مریم نواز حکومت پنجاب کے سرکاری اثاثوں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟

پنجاب حکومت نے کھربوں روپے مالیت کے سرکاری اثاثوں کے انتظام اور تجارتی استعمال کے لیے ایک بڑا قانونی اقدام اٹھاتے ہوئے پنجاب اثاثہ جاتی انتظامی اتھارٹی آرڈیننس 2026 نافذ کر دیا ہے۔ نئی اتھارٹی کو سرکاری اثاثوں کی فروخت، لیز، جوائنٹ وینچر، نجی سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے غیر فعال سرکاری اثاثوں کو معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔
خیال رہے کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے کھربوں روپے مالیت کے سرکاری اثاثوں کے مؤثر انتظام، تجارتی استعمال اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم قانونی قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب اثاثہ جاتی انتظامی اتھارٹی آرڈیننس 2026 نافذ کر دیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت اثاثہ جاتی انتظامی اتھارٹی پنجاب قائم کی گئی ہے، جو سرکاری زمینوں، عمارتوں اور دیگر اثاثوں کی نشاندہی، ویلیوایشن، فروخت، لیز، جوائنٹ وینچر، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی نگرانی کرے گی۔
نئے آرڈیننس کے مطابق پنجاب کے مختلف محکموں، خودمختار اداروں اور سرکاری کمپنیوں کے ایسے اثاثوں کی نشاندہی کی جائے گی جو اس وقت غیر فعال ہیں یا جنہیں بہتر معاشی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اثاثوں کو منظم انداز میں بروئے کار لا کر نہ صرف سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سرکاری آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔
آرڈیننس کے تحت اتھارٹی کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں سرکاری اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کا تعین، ریزرو پرائس مقرر کرنا، فروخت، لیز، رہن (Mortgage)، جوائنٹ وینچر، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دیگر مالیاتی ماڈلز کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کو منصوبے پیش کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ اتھارٹی اوپن آکشن، مسابقتی بولی، براہ راست معاہدوں اور نجی شعبے کی تجاویز (Unsolicited Proposals) پر بھی کارروائی کر سکے گی، تاہم ایسی تجاویز کو بعد ازاں شفاف مسابقتی عمل سے گزارنا لازمی ہوگا۔
آرڈیننس میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ ہر سرکاری اثاثے کی کم از کم تین آزاد ویلیوایشنز کرائی جائیں گی، جبکہ فروخت یا لیز سے قبل عوامی نوٹس جاری کرنا لازمی ہوگا۔ حکومت کسی بھی سرکاری اثاثے کو اتھارٹی کے سپرد کر سکے گی اور ضرورت پڑنے پر واپس بھی لے سکے گی۔
اتھارٹی کے چیئرمین چیف سیکرٹری پنجاب ہوں گے، جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری ہاؤسنگ، سیکرٹری بلدیات، پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو سمیت دیگر اعلیٰ حکام اس کے ارکان ہوں گے۔ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کا تقرر وزیراعلیٰ پنجاب کریں گی۔
اتھارٹی کو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں سے معاہدے کرنے، اسپیشل پرپز وہیکلز (SPVs)، کمپنیاں، ٹرسٹ اور سوسائٹیاں قائم کرنے، مالیاتی ڈھانچے تیار کرنے اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ اتھارٹی کا الگ فنڈ قائم کیا جائے گا، جس میں سرکاری گرانٹس، اثاثوں کی فروخت و لیز سے حاصل ہونے والی آمدن، سرمایہ کاری اور دیگر ذرائع سے حاصل رقوم جمع ہوں گی۔
مریم نواز نے ابا جی کو کون سے نئے کام پر لگا دیا؟
حکومت پنجاب کے مطابق صوبے کے قیمتی سرکاری اثاثے مختلف اداروں میں منتشر ہونے کی وجہ سے مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو رہے تھے۔ نئے نظام کے ذریعے ان اثاثوں کو ایک مربوط فریم ورک کے تحت لا کر نجی سرمایہ کاری، معاشی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور حکومتی آمدن میں اضافہ کیا جائے گا، جبکہ غیر فعال اثاثوں کو بھی ملکی معیشت کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔
