کیا نئے صوبے بنانے کی کوشش پاکستان کو توڑ دے گی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا چورن بیچنے والوں کا مقصد بظاہر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے، لیکن دراصل یہ کوشش نہ صرف تاریخ اور جغرافیے سے انحراف ہے بلکہ پاکستان کو توڑنے کی بنیاد ثابت ہو گی۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے حال ہی میں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ملک میں نئے انتظامی صوبوں کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔ اس تجویز نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہیں یا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہی مسائل کا حقیقی حل ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے تو نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل ضروری ہے کیونکہ موجودہ چار بڑے صوبوں کا حجم گورننس کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔
اسی تناظر میں تجزیہ کار سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یقیناً وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم نئے صوبوں کی تشکیل ایک نئے اور غیر ضروری تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا، ضلعی یا ڈویژنل سطح پر اختیارات منتقل کرنا اور عوام تک حکومتی نظام کو قریب لانا دراصل وہ "امرت دھارا” ہے جو گورننس کے بیشتر مسائل کا علاج بن سکتی ہے، جبکہ نئے صوبوں کی تشکیل ایک ایسا "پواڑا” ثابت ہو سکتی ہے جو ملک میں نئی سیاسی کشیدگی اور لسانی تنازعات کو جنم دے گا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا معاملہ کالا باغ ڈیم اور متنازع نہری منصوبوں کی طرح ایک حساس سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے۔ سندھ میں مقامی سندھی آبادی صوبے کی تقسیم کی سخت مخالف ہے، جبکہ پنجاب کی تقسیم پر اگرچہ اس وقت زیادہ مزاحمت دکھائی نہیں دیتی، تاہم اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں واضح تضاد کا شکار ہیں۔ سہیل وڑائچ کا مؤقف ہے کہ پیپلز پارٹی ایک طرف سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے جبکہ دوسری جانب جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے، حتیٰ کہ پیپلزپارٹی کی تنظیمی ساخت بھی جنوبی اور وسطی پنجاب میں تقسیم کی جا چکی ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں بھی اپنی تنظیمی تقسیم مختلف خطوں کی بنیاد پر کر چکی ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی پہلے ہی صوبے کی تقسیم کی مخالفت کر چکے ہیں، جبکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن حلقوں نے چند برس قبل قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی حمایت کی تھی، وہی اب اس صوبے کو مزید تقسیم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کا کمزور ہونا ہے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 140 اے پر آج تک مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے اختیارات اور وسائل عوام کی دہلیز تک منتقل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی 1976ء میں لاہور میں دنیا بھر کے ماہرین بلدیات کو مدعو کرکے مقامی حکومتوں کے مؤثر نظام پر سفارشات طلب کی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصف صدی قبل بھی اس خلا کو محسوس کیا جا رہا تھا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے اگرچہ وفاق سے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے، لیکن اضلاع اور مقامی حکومتیں اب بھی اختیارات اور وسائل سے محروم ہیں۔ ان کے بقول جنرل پرویز مشرف کا بلدیاتی نظام پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ بااختیار مقامی نظام تھا، اگرچہ اس میں صلاحیت اور احتساب کے حوالے سے خامیاں موجود تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے اور نجی شعبے کے ماہرین کو شامل کیا جائے تو یہی نظام گورننس کے مسائل کا مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے بعض دانش ور نئے صوبوں کے حق میں مضبوط دلائل پیش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے نزدیک نئے صوبے بنانے کا تصور پاکستان کو مضبوط کرنے کے بجائے مستقبل میں مزید تقسیم کی بنیاد بن سکتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اگر سندھ تقسیم ہوا تو ایک طرف مہاجر اکثریتی اور دوسری جانب سندھی اکثریتی صوبے وجود میں آئیں گے، جس سے علیحدگی پسند رجحانات کو تقویت مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں مختلف ادوار میں مہاجر اور سندھی آبادی نے ایک دوسرے کے مقابلے میں پاکستان کی وحدت کے توازن کو برقرار رکھا، اس لیے اس قدرتی توازن کو چھیڑنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔
بلوچستان کے بارے میں سہیل وڑائچ کا مؤقف ہے کہ بلوچ اور پشتون آبادی کا موجودہ توازن صوبے کے استحکام کے لیے اہم ہے۔ ان کے مطابق اگر الگ بلوچ یا پشتون اکثریتی صوبے بنائے گئے تو نئی قوم پرستانہ تحریکیں جنم لے سکتی ہیں اور سکیورٹی کے مزید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
پنجاب کے حوالے سے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگرچہ پنجاب کی تقسیم بظاہر آسان دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی دور رس ہوں گے۔ ان کے مطابق پنجاب برصغیر کی قدیم ترین سیاسی وحدتوں میں سے ایک ہے اور پاکستان کی دفاعی، سیاسی اور معاشی طاقت کا بنیادی مرکز بھی یہی صوبہ ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پنجاب نے قیام پاکستان کے بعد اپنی زبان اور ثقافتی شناخت تک کو قومی وحدت کے لیے پس منظر میں رکھا، تاہم اگر اس صوبے کو تقسیم کیا گیا تو اس کے نتیجے میں پنجابی قوم پرستی کو نئی تقویت مل سکتی ہے، جو اس وقت نمایاں سیاسی قوت نہیں، لیکن اس کے بیج معاشرے میں موجود ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں کی سیاسی طاقت کا بڑا مرکز پنجاب ہے، اس لیے اگر انہوں نے پنجاب کی تقسیم کی حمایت کی تو ان کی اپنی سیاسی بنیادیں کمزور ہو سکتی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی پہلے ہی پنجاب میں اپنی سندھ مرکوز سیاست کے باعث عوامی حمایت کھو چکی ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ملک ہوں یا صوبے، شہر ہوں یا دیہات، ہر معاشرہ اپنی تاریخ، ثقافت اور جغرافیے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ان بنیادی حقیقتوں میں زبردستی کی جانے والی تبدیلیاں اکثر خطرناک ردعمل کو جنم دیتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر عوام سے ریفرنڈم کے ذریعے رائے لینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو سوال نئے صوبوں کی تشکیل کا نہیں بلکہ اختیارات کی ضلعی اور ڈویژنل سطح تک منتقلی کا ہونا چاہیے، کیونکہ یہی راستہ بہتر طرز حکمرانی کی ضمانت بن سکتا ہے، جبکہ نئے صوبوں کی تشکیل ایک نئے سیاسی تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔
