مریم نواز، حمزہ شہباز کی راہ میں رکاوٹ کیوں بن گئیں؟

پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں اختلافات کی وجہ سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کو نون لیگ کا صوبائی صدر بنانے کا معاملہ لٹک گیا۔سیاسی و تنظیمی حلقوں میں اس ممکنہ تقرری کو محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ پارٹی کے مستقبل کے سیاسی خدوخال متعین کرنے والے اہم فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ مبصرین کے مطابق، پنجاب میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل، کارکنوں کو متحرک کرنے اور آئندہ سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کی حکمتِ عملی میں حمزہ شہباز کو مرکزی کردار دیے جانے پر غور کیا جا رہا تھا، تاہم قیادت کے اندر پائے جانے والے تحفظات اور اختلافِ رائے کی وجہ سے حمزہ شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صوبائی صدر مقرر کرنے کا معاملہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے سامنے پنجاب میں فعال اور متحرک سیاسی کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس تجویز کو پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل رہی، جن میں خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ نمایاں ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے حمزہ شہباز کو پنجاب کی صدارت سونپنے کی سفارش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صوبے میں پارٹی کو مزید منظم اور فعال بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تاہم اس حمایت کے باوجود پارٹی قیادت کی جانب سے اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ اہم تقرری مسلسل مؤخر ہوتی جا رہی ہے۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران حمزہ شہباز شریف کو وزیراعظم کے پبلک افیئرز یونٹ کا چیئرمین بنانے اور انہیں وفاقی وزیر کا درجہ دینے کی تجویز بھی زیر غور رہی۔ اس مقصد کے لیے لاہور کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں دفتر کی تیاری تک مکمل کر لی گئی تھی، لیکن یہ تقرری بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے میں بھی آخری منظوری نواز شریف نے دینی تھی، جو تاحال نہیں دی گئی۔

مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب سے علیحدگی کے بعد حمزہ شہباز شریف نے نسبتاً خاموش سیاسی زندگی اختیار کیے رکھی۔ اس دوران وہ نہ تو لاہور میں کوئی مستقل سیاسی دفتر قائم کر سکے اور نہ ہی پارٹی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر دکھائی دیے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ان کی سیاسی مصروفیات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر متحرک کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔

حمزہ شہباز کے قریبی حلقوں کا مؤقف ہے کہ وہ پنجاب کی تنظیمی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے حامی یاد دلاتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں، جب نواز شریف جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، حمزہ شہباز نے پاکستان میں رہتے ہوئے پارٹی کارکنوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا، سیاسی دباؤ کا سامنا کیا اور جیل بھی کاٹی۔ ان کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی بقا اور کارکنوں کے حوصلے بلند رکھنے میں حمزہ شہباز کا کردار اہم رہا ہے۔

دوسری جانب پارٹی کے اندر موجود بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس تقرری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف ہیں، جو فی الحال حمزہ شہباز کو یہ اہم تنظیمی منصب دینے کے حق میں نظر نہیں آتیں۔ اگرچہ اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی مبصرین اسے مسلم لیگ (ن) کی اندرونی صف بندی اور مستقبل کی قیادت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔اسی تناظر میں یہ اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ نواز شریف پنجاب کی تنظیمی قیادت میں وسیع تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔ پنجاب کے صدر اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر نئے تقرر کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہی، لیکن ابھی تک نہ تو رانا ثنا اللہ کی جگہ کسی نئے صوبائی صدر کا اعلان ہوا ہے اور نہ ہی احسن اقبال کے منصب سے متعلق کوئی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پنجاب مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہاں کی تنظیمی قیادت کا فیصلہ پارٹی کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایسے میں حمزہ شہباز کی ممکنہ تقرری محض ایک تنظیمی تبدیلی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اب تمام نگاہیں نواز شریف کے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ حمزہ شہباز کو پنجاب کی قیادت سونپتے ہیں یا پارٹی کے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

Back to top button