پی ٹی آئی کوایک بار پھر پرتشدد احتجاج کی راہ کون دکھا رہا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر احتجاجی سیاست کی طرف لوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کی تیاریوں نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے، جبکہ پارٹی قیادت 27 ستمبر کے احتجاج کو فیصلہ کن مرحلہ قرار دے رہی ہے۔ دوسری جانب اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے پس پردہ رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کی اطلاعات نے اس احتجاجی حکمت عملی کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی واقعی سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کرے گی، یا احتجاج مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کی سیاسی حکمت عملی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف ایک وقفے کے بعد دوبارہ احتجاجی سیاست کے میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں کارکنوں کی متحرک تنظیم، لانگ مارچ کی منصوبہ بندی اور قیادت کے پُراعتماد بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی آئندہ چند ہفتوں میں اپنی سیاسی مہم کو نئی شدت دینا چاہتی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے یہ دعویٰ کہ "27 ستمبر کو نکلے تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا”، پارٹی کے اعتماد کو نمایاں کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اعتماد کے پیچھے صرف تنظیمی تیاری نہیں بلکہ یہ تاثر بھی موجود ہے کہ پارٹی کو کسی نہ کسی سطح پر سیاسی حوصلہ افزائی یا اعتماد حاصل ہوا ہے۔
اس احتجاجی مہم میں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کردار بھی نمایاں رہا ہے۔ ان کے خیبر پختونخوا کے مختلف دوروں اور کارکنوں سے ملاقاتوں نے تنظیمی سطح پر نئی سرگرمی پیدا کی، جس کے بعد پارٹی قیادت پر لانگ مارچ کی باقاعدہ کال دینے کا دباؤ بھی بڑھ گیا۔ یوں احتجاج محض قیادت کا فیصلہ نہیں بلکہ کارکنوں کے مطالبات کا بھی نتیجہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اڈیالہ جیل میں موجود بانی پی ٹی آئی سے پس پردہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ ان رابطوں کی نوعیت اور کامیابی کے بارے میں کوئی باضابطہ تصدیق موجود نہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ احتجاج اور مذاکرات دونوں راستے بیک وقت اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ پارٹی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط رکھ سکے۔
تاہم پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی کا سب سے بڑا چیلنج اس کی جغرافیائی محدودیت ہے۔ اس وقت احتجاجی سرگرمیوں کا مرکز تقریباً مکمل طور پر خیبر پختونخوا ہے، جبکہ پنجاب اور سندھ میں پارٹی کی تنظیمی سرگرمیاں نسبتاً خاموش دکھائی دیتی ہیں۔ پنجاب کی بڑی قیادت کا ایک حصہ مختلف قانونی مقدمات اور قید کے باعث عملی سیاست سے دور ہے، جس کی وجہ سے وہاں احتجاجی قوت کو متحرک کرنا پارٹی کے لیے آسان نہیں۔
اسی تناظر میں سیاسی حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا پی ٹی آئی کے احتجاج کا اصل مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے یا صرف ان تک رسائی اور ملاقات کو یقینی بنانا۔ ناقدین کے مطابق احتجاجی بیانیہ زیادہ تر ایک شخصیت کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ دیگر گرفتار کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے ریلیف کی بات نسبتاً کم سنائی دیتی ہے۔
اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے حوالے سے بھی ریاستی ادارے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کسی بڑے احتجاجی شو کی گنجائش محدود ہے، البتہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا رہا، اگرچہ ایسی کسی بھی پیش رفت کو ممکنہ شرائط سے مشروط قرار دیا جا رہا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے نے پاکستان کو خطے کا چودھری کیسے بنایا؟
مجموعی طور پر پی ٹی آئی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں احتجاج، تنظیمی بحالی اور مذاکرات تینوں راستے بیک وقت اس کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ واقعی ایک فیصلہ کن سیاسی تحریک بنتا ہے یا پس پردہ مذاکرات ہی سیاسی بحران کے حل کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔
