وکلاء برادری نے فروغ نسیم کی دھلائی کیوں کر دی؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکلا نے حکومتی ہرکارے کا کردار ادا کرنے والے وزیرقانون فروغ نسیم کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے تفصیلی فیصلہ کو غیر منصفانہ اور تضادات کا شکار قرار دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ سینئر وکلا کا کہنا ہے کہ آئین اور قانون نے جو تحفظ فراہم کیا ہے وہ سرینا عیسیٰ کا حق ہے، وکلا کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کا بیان حقائق کے منافی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کا نو ماہ بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کو اس اہم ترین معاملے پر سماعت کا پورا حق نہیں دیا گیا، صرف جج کی اہلیہ ہونے پر سرینا عیسیٰ کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن وزیرِ قانون فروغ نسیم نے عدالتی فیصلے کو غلط اور تضادات پر مبنی قرار دیا تھا۔
یہ تحریری فیصلہ جسٹس مقبول باقر ، جسٹس مظہر عالم ،جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس قاضی امین الدین نے تحریر کیا ، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا جس میں جسٹس فائز کی اہلیہ سرینا عیسٰی کی نظر ِثانی درخواستیں اکثریت سے منظور کی گئی تھی جب کہ سرینا عیسیٰ کے حق میں فیصلہ 10 رکنی لارجر بینچ نے چھ چار کے تناسب سے سنایا تھا۔
فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ واضح الفاظ کے ساتھ سنایا جاتا ہے کہ اس عدالت کے جج سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں دوسری طرف کوئی بھی شخص چاہے وہ اس عدالت کا جج کیوں نہ ہو اسے قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے کے مطابق جسٹس فائز عیسی فیملی کے خلاف ایف بی آر کو تحقیقات کا حکم دینا غلط تھا، ان کے اہل خانہ کا ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا۔ آئین کے تحت سرکاری افسر ججز کے خلاف شکایت درج نہیں کراسکتے، فیصلے میں سرینا عیسیٰ کے ٹیکس معاملے میں شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کی ہدایات کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
فیصلہ میں قراردیا گیا کہ یہ عدالت سپریم جوڈیشل کونسل کو ہدایات جاری نہیں کرسکتی ہے، قانون کے مطابق فیصلے کرنے سے ہی عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھے گا، سرینا عیسی اور ان کے بچے عام شہری، ان کے ٹیکس کا 184/3 سے کوئی تعلق نہیں۔
الطاف حسین کیخلاف لندن میں مقدمے کی کارروائی کا آغاز
عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشل کونسل کی کارروائی پر ایف بی آر کے خلاف اپیل اثرانداز نہیں ہو گی، ایسا بھی ممکن تھا کہ چیئرمین ایف بی آر کی رپورٹ پر جسٹس فائز عیسی برطرف ہوجاتے، جج کی برطرفی کے بعد ایف بی آر کے خلاف اپیل سرینا عیسی کے حق میں بھی آ سکتی تھی۔
فیصلہ میں کہا گیا کہ ممکن تھا کہ برطرفی کے بعد اپیل میں کامیابی کا فیصلہ ہونے تک جسٹس فائز عیسی ریٹائر ہوچکے ہوتے، ایسا بھی ممکن تھا کہ جوڈیشل کونسل ایف بی آر رپورٹ تسلیم نہ کرتی، سوموٹو لینے کی ہدایت دینا سپریم جوڈیشل کونسل کی آزادی کے خلاف ہے۔ آئین کے تحت سرکاری افسران ججز کے خلاف شکایت درج نہیں کروا سکتے اور چیئرمین ایف بی آر کی رپورٹ دراصل جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف شکایت ہی تھی۔
ماہر قانون رشید اے رضوی اور جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال نے بھی قاضی فائز عیسیٰ کیس کے تحریری فیصلے سے متعلق وزیر قانون فروغ نسیم کے بیان کو مسترد کیا یے۔ رشید اے رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ کہیں تاثر نہیں دیا گیا کہ ججز اور ان کے اہلخانہ کا احتساب نہیں ہوسکتا، فروغ نسیم عوام کو کنفیوژ کر رہے ہیں۔ رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ فیصلے میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ججز کے احتساب کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ ہے اور پھر جوڈیشل کونسل بھی موجود ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے جسٹس قاضی فائزعیسٰی نظرِ ثانی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی اور اہم سنگِ میل قرار دے دیا۔ احسن بھون کا کہنا ہےکہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں تمام آئينی و قانونی پہلوؤں کو سامنے لایا گیا جنہیں گزشتہ فیصلے میں نظر انداز کردیا گيا تھا۔
احسن بھون کا کہنا ہےکہ حکومت کو جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹ باریک بینی سے دیکھنا چاہیے اور اس میں جن کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ان کا کسی الیکٹڈ آفس میں رہ جانا اب ممکن نہیں، یہ فیصلہ بالکل آزادانہ ہے۔
یاد رہے کہ اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ سرینا عیسیٰ کے ٹیکس کے معاملات میں شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات غیر قانونی ہیں، اور ان غیر قانونی ہدایات کی وزیراعظم عمران خان نے بھی توثیق کی ہے جس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔
