ڈیجیٹل بینکنگ ایپ ایزی پیسہ سخت عوامی تنقید کی زد میں کیوں؟

گزشتہ کئی دنوں سے معروف ڈیجیٹل بینکنگ ایپ ایزی پیسہ سروس چارجز بڑھانے پر شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے تاہم اب ایزی پیسہ مینجمنٹ نے صارفین پر نئے اور اضافی سروس چارجز عائد کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایزی پیسہ اکاؤنٹس کے درمیان رقم کی منتقلی اور ’راست‘ کے ذریعے ٹرانزیکشن بدستور مفت ہے، تاہم بعض مخصوص سہولیات پر مقررہ سروس فیس پہلے سے لاگو ہے۔ ایسے میں صارفین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سی خدمات مفت ہیں، کن سروسز پر چارجز عائد ہوتے ہیں اور کیا حالیہ دنوں میں واقعی فیسوں میں کوئی نئی تبدیلی کی گئی ہے۔
پاکستان کے معروف ڈیجیٹل والٹ اور برانچ لیس بینکنگ پلیٹ فارمز میں شامل ایزی پیسہ نے اضافی اور نئے سروس چارجز سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ صارفین کی بنیادی سہولیات پر کوئی خفیہ یا اچانک اضافی چارجز عائد نہیں کیے گئے۔
ایزی پیسہ انتظامیہ کے مطابق ایزی پیسہ اکاؤنٹس کے درمیان رقم کی منتقلی اور ’راست‘ پلیٹ فارم کے ذریعے رقم بھیجنے کی سہولت بدستور مفت ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر عام رقم کی منتقلی پر اضافی ٹیکس یا نئی فیس عائد کیے جانے سے متعلق دعوے درست نہیں۔
تاہم ایزی پیسہ کے موجودہ شیڈول آف چارجز میں بعض مخصوص خدمات پر فیس مقرر ہے۔ مثال کے طور پر ایپ کے ’ایڈ فنڈز‘ فیچر کے ذریعے لنکڈ بینک اکاؤنٹ سے ایزی پیسہ والٹ میں رقم منتقل کرنے پر 2 فیصد جبکہ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم شامل کرنے پر 3 فیصد سروس فیس عائد ہوتی ہے۔
اس کے برعکس اگر صارف کسی دوسرے بینک کی آفیشل موبائل ایپ کے ذریعے اپنے ایزی پیسہ والٹ میں رقم منتقل کرتا ہے تو یہ سہولت مفت رہتی ہے۔ اسی طرح دیگر بینکوں میں رقم کی منتقلی کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے تک کی حد مفت ہے، جبکہ اس سے زیادہ رقم منتقل کرنے پر 0.1 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 200 روپے تک فیس وصول کی جاتی ہے۔
دیگر خدمات میں سادہ موبائل فون سے *786# استعمال کرنے پر فی ٹرانزیکشن ایک روپے کی پلیٹ فارم فیس جبکہ اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر 18.75 سے 23.44 روپے تک چارجز شامل ہیں۔ کمپنی کے شیڈول کے مطابق ویزا یا پے پاک ڈیبٹ کارڈ کے اجرا کی فیس ایک ہزار روپے، یونین پے کارڈ کی 999 روپے اور ورچوئل کارڈ کی فیس 500 روپے مقرر ہے۔
اسی طرح ایپ کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کے لیے 99 روپے جبکہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ کو ’آسان ڈیجیٹل اکاؤنٹ‘ میں تبدیل کرنے کی فیس 75 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ایپ کے ذریعے بلوں کی ادائیگی اور موبائل ریچارج کی سہولت بدستور مفت ہے، تاہم ’ایزی کیش‘ قرض کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں 5 فیصد تک تاخیری فیس عائد کی جا سکتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 800 روپے ہے۔
ایزی پیسہ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تمام فیسیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات اور منظور شدہ شیڈول آف چارجز کے مطابق وصول کی جاتی ہیں اور حالیہ عرصے میں بنیادی ٹرانزیکشنز پر اچانک کوئی نیا چارج عائد نہیں کیا گیا۔
کمپنی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات پر اعتماد کرنے کے بجائے ایزی پیسہ کی آفیشل ویب سائٹ اور منظور شدہ شیڈول آف چارجز سے معلومات حاصل کریں۔

 

پی ٹی آئی کوایک بار پھر پرتشدد احتجاج کی راہ کون دکھا رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل والٹس کی جانب سے مخصوص خدمات پر فیس عائد کرنا معمول کی بات ہے، تاہم صارفین کو چارجز اور ان کی حدود کے بارے میں واضح اور بروقت معلومات فراہم کرنا کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق جب تک بنیادی سہولیات، خصوصاً ایزی پیسہ سے ایزی پیسہ رقم کی منتقلی اور ’راست‘ کے ذریعے ٹرانزیکشن مفت ہیں، عام صارفین پر براہ راست اضافی مالی بوجھ محدود رہے گا۔

Back to top button