عمران نے چکنے لونڈے مرادسعید کاجھنڈاکیوں اٹھارکھاہے؟

9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں مفرور قرار دیے جانے والے مراد سعید کے حق میں پارٹی قائد عمران خان کی حالیہ ٹویٹ کے بعد پارٹی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ چکنا لونڈا قرار پانے والے مراد سعید کے پاس ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ کپتان اس پر دل و جان سے فدا ہے۔
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے مراد سعید پر حد درجہ نوازشات کا سلسلہ نیا نہیں بلکہ عمران خان نے بارہ برس پہلے مراد سعید پر اپنی محبت نچھاور کرنی شروع کر دی تھی جب آج کا انتالیس سالہ مراد سعید محض ستائیس برس کا خوبرو نوجوان تھا۔
مبصرین کے مطابق مراد سعید پر عمران خان کی حد درجہ نوازشات پارٹی کے اندرونی حلقوں کے لئےنئی نہیں کیونکہ وہ عرصہ دراز سے عمران خان اور مرادسعید کی قرابت کے شاہد ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مراد سعید کی یہی قرابت انھیں عمران خان کا جانشین بناسکتی ہے۔ یہ چہ میگوئیاں اس وقت زور پکڑ گئی تھیں، جب دو ہزار تئیس میں خود عمران خان نے مراد سعید کو اپنا ممکنہ جانشین قرار دیا تھا۔
تحریک انصاف میں مراد سعید کے حیران کن عروج اور عمران خان کے منظور نظر بننے کے معاملے سے آگاہ پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا کہ دو ہزار گیارہ تک مراد سعید کو پارٹی میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ پشاور یونیورسٹی میں تحریک انصاف کے طلبا ونگ آئی ایس ایف کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ایک تھے۔ لہذا پارٹی کے سیاسی معاملات سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ آئی ایس ایف سے وابستہ مراد سعیدکی پارٹی میں حیثیت جلسوں میں زندہ باد، مردہ باد کا نعرہ لگانے والوں سے بڑھ کر نہیں تھی۔
خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں 31 بھارتی سپانسرڈ دہشتگرد ہلاک
ان دنوں سابق سپیکر اسد قیصر کے ساتھ اکثر مراد سعید بھی اسلام آباد کے پارٹی دفتر میں آیا کرتے تھے ۔ تاہم اسد قیصر مراد سعید کو دفتر میں لانے کی بجائے باہر چھوڑ کر آیا کرتے تھے اور مراد سعید باہر گھوم پھر کر یا گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرتا تھا۔ پارٹی عہدیدار کے مطابق پھر ایک روز اچانک ایک ایسی خبر آئی جس نے پارٹی کے اندر بہت سوں کو حیران کر دیا۔ معلوم ہوا کہ پارٹی میں نو وارد مراد سعید ناصرف دو ہزار تیرہ کا انٹرا پارٹی الیکشن لڑ رہا ہے، بلکہ وہ خیبر پختونخوا سے صوبائی صدر جیسے بڑے عہدے کا امیدوار بھی ہے۔ اس عہدے کے لئے پارٹی کے دو ہیوی ویٹ اسد قیصر اور پرویز خٹک بھی آمنے سامنے تھے۔ پی ٹی آئی کے ان ان ہاتھیوں کے درمیان ” آئی ایس ایف کے ایک چھوکرے“ کا پارٹی کے اعلیٰ عہدے کے لئے الیکشن لڑنا حیران کن بات تھی ۔ لیکن اس سے بھی زیادہ حیرانی اس وقت ہوئی جب پارٹی کے حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دی کہ عمران خان یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ وہ نوجوان قیادت کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ لہذا لگتا یہی ہے کہ پارٹی الیکشن میں یہ نووارد چھوکرا ہی بازی جیتے گا اور یہ سب کے لئے سر پرائز ہوگا۔ سب حیران تھے کہ پارٹی میں اور بھی درجنوں متحرک نوجوان کارکنان ہیں ۔ لیکن عمران خان کی سوئی مراد سعید پر ہی کیوں اٹک گئی ہے؟ غرض یہ کہ مراد سعید کے لئے عمران خان کی اس قدر نوازش اور اسے صوبائی صدر کے عہدے پر دیکھنے کی خواہش سب کے لئے اچنبھے کی بات تھی۔ تاہم اس وقت پارٹی الیکشن ہو گیا تاہم عمران خان کی خواہش پوری نہ ہو سکی اور مراد سعید ہار گیا۔ پرویز خٹک معمولی فرق کے ساتھ اسد قیصر سے یہ الیکشن ہار گئے تھے۔ یوں اسد قیصر دوسری بار صوبائی صدر بن گئے۔ اس انٹرا پارٹی الیکشن میں مراد سعید کو 27 سے زائد ووٹ پڑے۔ یعنی فتحیاب امیدوار کے مقابلے میں ووٹوں کی یہ تعداد نصف تھی۔ اس بات نے بھی سب کو حیران کیا کہ ایک نو وارد چھوکرے کو اتنی بڑی تعداد میں ووٹ کیسے پڑ گئے؟
خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک اور پی ٹی آئی عہدیدار کے بقول پارٹی میں اچانک اہم بن جانے والا مراد سعید جب عمران خان کی خواہش کے برعکس صوبائی صدارت کا الیکشن ہار گیا، تواس کا ازالہ کرنے کے لئے پارٹی چیئر مین نے انھیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کر دیا۔ یوں دو ہزار تیرہ کا الیکشن لڑ کر مراد سعید پہلی بار رکن قومی اسمبلی بن گئے۔ پارٹی کے بیشتر لوگ مراد سعید پر عمران خان کی حیران کن نوازشات پر حیران تھے۔ لیکن کسی میں اس حوالے سے سوال کرنے کی جرات نہیں تھی ۔
پی ٹی آئی ذرائع کے بقول دو ہزار تیرہ کا الیکشن جیتنے کے بعد ہی پارٹی میں مراد سعید کا اصل عروج شروع ہوا اور اس کا بنی گالا آنا جانا بڑھ گیا تھا۔ پارٹی قیادت کے تحفظات اور مخالفت کے باوجود مراد سعید پر عمران خان کی نوازشات کے سلسلے میں مزید تیزی آ گئی۔ دو ہزار اٹھارہ میں بھی مراد سعید کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا اور ایک بار پھر وہ رکن پارلیمنٹ بن گئے۔اس بار عمران خان کی خواہش پر انھیں ایک سے زائد وزارتوں کا قلمدان بھی ملا۔ ساتھ ہی ان کا شمار عمران خان کے انتہائی قریبی لوگوں میں ہونے لگا یہاں تک کہ عمران خان خود بھی پارٹی میٹنگز میں مراد سعید کی تعریفیں کرتے دکھائی دیتے اور پارٹی کے سینئر ترین رہنما یہ سب کچھ دیکھ کر حیران ہوتے ۔ پی ٹی آئی عہدیدار کے بقول مرادسعید کے انہی عروج کے دنوں میں عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی کتاب منظر عام پر آئی تو مراد سعید کی تیز رفتار ترقی کا راز افشاء ہوا جس کے بعد مراد سعید کی ترقی کے حوالے سے چہ مگوئیاں زبان زد عام ہو گئیں ۔تاہم اس کے باوجود کوئی بھی کھل کر اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے بات نہیں کرتا تھا۔ وقت گذر تارہا اور پھر سانحہ 9 مئی ہو گیا تو یہ باتیں پس منظر میں چلی گئیں۔ پارٹی کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ اس کیس میں مراد سعید بھی تاحال مفرور ہیں۔ خیبر پختونخوا کے حکومتی معاملات پر خاصی گرفت ہونے کے باوجود مراد سعید مفروری ترک کر کے سامنے آنے سے انکاری ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق مراد سعید مفروری میں بھی اس قدر طاقت ور ہے کہ ناصرف اس کے آبائی حلقے سوات کے تمام معاملات اس کی مرضی سے چلائے جارہے ہیں بلکہ وہ صوبائی حکومت اور پارٹی کے اہم فیصلوں میں بھی شامل ہوتا ہے۔ کیونکہ اسے اب بھی عمران خان کی غیر متزلزل سپورٹ حاصل ہے، چنانچہ کسی میں جرات نہیں کہ اس کی حکم عدولی کرے یا اس کو آنکھیں دکھائے۔ یہی وجہ ہے کہ مراد سعید پر ہونے والی تھوڑی سی تنقید نے ہی بانی پی آئی عمران خان کا پارہ ہائی کر دیا اور انھوں نے پارٹی قیادت کو کھری کھری سنا ڈالیں حالانکہ ماضی میں حماد اظہر سمیت 9 مئی کے دیگر مفرور رہنماؤں کے خلاف پی ٹی آئی سوشل میڈیا کمپین چلتی رہی ہے کہ وہ تحریک چلانے کے لیے منظر عام پر کیوں نہیں آرہے لیکن عمران خان خاموش رہے ۔ مگر جیسے ہی چند آوازیں مراد سعید کے حوالے سے اٹھیں، عمران خان فوری تڑپ اٹھے۔ حتی کہ مراد سعید کے حق میں انہوں اپنے ایکس اکاؤنٹ پر باقاعدہ پوسٹ کرتے ہوئے قرار دیا کہ مراد سعید میرے وفادار ترین ساتھیوں میں سے ہے اور حقیقی آزادی کی تحریک کا اہم ترین حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں بند ہونی چاہیں ۔ وہ میری ہدایات پر ہی انڈرگراؤنڈ ہے۔ اس لئے اس پر تنقید کرنے والے باز آ جائیں یعنی عمران خان نے واشگاف الفاط میں پارٹی قیادت کو خبردار کر دیا کہ کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو۔۔۔
