آئین کوئی صحیفہ نہیں ہے

وزیراعظم عمران خان کےمعاون خصوصی برائےاحتساب شہزاداکبرکا کہنا ہےکہ آئین ایک دستاویزہے کوئی صحیفہ نہیں ہے۔
پارلیمنٹ، آئین اورجمہوریت کےمستقبل کے حوالےسےمکالمے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں اظہارخیال کرتےہوئےشہزاد اکبرکا کہنا تھا کہ جمہوری عمل کا تسلسل ضروری ہے، اٹھارویں ترمیم پرصرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، ہم تو بل پاس نہیں کرواسکتےتوآئینی ترمیمی بل کیسےمنظورکروائیں گے۔ انہوں نےکہا کہ سول سروسززوال کی طرف گامزن ہیں لہذا ہمیں اپنےاداروں کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ پیچیدہ مسائل پرسیاسی جماعتوں کےدرمیان ڈائیلاگ کی ضرورت ہےاوربہترڈائیلاگ پارلیمان سےباہر شروع ہوتا ہےجس میں عوام کی آوازشامل ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اظہاررائےکی آزادی کوروکنا ناممکن ہے، آئین ایک دستاویزہے کوئی صحیفہ نہیں ہے۔
وزیراعظم کےمعاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سیاسی گنجائش نہیں ہےجو طلباء اورتاجر تنظیموں کےذریعے بنائی جا سکتی ہے، اگلی نسل کےلیے ہمیں سیاسی جگہ بنانی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button