ہم آہنگی تھی۔ دونوں کے قلم اپنے اپنے انداز میں منفرد اور اثر رکھنے والے تھے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی کی نظریاتی کشمکش میں دونوں نے مل کر ایک نسل کی فکری رہنمائی کی۔ جیسے شاعری میں قافیہ اور ردیف ایک دوسرے کے بغیر ادھورے لگتے ہیں، ویسے ہی الطاف صاحب اور شامی صاحب بھی ایک دوسرے سے جڑے محسوس ہوتے تھے۔ عمر کا فرق ضرور تھا مگر مقصد اور فکر نے اسے کبھی اہم نہیں ہونے دیا۔میں خود بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جنہیں زندگی کے آخری پندرہ برسوں میں تقریباً روزانہ الطاف صاحب سے فون پر بات کرنے کا موقع ملا۔ ڈیڑھ برس پہلے جب ان کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہوا تو ان کی طبیعت میں ایک خاموش اداسی نمایاں ہوگئی تھی۔ شفقت پہلے جیسی ہی تھی مگر لہجے میں ایک عجیب سی ویرانی محسوس ہوتی تھی۔ اہلیہ کی وفات کے بعد دن میں کئی بار فون آتے۔ مختصر سی گفتگو کرتے، حال پوچھتے اور پھر فون رکھ دیتے۔ ان کی مختصر بات بھی بہت معنی رکھتی تھی۔ چند منٹوں میں وہ اتنی بات کہہ جاتے جو لوگ گھنٹوں میں نہیں کہہ پاتے۔
وہ مزاجاً خاموش طبع، منکسر المزاج اور نرم دل انسان تھے۔ نفسیاتی طور پر Introvert ضرور تھے مگر محفلوں میں شریک ہوتے اور لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے تھے۔ کم گو تھے مگر قلم بے حد تیز اور طاقتور تھا۔ سماجی اور سیاسی مسائل پر ان کی تحریریں آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ اردو زبان پر ان کی گرفت ایسی تھی کہ قاری ان کی تحریر میں کھو جاتا۔
قریشی صاحب صرف صحافی نہیں تھے بلکہ صحافت کے وقار، دیانت اور نظریاتی استقامت کی علامت تھے۔ انہوں نے اس دور میں قلم اٹھایا جب صحافت واقعی ایک مشن سمجھی جاتی تھی۔
انہوں نے صحافت کو نظریے، تہذیب اور قومی شعور کے ساتھ جوڑ کر ایک اعلیٰ معیار قائم کیا۔’’اردو ڈائجسٹ‘‘ صرف ایک رسالہ نہیں بلکہ ایک فکری درسگاہ تھی۔ ہر گھر میں ہر طبقہ فکر میں مرد خواتین سب میں یکساں دلجمعی سے پڑھا جاتا تھا۔ الطاف صاحب کے نامور شخصیات سے انٹرویو کسی بھی لحاظ سے بین الاقوامی سطح پر اول درجہ کے تھے۔ یادداشت ایسی کہ کبھی انٹرویو کے نوٹس نہیں لئے اور ایک زیر زبر کی غلطی یا تحریف نہ ہوئی ۔جب یہ نام اردو زبان میں متعارف کروایا تو دیکھا دیکھی درجنوں ڈائجسٹ معرض وجود میں آ گئے۔
ان کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ اختلاف کے باوجود شائستگی برقرار رکھتے تھے۔ ان کی تنقید میں تہذیب ہوتی تھی اور اختلاف میں وقار۔ اسی لیے مخالفین بھی ان کی عزت کرتے تھے۔بھٹو دور ہو یا مارشل لا، الطاف صاحب نے کبھی اپنے قلم کا سودا نہیں کیا۔ مشکلات برداشت کیں مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو اُن کی شفقت اور خوش مزاجی بھی تھی۔ چاہے کوئی بڑا آدمی ہو یا نیا لکھنے والا، وہ سب سے محبت سے پیش آتے۔
انہوں نے بے شمار نوجوان لکھاریوں کی رہنمائی کی اور انہیں لکھنے کا سلیقہ سکھایا۔ آج صحافت کے کئی بڑے نام کسی نہ کسی طرح ان سے متاثر ہیں۔ چند روز پہلے شامی صاحب نے اپنے کالم میں ان کے بارے میں بہت خوبصورت الفاظ لکھے’’الطاف صاحب ایک فرد نہیں، ادارہ تھے، ایک تحریک تھے، ایک عہد تھے بلکہ عہد ساز تھے۔ انہوں نے اپنا زمانہ آپ بنایا۔ ان کے قلم نے دلوں پر حکمرانی کی۔ وہ صحافت کا وقار بھی تھے اور اعتبار بھی۔‘‘واقعی، الطاف حسن قریشی صرف ایک نام نہیں بلکہ اردو صحافت کی ایک پہچان بن چکے تھے۔ وہ علم، وقار، دیانت اور نظریاتی استقامت کی ایک غیر معمولی مثال تھے۔ گوان کے جانے سے اردو صحافت کا ایک روشن باب بند ہوگیا، مگر ان کی فکر، تحریر اور تربیت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ وہ صرف اپنے وقت پر اثر انداز نہیں ہوئے بلکہ اپنے عہد کی تشکیل بھی کی۔
