بڑےڈیم بناکرسیلاب کی تباہی کاریاں روکناممکن کیوں نہیں ہے؟

پاکستان میں سیلابی تباہ کاریوں کے بعد عوامی سطح پر یہ رائے عام سننے کو ملتی ہے کہ اگر ملک میں مزید ڈیمز تعمیر کیے جاتے تو لاکھوں ایکڑ زمین، انفراسٹرکچر اور ہزاروں انسانی جانیں بچ جاتیں۔یہ خیال بظاہر منطقی محسوس ہوتا ہے تاہم ماہرین اس نظریے کو غلط العام قرار دیتے ہیں ماہرین کے مطابق سیلاب جیسی قدرتی آفات کے پیچیدہ اسباب کو صرف ڈیمز کی کمی سے جوڑ دینا مسئلے کی سادہ کاری ہے، جو نہ صرف اصل حقائق کو نظرانداز کرتی ہے بلکہ پالیسی سازوں کو بھی غلط سمت میں لے جاتی ہے۔ اس قسم کی عوامی سوچ حقیقت سے زیادہ جذبات اور سطحی تجزیے پر مبنی محسوس ہوتی ہے۔ ڈیم اگرچہ پانی ذخیرہ کرنے اور توانائی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم شدید بارشوں اور غیر معمولی سیلابی ریلوں جیسی قدرتی آفات سامنے ان کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈیمز کا بنیادی مقصد پانی کو ذخیرہ کرنا اور اس کا بتدریج استعمال ممکن بنانا ہے۔ تاہم جب دریاؤں میں غیر معمولی بارشوں یا گلیشیئرز کے پگھلنے سے اچانک بہت زیادہ پانی آتا ہے تو ڈیمز بھی اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پاتے۔ بعض اوقات ڈیموں کے فلڈ گیٹس کھولنے پڑتے ہیں، جس سے نیچے کے علاقوں میں پانی مزید شدت کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور تباہی کا سبب بنتا ہے۔

واٹر ریسورس ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سیلاب کو روکنے کے لیے صرف ڈیمز پر انحصار کرنا ایک سادہ لیکن غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ سیلابی پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے فلڈ پلاننگ، اسپیل ویز، حفاظتی پشتے، جنگلات کی بحالی اور بہتر ڈرینیج سسٹم زیادہ موثر حل ہیں کیونکہ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک جہاں بڑے بڑے ڈیمز موجود ہیں، وہاں بھی غیر معمولی بارشوں اور طوفانی ریلوں نے بڑے پیمانے پر سیلابی نقصانات پہنچائے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اصل مسئلہ صرف پانی کے ذخیرے یا شدت کا نہیں بلکہ زمین کے استعمال، بغیرمنصوبہ بندی کے نئی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کی تعمیر، اور دریائی راستوں پر قبضہ بھی سیلابی تباہ کاریوں کو بڑھا دیتے ہیں۔ آبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر ڈیم موجود ہوتے تو سیلاب کو روکا جا سکتا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ کافی حد تک غلط ہے۔ کیونکہ سیلاب میں جو مقدارِ پانی دریا کے بیسن میں آتی ہے، اسے ایک نہیں بلکہ کئی ڈیموں میں بھی مکمل طور پر ذخیرہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر دریائے چناب پر انڈیا نے آٹھ ڈیم تعمیر کر رکھے ہیں، جن میں سے پانچ اس وقت فعال ہیں۔ اگر ڈیم واقعی سیلاب روک سکتے تو دریائے چناب میں سیلابی کیفیت پیش نہ آتی۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ یہ درست ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کے ڈیم ’رن آف دی ریور‘ ہیں جن کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت زیادہ نہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں سے جب آٹھ لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا تو پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ’ماضی میں اس معاہدے کے تحت انڈیا لمحہ بہ لمحہ پاکستان کو پانی چھوڑنے کی تفصیلات دینے کا پابند تھا، مگر اب انڈیا وہ معلومات سفارتی ذرائع سے صرف ایک جملے کی صورت میں دیتا ہے کہ ’پانی چھوڑ دیا گیا ہے‘ تفصیلات نہیں دیتا، اس رویے سے ہماری مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔‘

اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان مثبت اور بروقت رابطہ ہوتا تو انڈیا اپنے ڈیموں کا پانی پہلے ہی خارج کرنا شروع کر دیتا، جس سے پاکستان میں سیلاب کی شدت کم کی جا سکتی تھی۔  لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیلاب کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، ڈیم صرف شدت کم کر سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریاں روکنے کیلئے ایک جامع حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔ارلی وارننگ سسٹم کو بہتر بنانے، بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہونگے تاکہ پانی ذخیرہ کرنے اورریگولیٹ کرنے کے ساتھ سیلابی تباہ کاریوں کو محدود کیا جا سکے

Back to top button