سہیل آفریدی نے اچانک سخت لب و لہجہ کیوں اپنا لیا؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے حالیہ دنوں میں مختلف نجی ٹی وی چینلز کو ون آن ون انٹرویوز دینا سیاسی حلقوں میں غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد طویل عرصے تک انہوں نے ٹی وی انٹرویوز سے گریز کیا، تاہم اب حامد میر اور وسیم بادامی سمیت معروف اینکرز کو انٹرویوز دے کر انہوں نے نہ صرف اپنی سیاسی حکمت عملی واضح کی بلکہ 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے بھی کھل کر گفتگو کی ہے۔مجموعی طور پر سہیل آفریدی کی میڈیا سرگرمیوں سے یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ پی ٹی آئی نے احتجاجی سیاست کو دوبارہ مرکزی ایجنڈا بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم یہ انٹرویوز کسی پس پردہ مذاکرات یا مفاہمت کا نتیجہ ہیں یا صرف سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی، اس کا فیصلہ آنے والے ہفتوں میں ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اچانک مین اسٹریم میڈیا کی طرف رخ، عمران خان کا کھل کر ذکر اور 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی مہم—سہیل آفریدی کے بدلتے میڈیا انداز نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات اٹھا دیے ہیںخیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے حالیہ دنوں میں معروف نجی ٹی وی چینلز کے اینکرز کو دیے جانے والے یکے بعد دیگرے انٹرویوز نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد طویل عرصے تک ون آن ون ٹی وی انٹرویوز سے گریز کرنے والے سہیل آفریدی کا اچانک مین اسٹریم میڈیا پر آنا محض معمول کی میڈیا سرگرمی ہے یا اس کے پیچھے کوئی باقاعدہ سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے؟
سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کہ ان انٹرویوز میں سہیل آفریدی نے محض حکومتی امور تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی رہائی، 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ اور پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر بھی کھل کر گفتگو کی ہے۔
سہیل آفریدی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں وسیم بادامی کو انٹرویو دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دینے کے باعث انہیں نااہل یا گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر انہیں گرفتار یا نااہل کیا گیا تو اس حوالے سے ان کا ویڈیو پیغام پہلے ہی موجود ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کی کال محض انفرادی فیصلہ نہیں بلکہ پارٹی مشاورت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی ردعمل سامنے آ رہا ہے اور پارٹی کارکن یہ سوال کر رہے ہیں کہ اسلام آباد کی طرف مارچ کے اعلان میں تاخیر کیوں کی گئی۔
سہیل آفریدی کے حالیہ انٹرویوز کا ایک اہم پہلو عمران خان کے بارے میں ان کی کھل کر گفتگو ہے۔ سیاسی حالات کے موجودہ تناظر میں پی ٹی آئی قیادت کے لیے بانی چیئرمین کے معاملے پر میڈیا کے ذریعے واضح اور براہ راست پیغام دینا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
انٹرویوز میں سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کو پارٹی کے آئندہ احتجاجی لائحہ عمل سے جوڑتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنا ہی 27 ستمبر کے احتجاج کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے، کوئی مسلح گروہ نہیں، اس لیے سیاسی مطالبات کے لیے سیاسی اور عوامی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی مبصرین ان انٹرویوز کو محض میڈیا کوریج حاصل کرنے کی کوشش کے بجائے ایک منظم سیاسی کمیونیکیشن حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ سہیل آفریدی کی میڈیا پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی آئی ہے۔
عہدیدار کے مطابق یہ کوئی ’پالیسی شفٹ‘ نہیں بلکہ وزیراعلیٰ نے اب ٹی وی چینلز سے براہ راست بات کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔
ان کے مطابق اس تبدیلی کا بنیادی مقصد 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے سیاسی مہم چلانا ہے۔ یعنی ٹی وی انٹرویوز کو پی ٹی آئی کے احتجاجی بیانیے کو زیادہ بڑے ناظرین تک پہنچانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار طارق وحید کے مطابق سہیل آفریدی کے ٹی وی انٹرویوز اس لیے بھی اہم ہیں کہ ان کا لب و لہجہ جلسوں میں کی جانے والی تقاریر سے مختلف نہیں تھا۔
ان کے خیال میں اگر یہ انٹرویوز کسی ممکنہ مفاہمت کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں تو سہیل آفریدی کے لہجے میں نرمی نظر آنی چاہیے تھی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔
ان کے مطابق ممکن ہے کہ پی ٹی آئی یا سہیل آفریدی کو کسی سطح پر ’گرین سگنل‘ ملا ہو، تاہم یہ بھی واضح نہیں کہ یہ اشارہ مستقل نوعیت کا ہے یا عارضی۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ اگر احتجاجی سیاست میں شدت آتی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوتی تو کیا موجودہ ماحول برقرار رہے گا؟ یا پھر یہی ’گرین سگنل‘ کسی مرحلے پر ’ریڈ سگنل‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے؟
سہیل آفریدی کے حالیہ انٹرویوز کو دیکھا جائے تو ان کی گفتگو کا مرکزی محور 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہی دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے انہیں ’سٹریٹ موومنٹ‘ کی تیاری کا اختیار دیا تھا، تاہم مارچ کی حتمی کال سیاسی کمیٹی کی ذمہ داری تھی۔
ان کے مطابق احتجاج کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے اور پارٹی قیادت اس حوالے سے ایک ہی صفحے پر ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ علیمہ خان لانگ مارچ میں شریک ہوں گی جبکہ علی امین گنڈاپور سمیت پارٹی کی دیگر اہم قیادت بھی ایک کنٹینر پر موجود ہوگی۔
اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو خیبر پختونخوا کی حکومت اور پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کے درمیان تعلق مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ کے مطابق پارٹی کا بنیادی مطالبہ واضح ہے: عمران خان کی رہائی اور ان کی صحت کا خیال رکھا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کا ٹی وی چینلز پر آنا بھی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی مہم کا حصہ ہے اور پارٹی کے پاس جو بھی وسائل موجود ہیں، انہیں سیاسی مہم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ان کے مطابق میڈیا انٹرویوز نشر کرتا ہے یا نہیں، پی ٹی آئی اپنی مہم جاری رکھے گی۔
سہیل آفریدی کے حالیہ ٹی وی انٹرویوز نے ایک اہم سیاسی سوال ضرور پیدا کر دیا ہے: کیا پی ٹی آئی نے احتجاجی
ایک جانب وزیراعلیٰ ہاؤس اسے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی مہم قرار دے رہا ہے، دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار اس اچانک تبدیلی کو وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
تاہم ان انٹرویوز کی اصل اہمیت اس وقت واضح ہوگی جب 27 ستمبر قریب آئے گا اور حکومت، پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کے درمیان سیاسی ماحول کس سمت جاتا ہے۔

 

ڈیجیٹل بینکنگ ایپ ایزی پیسہ سخت عوامی تنقید کی زد میں کیوں؟

فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سہیل آفریدی کا خاموش رہنے سے مین اسٹریم میڈیا پر آ کر براہ راست اور جارحانہ سیاسی مؤقف پیش کرنا محض ایک میڈیا سرگرمی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا اہم اشارہ بن چکا ہے۔

Back to top button