طیفی بٹ پولیس کی تحویل کے بغیر تنہا کراچی کیوں پہنچا ؟

طیفی بٹ کی مشکوک پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد نت نئے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو پنجاب پولیس ریڈ وارنٹ پر دبئی سے گرفتار کرکے پاکستان نہیں لائی تھی بلکہ طیفی بٹ ایک عام مسافر کے طور پر غیرملکی پرواز میں تنہا دبئی سے کراچی پہنچے تھے۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق لاہور کے رہائشی 68 سالہ تعریف گلشن بٹ عرف طیفی بٹ پرواز ای کے 606 جمعہ کی رات 12بج کر 48 منٹ پرکراچی پہنچے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ شخص، جو بغیر ہتھکڑی، بغیر پہرے اور بغیر شور شرابے کے امیگریشن کاؤنٹر پر اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا، اگلے چوبیس گھنٹوں میں “پولیس مقابلے” میں مارا جائے گا۔ ذرائع کے بقول کراچی ایئرپورٹ پر وہ ایک عام مسافر کے طور پر رات ڈیڑھ بجے لائن میں لگ کر امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے۔ ذرائع کے مطابق کراچی ائیرپورٹ پر آمد کے وقت طیفی بٹ کسی کی کسٹڈی میں نہیں تھے اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی پولیس اہلکار موجود تھا بلکہ ہیڈ کوارٹر سے ملنے والی ہدایت پر سسٹم میں نام ہونے کی وجہ سے طیفی بٹ کو امیگریشن کاؤنٹر سے حراست میں لے لیا گیا۔ جس کے بعد لاہور کے چوہنگ تھانہ کے مقدمہ نمبر 1163/24 میں مطلوب ملزم کے طور پر نام ہونے کی وجہ سے امیگریشن حکام نے پنجاب پولیس کو آگاہ کیا۔ اس دوران طیفی بٹ کراچی ایئرپورٹ پر 12 گھنٹے سرکاری تحویل میں رہے۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق جمعہ کی دوپہر کی پرواز سے لاہور سے سی سی ڈی کی پولیس پارٹی کراچی پہنچی۔ نماز جمعہ کے بعد دوپہر ڈھائی بجے امیگریشن حکام نے طیفی بٹ کو سی سی ڈی لاہور کی ٹیم کے حوالے کیا گیا۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق طیفی بٹ جب کراچی ائیرپورٹ پر پہنچے تھے تو ان کے پاس کوئی درہم تھا اور نہ ہی روپیہ، موبائل فون یا کوئی دیگر سامان بھی ان کے پاس موجود نہیں تھا۔ اسی لئے صرف 1 پاسپورٹ اور پہنے ہوئے کپڑوں اور کیپ کے ساتھ انھیں سی سی ڈی ٹیم کے حوالے کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سی سی ڈی کی ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران تعریف گلشن بٹ عرف طیفی بٹ نے کہا کہ "مجھے پتہ ہے کہ مجھے پاکستان کیوں بلوایا گیا ہے اور میں وہ مسئلہ حل کر دوں گا۔ ذرائع کے مطابق اگلے روز اس ہائی پروفائل ملزم کو کسی پرواز کی بجائے زمینی راستے سے کراچی سے لاہور کے لیے روانہ کیا گیا اور رحیم یار خان کے علاقے میں مشکوک پولیس مقابلے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
طیفی بٹ کی سامنے آنے والی پاسپورٹ کی کاپی کے مطابق تعریف بٹ یکم جنوری 1957 کو پیدا ہوئے۔ ان کے پاکستانی پاسپورٹ کی 10 سال کیلئے آخری تجدید 2 دسمبر 2015 میں کی گئی تھے جو 29 نومبر 2025 کو زائد المیاد ہوگا۔ طیفی نے اسی پاسپورٹ پر دبئی سے کراچی کا اپنا آخری سفر کیا تھا۔
خیال رہے کہ خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کا تعلق لاہور کے قدیم علاقے گوالمنڈی سے تھا طیفی بٹ شروع میں مارکیٹوں کے تنازعات اور پہلوانی گروپوں کی سرپرستی سے آگے بڑھے، مگر جلد ہی ان کا نام جرائم، بھتہ خوری، قبضہ گروپوں اور قتل کے مقدمات سے جوڑا جانے لگا۔ ان کے خلاف امیر بالاج ٹیپو قتل کیس سمیت کئی سنگین مقدمات درج تھے۔ یہ وہی کیس تھا جس میں لاہور کے مشہور ٹرانسپورٹر ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیر بالاج کو ایک شادی کی تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا اور جس نے لاہور کے دو طاقتور گروہوں، ٹرکاں والا گروپ اور بٹ گروپ کے درمیان دہائیوں پرانی دشمنی کو ایک بار پھر بھڑکا دیا۔
طیفی بٹ کو اس قتل کیس کا مرکزی ملزم قرار دیا گیا، جس کے بعد وہ دبئی فرار ہو گئے۔ تاہم، پاکستان میں سی سی ڈی نے بالاج قتل کے ملزمان کی فہرست دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا، اور اسی دوران طیفی بٹ کے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اگرچہ سرکاری مؤقف کے مطابق انہیں انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا گیا، لیکن ایئرپورٹ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود بخود ایک عام مسافر کی حیثیت سے وطن واپس آئے۔
طیفی بٹ کی شہرت صرف ایک گینگ لیڈر یا ملزم کی نہیں تھی بلکہ وہ لاہور کے پرانے سماجی اور کاروباری نیٹ ورک کا حصہ بھی تھے۔انہیں “گوالمنڈی کا ڈان” کہا جاتا تھا، ان کے اثرورسوخ والے حلقے پولیس، سیاست اور مقامی کاروباری برادری تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کا خاندان لاہور میں کئی پراپرٹی تنازعات اور کاروباری لین دین میں بھی فریق رہا ہے جبکہ بٹ برادری کے مختلف اراکین پہلوانی سے سیاست تک اپنے قدم جما چکےہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق بٹ خاندان پر زوال کا آغاز 2010 کے بعد ہوا جب ٹیپو ٹرکاں والا اور ان کے بیٹے یکے بعد دیگرے قتل ہوئے، جس کے بعد طیفی بٹ خاندان کے خلاف پولیس کی سخت کارروائیاں شروع ہوئیں۔ اسی تسلسل میں 2024 کے بعد احسن شاہ، لیلیٰ بٹ اور دیگر قریبی افراد بھی مختلف مقابلوں میں مارے گئے، جس کے بعد اب طیفی بٹ بھی مشکوک پولیس مقابلے میں اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے، یوں طیفی بٹ کا خاتمہ لاہور کے انڈرورلڈ کے ایک طویل اور خونی دور کا اختتام سمجھا جا رہا ہے۔
