عمران خان مستقبل میں کس بڑے حادثے کا شکار ہونے والے ہیں؟

معروف لکھاری حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا یے کہ شخصیت پرستی اور خود پسندی کے امراض میں مبتلا عمران خان نے اگر اب بھی اپنی شخصی خامیوں کا ادراک نہ کیا تو وہ مستقبل قریب میں وہ کسی بڑے حادثے سے دوچار ہو سکتے ہیں جس سے ان کی زندگی غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر وہ زمینی حقائق کو تسلیم کر کے اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کریں تو غیبی مدد ان کے ساتھ ہوگی۔
روزنامہ جنگ کے لیے حفیظ اللہ نیازی نے ملکی و عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سمیت پوری عالمی سیاست اس وقت مکر و فریب، مفادات اور دھوکہ دہی کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ انہوں نے پاکستانی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 74 برسوں میں طاقت ور فوجی اسٹیبلشمینٹ اور سیاست دانوں نے عوام کو دھوکے میں رکھا۔ طاقت کا نشہ انسان کو ہر حد سے گزر جانے پر مجبور کر دیتا ہے، عوامی مقبولیت کے سر پر مقبول ہونے والے پاکستانی سیاستدانوں کا اپنے ہی ووٹرز کو فریب دینا اخلاقی دیوالیہ پن کے سوا اور کچھ نہیں یے۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو شہید، میاں نواز شریف اور عمران خان کے سیاسی رویوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاست میں شخصیت پرستی اور اندھی عقیدت اب ایک قومی شعار بن چکی ہے۔
حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ اپنی عوامی مقبولیت کی بنا پر قائد عوام کا خطاب پانے والے بھٹو نے عوام کو انقلابی نعروں سے جوش دلایا مگر اقتدار میں آ کر اپوزیشن کے حوالے سے غیر جمہوری رویہ اپنا لیا۔ مارشل لگانے سے پہلے اور بعد میں فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اسی اپوزیشن کو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف استعمال کیا۔ بعد بینظیر بھٹو نے اپنے سیاسی کیریئر کی ابتدا میں والد کے نظریے پر قائم رہ کر جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت کے خلاف سخت مزاحمت کی، مگر میں انہیں امریکہ اور عسکری قیادت سے مفاہمت کرتے یوئے آگے بڑھنا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں راولپنڈی کی ایک شاہراہ پر قتل کر دیا گیا۔ ان کا سب سے بڑا جرم اپنے سیاسی مخالفین کیساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کرنا تھا۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ نواز شریف نے بھی اپنے سیاسی مخالفین یعنی آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف جذبہ انتقام کے تحت جھوٹے کرپشن کے مقدمات بنائے اور انہوں نے جیلوں میں ڈالا۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا اغاز جنرل ضیاء الحق کی آشیرباد سے کیا اور بعد ازاں جنرل مشرف کے طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں سزائے موت پانے کے بعد اپنی جان بخشی کے لیے پسِ پردہ مشرف کے ساتھ ہی سعودی عرب جلاوطنی کی ڈیل بھی کی۔ لیکن آج وہ خاندانی سازشوں کا شکار ہو کر سیاسی منظر نامے سے غائب نظر آتے ہیں۔
حفیظ اللہ نیازی نے عمران خان کے حوالے سے روزنامہ جنگ میں لکھا ہے کہ کہا کہ انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایک پراجیکٹ کے تحت میدان میں اتارا جب نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کرتے ہوئے فوج کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے توبہ کر لی۔ اسٹیبلشمنٹ کو ایک کٹھپتلی چاہیے تھی سو مل گئی۔ انہیں 2018 میں اقتدار بھی دلوایا گیا لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ عمران خان نے اپنے سیاسی فیصلوں کی حقیقت کبھی اپنے قریبی ساتھیوں تک بھی نہیں پہنچنے دی۔ 2014 کے دھرنے سے لے کر 2022 کے سائفر تنازع اور جنرل قمر باجوہ سے متعلق فیصلوں تک، عمران خقن کی سیاست خفیہ اور مبہم فیصلوں سے عبارت رہی ہے، چاہے وہ یہ فیصلے خود کرتے ہوں یا بشری بی بی کے مشورے سے۔ ان کے مطانق عمران کا یہ خاصہ ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو دفاعی انداز میں چھپانے کے بجائے انہی کو اپنے دشمن پر الٹا دیتے ہیں۔ ان کے اسی رویے نے ان کی سیاست کو زندہ رکھا ہوا یے۔ نیازی کے مطابق عمران خان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ شخصیت پرستی پسند کرتے ہیں اور خود پسندی کے مرض میں مبتلا ہیں۔
حفیظ اللہ خان کے مطابق آج پاکستان میں دو سیاسی قوتیں خود کو ’حق‘ اور دوسرے کو ’باطل‘ سمجھتی ہیں، مگر اصل نقصان عوام کا ہو رہا ہے۔ عمران خان کی جارحانہ سیاست کے باعث کئی بے گناہ کارکن جیلوں میں ہیں، ان کا کہنا یے کہ ان کے اپنے بیٹے حسان خان نیازی بھی اس جنگ کے بالواسطہ متاثرین میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت سیاسی معرکہ اپنے عروج پر ہے، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کو چند ہفتوں کی مزید مہلت ملی ہے۔ حفیظ اللہ نیازی نے امید ظاہر کی کہ اگر عمران خان نے زمینی حقائق کو تسلیم نہ کیا تو نہ صرف ان کی سیاست بلکہ وہ خود بھی کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔
