معروف شیف زبیدہ آپاکے ساتھ آخری لمحات میں کیا ہوا؟

ٹی وی پر خواتین کو گھریلو مسلوں کا حل بتانے، مزیدار کھانوں کی تراکیب بتانے سے شہرت پانے والی معروف کک ’’زبیدہ آپا‘‘ دل کے عارضے میں مبتلا تھیں جوکہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔مسز زبیدہ طارق جنہیں زبیدہ آپا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے پاکستان کا اثاثہ تھیں۔ وہ ایک پیشہ ور اور تجربہ کار باورچی اور ایک شاندار میزبان تھیں۔ زبیدہ آپا، انور مقصود (مزاح نگار، مصنف، ناول نگار)، زہرہ نگاہ (شاعرہ) اور فاطمہ ثریا (مصنف، ناول نگار) جیسی باصلاحیت پاکستانی مشہور شخصیات کی ہمشیرہ تھیں۔زبیدہ آپا کے 3 بچے ہیں، زبیدہ طارق بہت منظم خاتون تھیں۔ وہ اپنے گھر کو صاف ستھرا اور سجا کر رکھتی تھی۔ زبیدہ طارق ایک بہترین ماں تھیں۔ وہ اپنے منفرد اور مہذب ڈریسنگ اسٹائل کے لیے بھی جانی جاتی تھیں۔ پاکستانی خواتین اب بھی مختلف کھانوں کی ترکیب اور ٹپس کے بارے میں رہنمائی لینے کے لیے یوٹیوب پر زبیدہ آپا کی ویڈیوز دیکھتی ہیں۔حال ہی میں زبیدہ طارق کی بیٹی شاہا طارق ایک نجی ٹی وی کے مارنگ شو میں نظر آئیں، شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی ماں کی موت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں، ان کی والدہ اکثر بیمار پڑ جاتی تھیں لیکن تیزی سے صحت یاب بھی ہو جاتی تھی، وہ ڈینگی سے بھی صحت یاب ہو گئی تھیں۔ ان کو 2 ہارٹ اٹیک ہوئے جن کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہو سکا تھا، ہم سب کا خیال تھا کہ انہیں گیسٹرک کی تکلیف ہے کیونکہ ڈاکٹروں نے انہیں یہی بتایا تھا۔ اس کے بعد انہیں شدید ترین تکلیف رہتی تھی جوکہ ٹھیک نہیں ہو رہی تھی، ہم اسے آغا خان ہسپتال لے گئے جہاں ہمیں بتایا گیا کہ انہیں پہلے ہی دل کے 2 دورے پڑ چکے ہیں۔شاہا طارق کے مطابق 2 ہارٹ اٹیکس کے بعد ان کی والدہ( زبیدہ آپا) نے ٹی وی پر شوز کرنا بھی شروع کر دیے لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنے شوز اس لیے ترک کر دیے کہ وہ اپنا وزن کم کر رہی تھیں اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ایک رات ان کی والدہ کو دل کا دورہ پڑا، وہ درد سے چیخ رہی تھیں، ہم نے انہیں 11 بجے ہسپتال میں داخل کرایا، 11 بج کر 21 منٹ پر انہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔میں باہر آئی اور اپنے معمول کے کاموں کو بارے میں سوچنے لگی، میرے بھائی حسین میرے پاس آئے اور مجھے بتایا کہ ڈاکٹرز ان کی والدہ کو وینٹی لیٹر پر شفٹ کر رہے تھے لیکن ہم نے انکار کر دیا، کیوں کہ لگتا نہیں تھا کہ ان کی حالت اتنی خراب ہے، اس کے بعد ان کی والدہ 11:21 پر انتقال کر گئیں۔ ہم ان کے جسد خاکی کو گھر لے گئے، میں ساری رات والدہ کے جسد خاکی کے پاس بیٹھی رہی اور میں نے ہی ان کو غسل دیا، میں نے سب کچھ خود کیا۔

Back to top button