حکومت تیز تر انٹرنیٹ کمپنی کی راہ میں رکاوٹ کیوں بن گئی؟

 

 

 

انٹرنیٹ کی بندش اور ڈاؤن سپیڈ کے مسائل کے ستائے پاکستانیوں کے تیز ترین انٹرنیٹ سروسز کی دستیابی کے خواب ٹوٹتے دکھائی دیتے ہیں، حکومت کی جانب سے ایلون مسک کی کمپنی سٹار لنک کو این او سی کے اجراء میں تاخیر کے بعد 2025میں کمپنی کا پاکستان میں اپنی سروسز کا آغاز ناممکن بنا دیا ہے۔ تاہم وفاقی وزیر آئی ٹی شیزہ فاطمہ کا دعویٰ ہے کہ عالمی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی سٹار لنک کو جلد پاکستان میں کام کرنے کا لائسنس جاری کر دیا جائے گا اور توقع ہے سٹار لنک رواں سال نومبر یا دسمبر تک پاکستانی عوام کو سروسز کی فراہمی شروع کر دے گی۔

 

تاہم ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر کا سٹار لنک کے نومبر یا دسمبر میں سروسز کی فراہمی کا دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہے کیونکہ ابھی تک پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ PSARB اور دیگر متعلقہ اداروں نے سٹار لنک کو زمینی تنصیبات اور منصوبہ بندی کے لیے عارضی اجازت نامہ تو دیا ہے تاہم ابھی تک باقاعدہ این او سی جاری نہیں کیا۔

 

پی ٹی اے حکام کے مطابق سٹار لنک کو این او سی جاری کرنے کا معاملہ ابھی تک پی ایس اے آر بی کے زیر غور ہے۔ ان کامزید کہناتھا کہ سٹار لنک کو این او سی کے اجراء کے حوالے سے ریگولیشنز کا مسودہ تیار ہو چکا ہے تاہم ان کی باضابطہ اشاعت باقی ہے، قواعد کی اشاعت اور منظوری کے بعد ہی سٹار لنک کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ ممکن ہو سکے گی۔ اس لئےسٹار لنک کی جانب سے پاکستان میں فوری سروسز کا آغاز ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سٹار لنک کے ساتھ ساتھ چین کی کمپنی اسپیس سیل اور ایمیزون کائپر سمیت کئی دیگر بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان میں سروسز کی فراہمی میں دلچسپی رکھتے ہیں مگر سبھی ادارے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ریگولیشنز کے اجرا کے منتظر ہیں۔ جیسے ہی اس حوالے سے قواعد سامنے آئیں گے تو لائسنسنگ کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

 

تاہم پی ایس اے آر بی کے سیکریٹری بلال خواجہ کے مطابق انٹرنیشنل انٹرنیٹ پروائیڈر کمپنیوں کیلئے ریگولیشنز کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے تمام  قواعد تکنیکی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی، اسپیکٹرم مینجمنٹ اور کمرشل مفادات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دئیے گئے ہیں۔ تاہم ان کی حتمی منظوری کا مرحلہ تمام پالیسی ساز اداروں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مکمل کیا جائے گا۔

 

عہدیدار کے مطابق حکومتی قواعد سامنے آنے کے بعد رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو گا جس میں کوئی بھی بین الاقوامی کمپنی یا تو براہِ راست لائسنس حاصل کر سکے گی یا کسی پاکستانی شراکت دار کے ذریعے سروس فراہم کر سکے گی۔ پی ٹی اے اس مقصد کے لیے ایک نیا ’فکسڈ سروسز لائسنس‘ متعارف کرا رہا ہے،قواعد سامنے آنے کے بعد لائسنس کے اجرا میں زیادہ سے زیادہ 4 ہفتے لگیں گے۔ تاہم پی ٹی اے حکام کے مطابق لائسنس ملنے کے بعد بھی سٹار لنک کو سامان درآمد، کسٹمز کلیئرنس، گراؤنڈ اسٹیشنز کی تنصیب، اور ٹیسٹنگ جیسے مراحل مکمل کرنے میں مزید 4 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس حساب سے امکان ہے کہ کمپنی کی سروسز اپریل 2026 سے پہلے پاکستان میں آپریشنل نہیں ہو سکیں گی۔

پی ٹی آئی کے جلسے سیاسی جنازے کیوں بنتے جا رہے ہیں؟

یاد رہے کہ ایلون مسک کی کمپنی سٹارلنک کے اس وقت درجنوں ممالک میں کئی لاکھ صارفین موجود ہیں جن میں شمالی امریکہ اور یورپ کہ بیشتر ممالک شامل ہیں۔ ان میں گھریلو اور کاروباری دونوں طرح کے صارفین موجود ہیں۔ تاہم ایشیا میں پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس میں ایلون مسک نے اپنی انٹرنیٹ کمپنی کو متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایلون مسک کی سٹار لنک نامی کمپنی سیٹلائٹس کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ سروس مہیا کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا مقصد ان افراد کو تیز ترین انٹرنیٹ مہیا کرنا ہے جو دور دراز یا دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور انھیں تیز انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ آپ پہاڑوں کی سیر پر ہوں، صحرا میں ہوں یا ملک کے کسی بھی دوردراز علاقے میں موجود ہوں، اسٹارلنک روایتی انٹرنیٹ سروسز کے مقابلے آپ کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ فراہم کرے گی۔ اسٹارلنگ بزنس صارفین کو 220Mbps ڈاؤن لوڈ اور 250Mbps تک کی اپ لوڈ اسپیڈ فراہم کر رہی ہے۔اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، سمندر کے بیچوں بیچ یا آسمان کی بلندیوں پر ہوں، آپ کو اسٹار لنک کی تیز ترین انٹرنیٹ سروس ہر جگہ دستیاب ہوگی۔ تاہم حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے اپریل 2026سے پہلے پاکستان میں سٹار لنک کی سروسز کی دستیابی ناممکن ہو گئی ہے۔

Back to top button