مریم نواز نے ابا جی کو کون سے نئے کام پر لگا دیا؟

حکومت پنجاب کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے بطور لاہور ہیریٹیج ایریا ریوائیول بورڈ کے چیئرمین تقرری پردلچسپ تبصروں، سیاسی تجزیوں اور طنز و مزاح کا سلسلہ جاری ہے۔ مریم نواز حکومت کے فیصلے کے بعد یہ زیر بحث ہے کہ آخر "لہر” منصوبہ کیا ہے، اس کے مقاصد کیا ہیں، اور نواز شریف کی نئی ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟
خیال رہے کہ پاکستان کے تین مرتبہ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو حکومت پنجاب نے لاہور ہیریٹیج ایریا ریوائیول بورڈ (LAHAR) کا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔ محکمہ بلدیات و کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹیج ایریاز اتھارٹی ایکٹ 2012 کے تحت تشکیل دیے گئے نئے بورڈ کے قیام کے بعد عمل میں آئی ہے۔ اس فیصلے نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے، جہاں اس پر سنجیدہ تجزیوں کے ساتھ طنز و مزاح سے بھرپور تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل نواز شریف اس منصوبے کے سرپرستِ اعلیٰ کی حیثیت سے وابستہ تھے، تاہم نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت انہیں باقاعدہ چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد بورڈ کو انتظامی اور ایگزیکٹو اختیارات بھی حاصل ہوں گے تاکہ لاہور کے تاریخی ورثے کی بحالی کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
اعلان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف آراء کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بعض صارفین نے اس فیصلے کو لاہور سے نواز شریف کی دیرینہ وابستگی کا تسلسل قرار دیا، جبکہ کئی صارفین نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والی شخصیت اب ایک شہری ہیریٹیج بورڈ کی سربراہی کرے گی۔
کچھ صارفین نے اسے تاریخی لاہور کی بحالی کے لیے مثبت قدم قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے سیاسی تناظر میں دیکھتے ہوئے مختلف سوالات بھی اٹھائے۔ مجموعی طور پر یہ تقرری سوشل میڈیا پر دن بھر زیرِ بحث رہی۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر لاہور ہیریٹیج ایریا ریوائیول (LAHAR) منصوبہ کیا ہے؟ حکام کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے لہر کے نام سے شروع کیا جانے والا پروگرام ایک جامع منصوبہ ہے جس کا مقصد اندرونِ لاہور کے تاریخی ورثے، قدیم حویلیوں، گلیوں، دروازوں، بازاروں اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں اصل حالت میں بحال کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت تاریخی عمارتوں کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سیاحتی سہولیات کی فراہمی اور قدیم لاہور کی ثقافتی شناخت کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
منصوبے کی ترجمان فاطمہ عطا کے مطابق اس وقت 28 مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کی مکمل فنڈنگ "لہر” کے ذریعے کی جا رہی ہے، جبکہ مختلف سرکاری ادارے ان پر عملی طور پر کام کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق نئے بورڈ کے قیام کا مقصد انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانا، بیوروکریسی کی پیچیدگیوں میں کمی لانا اور تاریخی ورثے کی بحالی کے فیصلوں کو تیز رفتار بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف قدیم لاہور کی بحالی کو اپنے دیرینہ وژن کا حصہ سمجھتے ہیں، اسی لیے وہ اس منصوبے کی براہِ راست نگرانی کرنا چاہتے ہیں۔
پنجاب سے 37 ہزار سے زائد افغانیوں سمیت غیر ملکی باشندے ڈی پورٹ
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تقرری صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لاہور کے تاریخی اور ثقافتی تشخص کو اپنی سیاسی ترجیحات میں نمایاں رکھنے کا اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئے بورڈ کے تحت تاریخی لاہور کی بحالی کے منصوبوں میں کس حد تک پیش رفت ہوتی ہے اور یہ فیصلہ عوامی سطح پر کس انداز میں دیکھا جاتا ہے۔
