پنجاب میں تبدیلی کے بعد افسر شاہی مکمل متحرک ہو گئی

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کے چارج سنبھالنے کے بعد گمان کیا جا رہا ہے کہ صوبے میں افسر شاہی پوری طرح متحرک ہوگئی ہے، سیاسی افراتفری کے دور میں سب کی نظریں بیوروکریسی پر تھیں کہ نئی حکومت کے ساتھ پنجاب کے افسر کیا سلوک کرتے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں یہ تاثر تھا کہ بیورو کریسی ڈھنگ سے کام نہیں کر رہی، یاد رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے پونے چار سالہ دور حکومت میں سات چیف سیکریٹری جبکہ آٹھ آئی جی پنجاب تبدیل کیے تھے تاکہ صوبے میں گورننس بہتر ہو سکے حالانکہ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس مسئلہ کا حل وزیر اعلیٰ کی تبدیلی ہے۔
کراچی حملے میں خاتون کو استعمال کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟
اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ وزرا نے سابق وزیراعظم عمران خان سے بارہا بیوروکریسی کے کام نہ کرنے کی شکایات کیں، لیکن کوئی شنوائی نہ ہو پائی۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ امر توجہ کا مرکز رہا کہ کیا اب بھی بیوروکریسی کام نہیں کر رہی ہے۔ پنجاب کے سول سیکریٹریٹ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت افسر شاہی پوری طرح متحرک ہے اور کسی بھی قسم کے خوف کی فضا نہیں، پوری بیوروکریسی اوپر سے نیچے تک مستعدی کے ساتھ کام کر رہی ہے، کسی بھی فائل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہو رہی، اس کی ایک مثال اس حکومت کا آٹے پر سبسڈی دینے کا فیصلہ تھا۔
ابھی کابینہ نہیں بنی تھی لیکن وزیراعلیٰ نے سبسڈی کا اعلان کر دیا حالانکہ یہ کام کابینہ کی منظوری کے بعد قابل عمل ہونا تھا، لیکن سبسڈی شروع کر دی گئی جس کی باقاعدہ منظوری ایک ہفتے بعد کابینہ کے پہلے اجلاس میں لی گئی، جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنا بڑا فرق ہونے کی بڑی وجہ کیا ہو سکتی ہے تو سرکاری افسر کا کہنا تھا میرے خیال میں دو وجوہات ہیں ایک تو موجود سیاسی حکومت کا بیوروکریسی سے متعلق رویہ پروفیشنل ہے، ایک مہینے میں نئے وزیراعلیٰ نے پورے سسٹم کی ایک ایک چیز کو سمجھ لیا اور ان کے پاس اپنے منصوبے بھی تھے۔
دوسری بات یہ کہ سب سے پہلے بیوروکریسی کو یہ بتایا گیا کہ انہیں کسی قسم کے ڈر خوف کی ضرورت نہیں، چیف سیکریٹری اور آئی جی جو پچھلی حکومت نے لگائے تھے انہی پر اعتماد کیا گیا تو افسر شاہی میں ایک انتہائی مثبت پیغام گیا۔ ترجمان پنجاب حکومت عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ ہمیں بیوروکریسی سے کسی بھی قسم کی کوئی شکایت نہیں بلکہ ہمیں تو یہ لگ رہا ہے کہ افسر شاہی پہلے سے زیادہ کام کر رہی ہے جو ہماری گزشتہ حکومتوں میں کیا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ نہیں کہ بیوروکریسی کوئی ہماری طرف دار ہے بلکہ ان کو پتا ہے کہ ہمیں کام آتا ہے، فیصلہ سازی کی قوت ہے جس کو کام آتا ہو آپ اس کو کسی قسم کے دھوکے میں نہیں رکھ سکتے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی قیادت کا بڑا اثر ہوتا ہے کیونکہ فیصلے حکومتوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں، بیوروکریسی تو مشین کی طرح ہوتی ہے، مشین کو چلانے والے کو پتہ ہو کہ میں نے اسے کیسے چلانا ہے تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
