وسیم اکرم آن لائن جوئے کی تشہیر سے پیچھے کیوں نہیں ہٹتے؟

معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی گرفتاری اور ٹھکائی کے باوجود وسیم اکرم آن لائن جوا ایپس کی تشہیر سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر سابق پاکستانی کرکٹ کپتان وسیم اکرم کے خلاف بیٹنگ ایپس کی تشہیر کرنے پر سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے وسیم اکرم کے جوائے کی تشہیر کے اقدام کو غیر اخلاقی، غیر قانونی اور قومی وقار کے منافی قرار دے دیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ڈکی بھائی جیسے عام یوٹیوبرز یا انفلوئنسرزکو ایسی تشہیری سرگرمیوں پر قانونی اور عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تو وسیم اکرم جیسے معروف سابق کپتان کے خلاف بھی اس جرم پرسخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ عوام تک واضح پیغام جائے کہ حکومت کیلئے کسی بھی سطح پر آن لائن جوئے کی ترویج ناقابلِ قبول ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر “#ActionAgainstWasimAkram” کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سری نگر ہائی وے پر ایک آن لائن جوئے کی کمپنی کا بڑا بل بورڈ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس بل بورڈ پر پاکستان کے سابق لیجنڈری کرکٹر وسیم اکرم کی تصویر نمایاں ہے، جبکہ اس پر لکھا ہے ’کرکٹ کے لیے وسیم اکرم کا نمبر 1 انتخاب‘۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے آن لائن جوئے کی کمپنیوں پر پابندی عائد ہونے کے باوجود اس نوعیت کے اشتہارات دارالحکومت کی سڑکوں پر نظر آنا سوالیہ نشان ہے۔
ارفع فیروز نے اس معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آن لائن جوئے اور بیٹنگ پلیٹ فارمز کی ہر قسم کی تشہیر پر واضح پابندی عائد کر رکھی ہے، خواہ وہ ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا یا آؤٹ ڈور بل بورڈز کے ذریعے ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود اسلام آباد میں ایک بڑا بل بورڈ نصب کیا گیا جس میں وسیم اکرم آن لائن جوئے کی کمپنی کی تشہیر کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ارفع فیروز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آن لائن جوئے کی کمپنیوں کی تمام تر پروموشن فوری طور پر بند کی جائے اور جو بھی کرکٹر یا انفلوئنسر جوئے کی تشہیر کر رہا ہے اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
صحافی انصار عباسی نے لکھا کہ کرکٹ میں جوئے اور جواریوں کے خلاف ہمارے ٹی وی چینلز، موجودہ اور سابق کھلاڑی اور سپورٹس صحافی آواز کیوں نہیں اُٹھاتے۔ جو جوے کو پروموٹ کرے اُس کا بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خبر دے کہ پاکستان میں یہ سب کیا ہو رہا ہے۔
اویس یوسفزئی لکھتے ہیں کہ آن لائن بیٹنگ کے اشتہاری بورڈ پرتو ہمارے کرکٹ لیجنڈ وسیم اکرم ہیں۔ اس معاملے پر تو پہلے ہی معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کے خلاف کاروائی چل رہی ہے۔
ایک صارف نے مطالبہ کیا کہ وسیم اکرم کو بیٹنگ ایپ کی تشہیر کرنے پر گرفتار کیا جائے اور ان کے تمام اکاؤنٹس بھی ڈکی بھائی کی طرح منجمد کیے جائیں۔
ثاقب بشیر نے سوال کیا کہ اسلام آباد انتظامیہ اور حکومت کدھر ہے؟
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ اب کیا وسیم اکرم کو بھی ڈکی بھائی کی طرح گرفتار کیا جائے گا؟
