جنونی عمرانڈوز مرنے اور مارنے پر کیوں اتر آئے ہیں؟

سیاست میں اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں، سیاسی جماعتوں کے نقطہ نظر پراختلافات ہوتے ہیں، بعض اوقات ملکی سالمیت کیلئے مفاہمت کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن موجودہ سیاست میں جنونیت کا عنصر اس طرح غالب ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے پاکستان میں جمہوریت اختتام کی طرف رواں دواں ہے، ہر سیاسی جماعت کے کارکن اور سربراہ خود کو عقل کل تسلیم کیے بیٹھے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل سے بلوچ نوجوان کس نے اغوا کیا؟
پاکستان میں سیاسی مخالفین میں کشیدگی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی ہے، ہر روز حکومتی اتحاد اور پی ٹی آئی کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو جلتی میں تیل کا کام کرتے ہیں، حال ہی میں ایسا ہی ایک بیان کراچی سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عطا اللہ ایڈووکیٹ کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے ایک دھمکی آمیز ویڈیو پیغام میں کہا اگر عمران خان کا بال بھی بیکا ہوا تو ردعمل میں سب سے پہلے میں خودکُش حملہ کروں گا اور اس کے بعد میری طرح کے ہزاروں خودکش حملہ آور میدان میں اتریں گے۔ عطا اللہ کے اس ویڈیو پیغام کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور اس طرح کے ویڈیو پیغام جاری کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں جلد از جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ٹوئٹر پر سینئر صحافی طلعت حسین نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا تحریک انصاف کے کراچی سے تعلق رکھنے والے رُکن قومی اسمبلی نے پاکستان چلانے والوں کو خودکُش حملے کی دھمکی دی ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن سندھ اسمبلی ندا کھوڑو نے دھمکی آمیز ویڈیو پیغام کے حوالے سے کہا خودکش حملے کی دھمکی دینے والے کو گرفتار کیا جائے، پی ٹی آئی دہشت گرد جماعت میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ٹوئٹر صارف احتشام افغان نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’تحریک انصاف کے رہنما ممبر قومی اسمبلی عطا اللہ ایڈووکیٹ نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو میں خودکش حملہ کروں گا اور اس طرح اور بھی ہزاروں خودکش تیار ہیں۔ احتشام کے مطابق خودکش حملہ کرنے کی دھمکی دینے والے شہریار آفریدی کے بعد یہ تیسرا ممبر قومی اسمبلی ہے، اس سے قبل پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر مملکت شہریار آفریدی اور سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان نے بھی نے بھی پارلیمنٹ میں سیاسی مخالفین پر خودکش حملہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
یاد رہے کہ مقامی میڈیا میں یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ حکومت کا عمران خان کو گرفتار کرنے کا ارادہ ہے جبکہ بابر اعوان کی جانب سے کہا گیا کہ عمران کی جان کو خطرہ ہے، عمران نے اپنی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر پشاور ہائیکورٹ سے تین ہفتوں کی راہداری ضمانت حاصل کی ہوئی ہے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا وہ سابق وزیراعظم کو اسلام آباد واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں تاہم ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق عمران ملک میں ہنگامہ آرائی و فساد، افراتفری پھیلانے اور وفاق پر مسلح حملوں کے جرائم کے تحت درج دو درجن سے زیادہ مقدمات میں بطور ملزم نامزد ہیں، دوسری جانب تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے کہا ہے اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو سخت ردعمل آئے گا۔
