پاکستان میں سویلینز کے لیے سپیس ختم کیوں ہوتی جا رہی ہے؟

سینیئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سویلین سپیس تیزی سے سکڑ رہی ہے اور عسکری سپیس بڑھتی جا رہی ہے۔ یوں ملک میں اکثریت اور عسکریت کا توازن بگڑ گیا ہے۔ مانا کہ فوج ملک کا اہم ترین دفاعی بازو ہے، وہ منظم اور تجربہ کار ہے اور بہت سارے معاملات میں اہل بھی ہے، لیکن عسکریت کی بالادستی ملک کو کھوکھلا کر دیتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عسکریت اور اکثریت ہاتھ ملا کر چلیں تا کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست بن سکے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کے مخصوص جغرافیائی حالات نے عسکریت کو ملکی سلامتی کیلئے ناگزیر بنا رکھا ہے۔ حالیہ جنگ نے عسکریت کے ہمیشہ سے پاکستان کی ترجیح ہونے کے فوائد کو ثابت کر دیا ہے۔ ماضی میں عسکریت کو قائم رکھنے، اور اسے معاشرے میں لاگو کرنے کیلئے مارشل لا بھی لگائے گئے۔ کبھی ڈھکی چھپی اور کھلی سیاسی مداخلت اور کبھی کبھی دبائو سے بھی طاقت کا احساس دلایا گیا۔ لیکن حالیہ پاک بھارت جنگ میں عسکریت نے اپنے اصلی محاذ یعنی جنگ میں واضح فتح حاصل کر کے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کا سکہ منوا لیا ہے بلکہ ناقدین کے منہ بھی بند کر دیے ہیں۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستانی عسکریت بہت غیر مقبول بھی رہی ہے مگر عموما وہ اکثریت کو اپنے ساتھ چلانے میں کامیاب رہی ہے۔ گویا ہمارے ہاں اکثریت اور عسکریت میں تضاد کم اور اتفاق زیادہ رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو فوجی سربراہ کا عہدہ ملا تو انہیں بہت سارے بحرانوں کا سامنا تھا۔ معاشی بحران اتنا سنگین تھاکہ ملک ڈیفالٹ کے قریب تھا، سیاسی بحران اس قدرگھمبیر تھا کہ دھرنے اور احتجاج ملک کا نظم و نسق تباہ کئے ہوئے تھے، خارجی بحران میں خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان سے جنگ، بلوچستان میں آزادی کی جنگ اور پنجاب میں سیاسی جنگ زوروں پر تھی۔ اسکے علاوہ 9 مئی کے حملوں نے قانون کی رٹ اور فوج کے وقار پر ضرب لگا دی تھی۔ عدالتیں خود سر ہو کر خدائی کے دعوے کرنے لگیں تھیں، وہ سیاسی پسند ناپسند کی بنیاد پر حکومتیں بنانے اور گرانے میں مصروف تھیں، بین الاقوامی طور پر انڈیا بالادستی پر مصر تھا اور اپنے تئیں کشمیر کو ہضم کئے بیٹھا تھا۔

اسکے علاوہ امریکہ ہم سے مختلف وجوہات کی وجہ سے لاتعلقی اختیارکئے ہوئے تھا۔ لیکن جنرل عاصم منیر نے حال ہی میں برسلز میں اپنے خطاب میں بتایا کہ ہم بیشتر بحرانوں سے نکل آئے ہیں اور آنیوالے دنوں میں مزید بہتری آئیگی۔

الیکشن 2024ء سے پہلے اس ناچیز نے مقبولیت اور قبولیت کی دو اصطلاحات کے ذریعے پاکستانی ریاست کے اصول و ضوابط کو واضح کیا تھا ،آج کی تحریر عسکریت اور اکثریت کی اپنی اپنی افادیت کو واضح کرنے کیلئے ضروری ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس وقت عسکریت کو دل و جان سے قبول کرنیوالے بھی اکثریت کو دی جانیوالی Space سے غیر مطمئن ہیں۔ دراصل عسکری اور سویلین تضاد کی تاریخ تو پرانی ہے مگر یہ تضاد اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ لہذا جس طرح پاکستان کو دیگر بحرانوں سے نکالنا ضروری تھا، ویسے ہی اس مسئلے کا حل بھی ضروری ہے۔ سویلین Space سکڑی ہے اور عسکری Space بڑھی ہے جس سے اکثریت اور عسکریت میں جو توازن پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہےوہ فی الحال مسنگ ہے۔ مانا کہ اکثریت غیر منظم ہے، مانا کہ اکثریت کے نمائندے اکثر کرپشن کرتے ہیں، مانا کہ ان میں سے اکثر نااہل ہیں، مانا کہ انکی گورننس میں غلطیاں ہیں، مانا کہ وہ بین الاقوامی حساسیت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں، مانا کہ فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے اور ان میں زیادہ تر اغلاط ہوتی ہیں، یہ بھی ماناکہ اکثریت کے نمائندگان نہ اتنے تعلیم یافتہ اور نہ اتنے اہل ہیں کہ وہ حکومت کو موثر طور پر چلاسکیں۔

لیکن یہ سب مانتے ہوئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اکثریت کے بغیر عسکریت چل نہیں سکتی، یہ بھی مانا جائے کہ سویلینز کے بغیر فوج مضبوط نہیں رہ سکتی، یہ بھی مانا جائے کہ مارشل لا میں نمائندگی نہیں ہوتی اسلئے وہ غیر مقبول اور ناکام ہوتے ہیں، یہ بھی مانا جائے کہ اکثریت کو ساتھ چلائے اوراہل بنائے بغیر اور انکی رائے شامل کئے بغیر دنیا کا کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی مانا جائے کہ سویلین حکومتوں کو رخصت کرنا اور سیاسی مداخلت کرنا نقصان پہنچاتا رہا، یہ بھی مانا جائے کہ جنرل پاشوں، جنرل ظہیروں اور جنرل فیضوں نے سیاست، میڈیا اور معاشرے کو جو چرکے لگائے انہوں نے معاشرہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ عسکریت اور اکثریت دونوں طرف کوتاہیاں اور خوبیاں موجود ہیں مگر ہائبرڈ نظام میں عدم توازن ہے جسے دور کئے بغیر کسی بھی نظام کا کامیابی سے چلنا محال ہے۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ آئین میں واضح طور پر سویلین بالادستی کا ذکر ہے اور وہی ملک کی فلاح کا واحد راستہ ہے۔ آج ایک نیوکلیئر مسلم فوج دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکنے کے باوجود جمہوری ممالک میں شامل ہے تو اس کی وجہ وہ سویلین غلاف یا پردہ ہے جس میں ہم نے اپنے دفاعی نظام کو چھپا رکھا ہے، یہ نظام صرف جنگ کی شکل میں سامنے آنا چاہئے جیسے کہ اس جنگ میں یہ اثاثے کھل کر سامنے آئے اور انکی وجہ سے دشمن زیر ہوئے۔

برسلز میں اوورسیز کے اجتماع میں فیلڈ مارشل نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا مخالف ہے اور پراکسیز کی جنگ کی حمایت نہیں کرتا گویا موجودہ نظام میں جہاد کو ایکسپورٹ کرنے اور اس کے ذریعے سے محاذ گرم رکھنے کی پالیسی کی نفی کی گئی ہے۔ ایک بہت ہی دلچسپ نکتہ جو انہوں نے امریکہ کے بعد برسلز میں بھی دہرایا وہ یہ تھاکہ 1979 سے پہلے پاکستانی معاشرہ بہت متوازن تھا مگر بعد میں مذہبی پیشوائیت اور عدم برداشت نے معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ اس بات کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اس میں شدت پسندی، عدم برداشت، انتہا پسندی، سیاسی ابتری اور معاشرتی اخلاق کے مجموعی بگاڑ کا نہ صرف اعتراف نظر آتا ہے بلکہ اس میں اصلاح کی خواہش بھی دکھائی دیتی ہے۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ بظاہر اس وقت عسکریت اور حکومت ایک صفحے پر ہیں، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے دوٹوک انداز میں یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ حکومت میں تبدیلی کی افواہیں بالکل بے بنیاد ہیں، اس واضح اعلان کے باوجود حکومت اور فوج کے درمیان جو تضادات موجود ہیں وہ اس نظام میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہیں گے۔ عسکریت نے مِس مینجمنٹ اور کرپشن کے نام پر معیشت کے شعبے میں بھرپور کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے حالانکہ پہلے یہ مکمل طور پر سویلین ڈومین ہوا کرتی تھی۔ ریکوڈک معدنی وسائل، ایس آئی ایف سی، این ایچ اے اور دیگر اہم شعبوں میں عسکریت کو غلبہ حاصل ہے حالانکہ اس میں عسکریت کے مشوروں اور ٹیکنیکل سپورٹ تو ضرور ہونی چاہئے مگر یہ معاشی اور تکنیکی شعبے ہیں جنکی سربراہی سویلین پروفیشنلز کے پاس ہی ہونی چاہئے۔ ماضی میں عسکریت کے ذریعے ملک چلانے، معیشت اور زراعت کو بہتر کرنے یا کرپشن کو روکنے کے تمام تجربے باربار ناکام ہوئے ہیں پھر بھی ان سے سبق نہیں سیکھا جا رہا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بانی پاکستانی قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم دنیا میں پہلی جمہوری مملکت کی بنیاد رکھی جس میں سویلین بالادستی واضح ہے، کئی بار اس راستے سے روگردانی کی گئی لیکن 1973 کے آئین میں متفقہ طور پر تمام صوبوں، تمام فرقوں اور تمام جماعتوں نے پارلیمانی جمہوریت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ اب بھی وہی آئین ہے جو قائداعظم کے بعد پاکستان میں دوسرا واحد اتفاق رائے ہے، اس پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم ملک کو آگے لے جا سکتےہیں۔ 18ویں ترمیم صوبائی حقوق کیلئےایک اہم دستاویز ہے کیونکہ صوبائی حقوق کے نام پر ہی مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں۔ بنیادی ڈھانچے کو چھیڑے بغیر آئین میں ہر تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔ لہذا ضرورت ہے کہ جمہوریت اور آئین کی مدد سے مستقبل کا ڈھانچہ استوار کیا جائے۔ فوج ملک کا اہم ترین دفاعی بازو ہے، ہماری فوج منظم وتجربہ کار ہے اور بہت سارے معاملات میں اہل بھی ہے، لیکن عسکریت کی بالادستی ملک کو کھوکھلا کر دیتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عسکریت اور اکثریت ہاتھ ملا کر چلیں تا کہ پاکستان واقعی ایک فلاحی ریاست بن سکے۔

Back to top button