افغان حکومت میں پاکستان کے ساتھ کون ہے اور خلاف کون ہے ؟

افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف تحریک طالبان کی کھلی حمایت اور سرپرستی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات مسلسل بگڑتے ہوئے اب سرحدی جنگوں سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت کی طرح پاکستان کی افغانستان کے ساتھ بھی ایک بڑی جنگ ہو سکتی ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی اپنی ایک تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کی پاکستان میں کھلی اور مسلسل دہشت گردی اب صرف اندرونی سیکیورٹی چیلنج نہیں رہا بلکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ سرحدی جھڑپوں کی بنیادی وجہ بھی بن گیا ہے۔ لہٰذا ان کے خیال میں فغانستان کی طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان تعلقات نارمل کرنے کے لیے پہلی اور لازمی شرط افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف ٹی ٹی پی کی سرپرستی کا خاتمہ ہے۔
عامر خاکوانی بتاتے ہیں کہ افغان طالبان حکومت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 2021 میں کابل میں طالبان حکومت بننے کے بعد وہاں پرو پاکستان طالبان لیڈرشپ کی بجائے اینٹی پاکستان قیادت کو اقتدار میں زیادہ اور موئثر حصہ مل گیا۔ اس وقت افغان طالبان کی قیادت قندھاری گروپ کے پاس ہے، جو کہ پرو پاکستان سراج الدین حقانی گروپ سے زیادہ طاقتور ہے۔ افغان عبوری حکومت کا قندھاری گروپ پاکستان مخالف سوچ رکھتا ہے اور ٹی ٹی پی کو مکمل سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور وزیر دفاع ملا یعقوب قندھاری گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، جو کہ اپنے پاکستان مخالف موقف پر مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
دوسری طرف افغانستان کے وزیر داخلہ کمانڈر سراج الدین حقانی پرو پاکستان گروپ کے سرخیل سمجھے جاتے ہیں۔ وہ کم از کم دو دہائیوں تک اپنے والد اور خاندان کے ہمراہ پاکستان میں رہائش پذیر رہے۔ اسی لیے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان معاملات بہتر کرنے کی کوششں بھی کیں۔ چونکہ سراج حقانی نے پاکستان سے پرانے تعلقات کو مقدم رکھا لہذا طالبان حکومت کا قندھاری گروپ ان کے خلاف ہو چکا ہے۔ قندھاری گروپ کے دباؤ کی وجہ سے سراج الدین حقانی فیصلہ سازی میں حقانی پیچھے کر دیے گئے ہیں چنانچہ کابل کی عبوری حکومت کھل کے ٹی ٹی پی کی حمایت اور سرپرستی کر رہی ہے۔
عامر خاکوانی بتاتے ہیں کہ طالبان حکومت میں قندھاری گروپ کے غلبہ اور اس کے پاکستان مخالف رویے نے طالبان حکومت کی سرکاری پالیسی کو پرو ٹی ٹی پی کر رکھا ہے۔ اسی لیے افغان طالبان حکومت پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کرنے والی تحریک طالبان کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کو تیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں کابل اور قندھار پر جو فضائی حملے کیے ان کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ قندھاری گروپ پاکستان کو توڑنے کے در پے بلوچ لبریشن آرمی جیسے دیگر علیحدگی پسند گروہوں کی فنڈنگ میں ملوث پایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بلوچ لبریشن آرمی کو بھارت سے بھی فنڈنگ مل رہی ہے۔ لہذا جب حال ہی میں افغان سرحد سے پاکستان پر حملے ہوئے تو جوابی کاروائی میں افغانستان میں موجود تحریک طالبان کے ٹھکانوں پر شدید ترین بمباری کی گئی۔
عامر خاکوانی کے مطابق پاک فوج ٹی ٹی پی کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو ملکی بقا کی جنگ قرار دیتی ہے، کیونکہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں مسلسل دہشتگردی اور امن کی خلاف ورزی کا باعث بن رہی ہیں۔ اس کے برعکس، بعض سیاسی حلقے، خاص کر تحریک انصاف اور کے پی کے کی صوبائی حکومت، فوجی آپریشنز پر اعتراض کرتے ہیں اور طالبان مذاکرات کی راہ پر زور دیتے ہیں۔ عامر خاکوانی پی ٹی آئی کے اس اس موقف کو سیاسی مفادات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، جو قومی سلامتی کے لیے بہت ذیادہ نقصان دہ ہے۔ انکے مطابق یہ سیاسی تفرقہ عوامی سطح پر بھی جھلکتا ہے، جہاں پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بریگیڈ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی حمایت میں متحرک نظر آتا ہے۔
پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بندش: تاجروں کو کروڑوں کا نقصان
سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ چین، روس اور قطر نے پاک افغان تنازع میں ثالثی کی کوششیں کیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تک ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی جانب سے ملنے والی مالی، فوجی اور سیاسی مدد جاری رہے گی، کوئی ثالثی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ افغان طالبان کی حمایت کے بغیر تعلقات کا نارمل ہونا محال ہے، اس لیے مسئلہ کی جڑ پر قابو پانا ایک ضروری شرط ہے۔
پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد تحریک انصاف والے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ پاکستان امریکا کی ہدایات پر کام کر رہا ہے، جو کہ سراسر گمراہ کن جھوٹ ہے۔ اصل مسئلہ پاکستان میں تحریک طالبان کی جانب سے مسلسل ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کا ہے۔ افغان سرپرستی میں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں پاکستانی قوم کے لیے براہ راست خطرہ ہیں لہذا ان کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان کے تربیتی مراکز کو ختم کروایا جائے۔ عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں لازمی ہو چکا ہے کہ پاکستانی سیاست دان، سول و عسکری حلقے اور عوام اپنی صف بندی کرلیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ یا تو وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے ساتھ۔ “دونوں مسلمان ملک ہیں، لڑائی نہیں ہونی چاہیے” جیسے مبہم بیانات اب مؤثر نہیں رہے۔ سچ یہ ہے کہ جب تک تحریک طالبان کی سرپرستی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، پاک افغان تنازع جاری رہے گا۔
