ٹرمپ نے ہاتھ کر دیا، پاکستان غزہ امن منصوبے سے پیچھے ہٹنے لگا

پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی مخالف اور سخت عوامی رد عمل کے بعد شہبازحکومت بظاہر ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے سے دوری اختیار کرتی نظر آتی ہے تاہم مبصرین کے مطابق مجوزہ امن منصوبے پر تحفظات کے باوجود جلد پاکستان سمیت کئی اہم مسلم ممالک اس کی حمایت کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔ جس سے خطے میں نئی سفارتی پیش رفت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے امن منصوبے کے نکات شیئر کرنے سے گھنٹوں پہلے ہی وزیراعظم شہباز شریف نے اس امن منصوبے کا خیر مقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے‘ بعدازاں امن منصوبے کے اعلان کے موقع پر صدر ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اُن کے غزہ منصوبے کے ’100 فیصد‘ حامی ہیں۔ مگر جیسے ہی اس منصوبے کی تفصیلات وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر شائع کی گئیں تو بظاہر پاکستانی کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شہباز شریف کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور جبری بے دخلی کے خاتمے جیسے اہم نکات شامل نہیں، اس لیے پاکستان اس کی تائید نہیں کرتا۔ حکومت کے اِس بدلتے موقف کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے بارے پاکستانی مؤقف میں یہ اچانک تبدیلی کیوں رونما ہوئی؟ کیا پاکستان نے ابتدا میں ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ کیا تھا؟ کیا حالیہ موقف کی تبدیلی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اصرار پر منصوبے میں کی گئی ترامیم کا ردعمل ہے، یا اس کے پیچھے پاکستان کا اندرونی سیاسی دباؤ کارفرما ہے؟
واضح رہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی جماعتوں تک سبھی ٹرمپ کے منصوبے پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں ٹرمپ کے غزہ منصوبے اور پاکستان کی جانب سے اس کی حمایت پرحزب اختلاف کے علاوہ حکومتی اتحادی جماعتوں حتی کہ نون لیگ کے اپنے مرکزی رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے میں دو ریاستی حل کا واضح ذکر نہیں ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے اس منصوبے کو ’اقوام متحدہ کے قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور گولان پہاڑیوں پر قبضے کو جائز قرار دینا علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔
تاہم وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے معاہدے میں اسرائیل کے انخلا کو حماس کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ یہ شرط اصل ڈرافٹ کا حصہ نہین تھی۔ سامنے آنے والے معاہدے میں پاکستان کی تجویز کردہ تمام ترامیم شامل نہیں اس لئے وہ اس ڈرافٹ کی تائید نہیں کرتے تاہم وہ مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کے مؤقف پر اب بھی قائم ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کسی ابراہم ایکارڈ کا حصہ نہیں بننے جا رہا۔ ہماری پالیسی وہی ہے، ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف نہیں جا رہے۔ ہمارا مقصد صرف انسانی مدد، خون ریزی روکنا اور ویسٹ بینک کو بچانا ہے۔ ہم اس کام کے لیے تمام مسلم ممالک کے ساتھ پرعزم ہیں اور جب بھی ضرورت ہو گی ہم دستیاب ہوں گے، ہم نے کمٹمنٹ دے دی ہے۔‘
تاہم مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والا مجوزہ منصوبہ جنگ کو ختم کرنے، یرغمالیوں کو آزاد کرانے، فلسطینی شہریوں کو انسانی امداد فراہم کرنے، ان کی جانوں کو لاحق خطرے کو ختم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو کے ذریعے پرامن مستقبل کی شروعات کا بہترین موقع ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے بارے عرب اور مسلم ممالک کی پوزیشن کیا ہو گی اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اگر اس معاہدے کے مطابق امن قائم نہ ہوا تو آنے والے دن فلسطینی عوام کو مزید مظالم برداشت کرنا پڑیں گے۔ ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان ٹرمپ کے مجوزہ امن معاہدے کی بھرپور تائید کر کے پیچھے کیوں ہٹا؟ پاکستان کی معاہدے بارے پالیسی میں اچانک تبدیلی کیوں آئی؟
مبصرین کے مطابق پاکستان نے صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن معاہدے سے مکمل دوری اختیار نہیں کی بلکہ صرف تحفظات کا اظہار کیا ہے آنے والے دنوں میں تحفظات کا ازالہ ہونے کے بعد پاکستان اس معاہدے کی بھرپور تائید کر سکتا ہے۔ منصوبے پر تحفظات ہونے کے باوجود پاکستان سمیت آٹھ اہم مسلم ممالک اس کی حمایت کرنے پر غور کر رہے ہیں اور لگتا ہے آنے والے چند دنوں میں اس حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی اس حوالے سے محتاط حکمت عملی صرف اس دستاویز یا منصوبے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ملکی کی اندرونی سیاست سے بھی ہے کیونکہ ایک ایسے ملک میں جہاں یہودی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ہاتھ ملانا آپ کے کیریئر کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے، وہاں نئے اور غیر روایتی حل کو اپنانا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے حکومت اس حوالے سے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے تاکہ معاہدے کی حمایت پر اسے لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔‘
