نئے صوبے PTI کیلئے اچھی اور حکمران اتحاد کیلئے بری خبر کیوں؟

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی تجویز کے بعد سے دونوں بڑی اتحادی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت نے اس کی مخالفت کی ہے، لیکن مرکزی قیادت بشمول نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے تاحال خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ شریف اور بھٹو خاندان کی جانب سے اس تجویز پر ابھی تک کوئی واضح عوامی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس خاموشی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں جماعتیں یہ جانتی ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس کی تجویز محض ایک انفرادی رائے نہیں بلکہ اسکے پیچھے طاقتور حلقوں کی سوچ کارفرما ہے، اسی لیے فی الحال "ویٹ اینڈ سی” کی پالیسی اختیار کی گئی ہے تاکہ حالات کا رخ واضح ہونے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

اسلام آباد کے باخبر حلقوں میں اس دوران ایک اور غیر معمولی دعویٰ بھی گردش کر رہا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہیں تحریک انصاف کی مکمل حمایت کا پیغام مل چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اس تجویز کی راہ میں رکاوٹ بنیں تو طاقتور حلقوں کو مجبوراً تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنا پڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں موجودہ اتحادی حکومت کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ تاہم کئی سینئر تجزیہ کار اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی نظام اتحادی حکومت کے سہارے کھڑا ہے اور اتحادی حکومت بھی اسی نظام کا حصہ ہے، لہٰذا اگر اس توازن کو نقصان پہنچا تو پورا سیاسی ڈھانچہ زمین بوس ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازوں کے لیے زیادہ دانشمندانہ راستہ یہی ہوگا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ڈنڈا دے کر مجبور کرنے کی بجائے اعتماد میں لے کر آگے بڑھا جائے، نہ کہ تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں اپنا منہ کالا کیا جائے اور ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دیا جائے۔

یاد ریے کہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے بیان کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے یا موجودہ آئینی اور انتظامی نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی گورننس کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بحث تب شروع ہوئی جب اسلام آباد میں ایک معاشی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ نظام "کولیپس” کر چکا ہے اور ملک کے مسائل کا دیرپا حل نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتظامی یونٹس کو چاہے صوبے کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے، اس معاملے کو عوامی سطح پر زیر بحث لانا ضروری ہے۔

وزیر داخلہ نے حکومت کے مسلسل خسارے کے بجٹ، بڑھتے ہوئے قومی قرضے اور گورننس کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پورے نظام کو ازسرنو ترتیب نہیں دیا جاتا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ محسن نقوی نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر ملک کے بنیادی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ کریں۔ ان کے مطابق خواہ یہ مذاکرات ایک دن جاری رہیں، ایک ماہ یا ایک سال، لیکن سیاسی قیادت کو نئے انتظامی یونٹس سمیت ہر بڑے قومی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف سیمینارز، تقاریب یا بیانات سے ملک کے حالات تبدیل نہیں ہوں گے بلکہ سیاسی قوتوں کو مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر نظام کو بہتر نہ بنایا گیا تو معاشی اور انتظامی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

محسن نقوی کے بیان کے اگلے ہی روز پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی گڈ گورننس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا اور ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں یا کسی بھی انتظامی تبدیلی کا فیصلہ صرف آئین، پارلیمان اور منتخب سیاسی قیادت کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 1972 کے مقابلے میں آج پاکستان کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے جبکہ صوبوں کی تعداد وہی ہے، اس لیے یہ بحث جائز ہے کہ آیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوامی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق عوام کی خواہشات اور منتخب نمائندوں کی رائے کو ہر فیصلے میں بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے محسن نقوی کے بیان پر نسبتاً سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ انتظامی اصلاحات کی ضرورت سے بڑی حد تک اتفاق کرتے ہیں، تاہم اس نوعیت کی گفتگو کاروباری فورمز کے بجائے پارلیمان اور وفاقی کابینہ جیسے آئینی اداروں میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ نظام میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کیا جائے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے لکھا کہ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین برس سے ملک کے انتہائی بااثر عہدوں پر فائز ہیں، اس لیے اگر وہ نظام میں بنیادی تبدیلی چاہتے تھے تو اس پر پہلے بھی پیش رفت کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی اداروں کو پس منظر میں رکھ کر ایسی تجاویز دینا مناسب طرز عمل نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے محسن نقوی کے اس مؤقف کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا کہ موجودہ نظام نتائج دینے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ تاہم انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی گڈ گورننس سے متعلق گفتگو کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سویلین اداروں کو بھی اسی سطح کا کردار ادا کرنا ہوگا جیسا سکیورٹی فورسز ادا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ہائبرڈ نظام کی کامیابی ہی ملکی استحکام کی ضمانت ہے۔ ادھر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نئے صوبوں کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اختیارات کی غیر معمولی مرکزیت گورننس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات وفاق سے صوبوں کو تو منتقل ہوئے لیکن صوبوں نے انہیں نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا، جس کے باعث تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی شعبوں میں مسائل بڑھتے گئے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اگر بااختیار بلدیاتی نظام قائم نہیں کیا جاتا تو ملک کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مستقبل میں 15 سے 18 نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانا ناگزیر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ترکی، بھارت اور افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی دنیا بھر میں ایک معمول کی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی جماعت نئے صوبوں کی اصولی مخالف نہیں، تاہم اس کے لیے آئین میں موجود طریقہ کار پر سختی سے عمل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جس صوبے کی تقسیم مطلوب ہو، اس کی صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری اور بعد ازاں پارلیمان کی آئینی ترمیم کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔

آئینی ماہرین کے مطابق بھی پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا راستہ آئین کے آرٹیکل 239(4) سے ہو کر گزرتا ہے، جس کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت اور پھر پارلیمان کی منظوری لازمی ہے۔ اسی آئینی طریقہ کار کے تحت 2018 میں قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائج کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کی تجویز وفاق کو کمزور کرے گی اور پاکستان کے وجود کو خطرے میں ڈال دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں بااختیار ضلعی حکومتوں کا نظام فعال ہوتا تو شاید نئے صوبوں کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔

دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے محسن نقوی کی تقریر کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے 1998 میں تب کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی وہ تقریر یاد آتی ہے جس میں انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز دی تھی اور جس کے بعد ملک میں ایک بڑا سیاسی بحران پیدا ہوا تھا اور آرمی چیف کو استعفی دینا پڑ گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت خود اپنی کارکردگی پر اس قدر سخت تنقید کر رہی ہے تو پھر اسکی سیاسی ذمہ داری بھی قبول کی جانی چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ نئے صوبوں کی بحث محض ایک نظریاتی مباحثہ رہتی ہے یا اسے عملی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم فی الحال تمام نگاہیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور طاقتور ریاستی حلقوں کے آئندہ طرز عمل پر مرکوز ہیں کیونکہ انہی کے فیصلے اس بحث کی سمت اور ملک کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا تعین کریں گے۔

Back to top button