عمران نے صدر علوی سے کن حکم ناموں پر دستخط کروائے ہیں؟

معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ اور ایک اہم ترین شخصیت کے مستقبل بارے دو حکم نامے خاموشی سے صدر مملکت عارف علوی سے دستخط کروا کر اپنے پاس رکھ لیے ہیں۔ ان حکم ناموں میں کیا ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں لیکن اقتدار کے کھیل سے آگاہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ وزیر اعظم کے پاس ایک ایسا اہم ترین اختیار ہے جو ان کے اقتدار میں ڈٹے رہنے کی ضمانت دیتا ہے، وہ اس اختیار کو اپنے وقت پر اپنے مفاد میں استعمال کریں گے۔ لہذا بقول اعزاز سید، کوئی کچھ کر لے، تحریک عدم اعتماد لانے والی سیاسی جماعتیں فی الحال عمران خان کو گھر بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں اعزاز سید کہتے ہیں کہ وزیراعظم کو پورا اعتماد ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے لیکن اسکے باوجود عمران خان الرٹ بھی ہیں اور ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ عمران خان حکومت کا کڑا ناقد ہونے کے باوجود مجھے حکومت جاتی نظر آتی اور نہ ہی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کی کوئی صورت نظر آرہی ہے۔ تاہم پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کچھ ایسے واقعات ضرور رونما ہوئے ہیں جن سے فضا میں ہلچل اور کھیل میں دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔ ان واقعات میں سب سے پہلے 5 فروری 2022 کو لاہور میں آصف علی زرداری کی لیڈر آف دی اپوزیشن میاں شہباز شریف سے ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں پرانے کھلاڑیوں کے ساتھ نوجوان سیاستدان بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز اور حمزہ شہباز بھی موجود تھے۔

زرداری کی سیاست کو سمجھنے والے لوگ اس بات سے آشنا ہیں کہ وہ اپنے پتے کھیل کرمرضی کا سیاسی منظرنامہ تشکیل دینے کے خوب ماہر ہیں۔ اس بار بھی زرداری صاحب نے یہی کیا۔ ن لیگی رہنمائوں سے ملاقات سے قبل ہی کچھ معاملات طے تھے، ابتدا میں گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کے مصداق قومی اسمبلی میں وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی گئی جو نوازشریف کی طرف سے قابل قبول نہ تھی۔ پیپلزپارٹی کو اِس بات کا پہلے سے پتہ تھا۔ درونِ خانہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں راجہ پرویز اشرف کا نام وزیراعظم کے طور پر سنا جا رہا ہے۔ تاہم کوئی نیا نام سامنے آنا بھی بعید از قیاس نہیں۔

اعزاز سید کہتے ہیں کہ اِس اہم ملاقات کے بعد 11فروری کو پی ڈی ایم رہنمائوں نے بھی تحریک عدم اعتماد کی پیپلز پارٹی کی تجویز پر ہاں کردی یعنی کھیل میں مولانا فضل الرحمٰن بھی شامل ہو گئے۔ آصف زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات کے بعد تین اور اہم واقعات رونما ہوئے۔ ان میں سب سے اہم یہ کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کو الیکشن کمیشن نے 2018 کے عام انتخابات میں دہری شہریت کے بارے میں جھوٹا حلف نامہ جمع کرانے پر نا اہل قرار دے دیا۔ اس سے ایک طرف اپوزیشن خوش ہوئی تو دوسری طرف الیکشن کمیشن کی ساکھ بحال ہوئی جو آگے جاکر بلدیاتی اور عام انتخابات میں استعمال کی جائے گی۔ بادشاہ کو بچانے کے لیے پیادے قربان کردیے جاتے ہیں۔

ادھر بلوچستان میں بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سےتشکیل دی گئی بلوچستان عوامی پارٹی، باپ نے اچانک ہلچل شروع کردی۔ خیال رہے کہ اسٹیبلشمنٹ ایک طرف تو اس جماعت کے وزیراعلیٰ سے بلوچستان میں خوش نہیں اور دوسری طرف اسلام آباد میں اس جماعت کے ارکان نے وفاقی کابینہ میں کم سے کم چار وزارتوں کا حصہ مانگ لیا ہے۔

11 فروری 2022کو سینیٹ اجلاس میں باپ کے ارکان نے ایوان سے واک آئوٹ کردیا۔ سینیٹر پرنس عمر دائود زئی کی قیادت میں باپ سینیٹرز جب ایوان سے باہر نکلے تو ان سے آمنا سامنا ہو گیا۔ میں نے پوچھا آپ کی جماعت تو اشاروں کے بغیر نہیں ہلتی، جواب آیا ہمیں اشارے ملنا بند ہو گئے ہیں، کہا گیا ہے کہ اپنی جنگ خود لڑو۔

فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

جب میں نے پوچھا کہ عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو کیا اپوزیشن کا ساتھ دیں گے؟ تو عمر دائود زئی نے کہا کہ نہیں جناب ہم حکومت کے ساتھ ہیں اور ساتھ ہی رہیں گے۔ یہ سینیٹرز ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے منانے پر واپس جانے لگے تو ان میں شامل ایک معزز سینیٹر نے مجھے الگ ہوکر بتایا کہ ہمیں عمران سے الگ ہونے کا کوئی اشارہ نہیں، ہاں ہم حکومت میں حصہ مانگ رہے ہیں، سرپرست وہ حصہ نہیں دلا سکتے، اسی لیے کہا گیا کہ خود کوشش کرلیں جو ہم کررہے ہیں۔

بقول اعزاز سید، دوسری طرف ایک اہم ہلچل آزاد کشمیر میں بھی ہورہی ہے جہاں تحریک انصاف کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی کے خلاف انہی کی جماعت کے سردار تنویر الیاس تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے متحرک ہیں۔ یہ صاحب پیسے اور اسٹیبلشمنٹ کے بل بوتے پر وزیر اعظم آزادکشمیر تو نہ بن سکے مگر اب پیسے کے بل بوتے پرموجودہ وزیراعظم آزاد کشمیرکے خلاف کم و بیش 15 اراکین کی حمایت کا دعویٰ کررہے ہیں۔

اگر پیپلزپارٹی کے 12اراکین نے تنویر الیاس کی حمایت کردی تو 53 اراکین کی اسمبلی میں یہ صاحب وزیراعظم آزاد کشمیر کو شکست دے کر نئے وزیراعظم بن سکتے ہیں مگر اسکا چانس اس لیے کم ہے کہ ان کے پاس اصل میں 15 نہیں 6 یا 7 اراکین ہیں کیونکہ بیرسٹر سلطان محمود اپنا الگ گروپ بنا چکے ہیں۔

اعزاز سید کہتے ہیں کہ بظاہر تو بند مٹھی میں ریت کی طرح اقتدار عمران خان کے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے مگر اصل میں ایسا نہیں ہے، اب تک ترپ کا پتہ انہی کے پاس ہے۔ جب اپوزیشن والے ملاقاتیں کر کے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے دعوے کررہے تھے، تب عمران خان اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک طاقتور شخصیت کے گھر ان سے ملاقات کررہے تھے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ منتخب وزیراعظم اپنے ہی کسی افسر کے گھر چلا جائے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی اس افدر کے گھر چلے گئے تھے۔ پاکستان میں اقتدار بچانے یا مستحکم رکھنے کے لیے یہ سب کچھ کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔

وزیراعظم کے دائیں بائیں رہنے والے ایک غیرمعمولی وزیر سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ کیا عمران خان کو اعتماد ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے؟ جواب آیا، ’’وزیراعظم کو پورا اعتماد ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے لیکن وزیراعظم الرٹ بھی ہیں اور ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔ لہذا ہم نے اقتدار کی راہداریوں کے جغادریوں سے سنا ہے کہ عمران خان نے پارلیمنٹ اور ایک اہم ترین شخصیت کے مستقبل بارے دو حکمنامے خاموشی سے صدر مملکت سے دستخط کروا کے اپنے پاس رکھ لیے ہیں۔

ان حالات میں کوئی کچھ کرلے تحریک عدم اعتماد لانے والی جماعتیں فی الحال وزیراعظم کو گھر بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ہاں مگر اپوزیشن کے اس اقدام سے پرسکون سیاسی ماحول کو ایک جھٹکا ضرورلگا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن اپنے دعوے کےمطابق یہ جھٹکا زلزلے میں بدلتی ہے یا خود جھٹکے کا شکار ہو جاتی ہے۔

 

Back to top button