جب ہندو، اسلامی احکامات یاد دلائیں!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پاکستان کے ایوانِ بالا میں گزشتہ دنوں ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جس نے میرا سر شرم سے جھکا دیا۔ سینیٹر دنیش کمار بجٹ پر بحث کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور ان پر ادا کیے جانیوالے سود کا ذکر کر رہے تھے بلکہ قرآنِ پاک کی ان آیات کا حوالہ بھی دے رہے جن میں سود کے خلاف سخت ترین وعید سنائی گئی ہے۔ ان کا بیان اخبار میں پڑھ کر مجھے اس بات کا دکھ ہوا کہ جن اکثریتی اراکین پارلیمنٹ کو سود کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے وہی بجٹ کا تقریباً آدھا حصہ سود کی ادائیگی کیلئے مختص کرنے کا ووٹ ڈال رہے ہیں جبکہ اب غیر مسلم ممبر پارلیمنٹ اس سود کے خلاف بات کر رہا ہے اور اس کیلئے اسلامی تعلیمات کا حوالہ بھی دے رہا ہے۔ لیکن اکثریتی مسلم اراکین پارلیمنٹ نے اس کے باوجود اسی سود کے حق میں ووٹ دیا۔ چند برس قبل ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر رمیش کمار مسلسل یہ سوال اٹھاتے رہے کہ جس طرح اسلام میں شراب حرام ہے اسی طرح دوسرے مذاہب میں بھی اسے جائز نہیں سمجھا جاتا لیکن اس کے باوجود اقلیتوں کے نام پر پورے پاکستان میں کھلے عام شراب فروخت کی جارہی ہے۔ وہ یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ اقلیتوں کے نام پر جاری کیا جانے والا شراب کا نظام حقیقت میں مسلمانوں کیلئے بھی دروازے کھول دیتا ہے اور اس طرح ایک اسلامی مملکت میں ایک ایسی برائی کو قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے جسے اسلام نے واضح طور پر ممنوع قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر رمیش کی بات نہیں سنی گئی یوں شراب پر مکمل پابندی کےرستے میں مسلمانوں کی بڑی اکثریت ہونے کے باوجود دو اہم ادارے رکاوٹ بن گئےاور مسلمان پالیسی سازوں کی زبان سے کیوں نہیں سنائی دیتیں جن پر آئینی طور پر بھی اسلام کے بنیادی اور قطعی احکامات پر عمل کرنا لازم ہے۔ اسلام میں سود کے بارے میں جو احکامات ہیں اور جس شدت سے اس سے روکا گیا، وہ شاید ہی کسی اور گناہ کے بارے میں ہوں۔ اسی طرح اسلام نے شراب کو ایک شیطانی عمل قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل اجتناب کا حکم دیا۔ ان احکامات کی تشریح یا تاویل پر امت مسلمہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ پاکستان، جو اپنے نام کے ساتھ”اسلامی جمہوریہ “ لگاتا ہے، وہاں آج بھی معیشت کی بنیاد سودی قرضوں پر
کیوں قائم ہے؟ ہر سال بجٹ کا سب سے بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں کیوں چلا جاتا ہے؟ اور شراب کے حوالے سے وہ ابہام اور منافقت کیوں موجود ہے جسکی نشاندہی بارہا کی جا چکی ہے؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آئینِ پاکستان کی ان شقوں کا کیا ہوا جن میں ریاست کو قرآن و سنت کے مطابق نظام کے قیام کا پابند بنایا گیا ہے؟ کیا پارلیمنٹ نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر دی؟ کیا حکومتیں اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو چکی ہیں؟ کیا ہماری سیاسی جماعتوں نے کبھی سنجیدگی سے ان معاملات کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا؟ جب کبھی ان موضوعات پر بات ہوتی ہے تو اکثر سیاسی اور حکومتی حلقوں سے یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ حالات، عالمی نظام اور معاشی مجبوریوں کے باعث فوری طور پر مکمل تبدیلی ممکن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ نیت، سمت اور سنجیدہ کوشش کہاں ہے؟ کیا قوم کو کوئی واضح روڈ میپ دیا گیا؟ کیا عوام کو بتایا گیا کہ سود سے پاک معیشت اور اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نظام کی طرف پیش رفت کس مرحلے میں ہے؟ آج اگر ایک ہندو سینیٹر قرآن کی آیات کا حوالہ دے کر سود کے خلاف آواز بلند کرے اور ایک ہندو رکنِ قومی اسمبلی شراب کی فروخت کے خلاف مقدمہ لڑتا دکھائی دے تو یہ یقیناً ان کی پاکستان اور اس کے آئین سے وابستگی کا مثبت پہلو ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمارے لیے ایک المیہ بھی ہے اور ایک آئینہ بھی۔ یہ آئینہ ہمیں دکھا رہا ہے کہ کہیں ہم نے اپنے ہی نظریاتی اور آئینی وعدوں کو پسِ پشت تو نہیں ڈال دیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن امور پر مسلمان قیادت کو سب سے آگے ہونا چاہیے تھا، وہاں خاموشی اختیار کر لی گئی ہے؟ جبکہ یہ پاکستان کے نظریاتی تشخص، آئینی ذمہ داری اور اجتماعی دیانت کا سوال ہے۔ جب غیر مسلم پاکستانی ہمیں اسلام کے واضح احکامات اور آئین کے تقاضے یاد دلائیں اور ہم ان احکامات پر عمل کرنے کی بجائےکھلے عام انکے خلاف جا رہے ہوں تو پھر یہ ایک المیہ نہیں تو کیا ہے؟ بلکہ یہ تو ہمارے لیے بڑی شرم کا مقام ہے کہ سود اور شراب کے خلاف وہ آوازیں بلند کر رہے ہیں جن پر اسلام کی تبلیغ فرض نہیں، جبکہ خاموشی اختیار کیے ہوئے وہ لوگ ہیں جو خود کو اسلام کے نام پر بننے والی ریاست کا محافظ کہتے ہیں؟
