آرمی چیف کا امریکہ سے آئی ایم ایف پر دبائو ڈالنے کا مطالبہ

آئی ایم ایف سے قرض کی قسط جلد جاری کرانے کے لیے آرمی چیف چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی متحرک ہوگئے، آرمی چیف نے اس سلسلے میں امریکہ کی نائب وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران آئی ایم ایف پر دبائو بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران موقف اپنایا کہ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خزانہ آئی ایم ایف پر پاکستان کیلئے تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی فوری فراہمی کیلئے دباؤ ڈالے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گفتگو میں وائٹ ہاؤس سے اپیل کی گئی کہ آئی ایم ایف کے 1.2 ارب ڈالر کے قرضے کا پراسیس تیز کیا جائے، واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے 13 جولائی کو پاکستان کے ساتھ ’اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری‘ دی تھی۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سمیت وزیراعظم شہباز شریف بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ جلد اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا تاہم پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاہدے کے باوجود پاکستان کو اب تک قرض کی رقم فراہم نہیں کی گئی ہے۔
قرض جاری کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق پاکستان کو طلب و رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا، اس کے ساتھ مستعد مانیٹری پالیسی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔
پاکستان کو 1 ارب 17 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے تاہم پاکستان کو حالیہ بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، صوبوں نے بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کیلیے یقین دہانی کرائی ہے۔
ایکسپورٹ ری فنانس اسکیمیں شرح سود سے منسلک رہیں گی، کرپشن کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان میں الیکٹرانک طور پر اثاثے ظاہر کرنے پر کام ہو رہا ہے، حکومت پاکستان نیب سمیت اینٹی کرپشن اداروں کی اثر انگیزی بہتر کرنے کے لیے کام کرے گی۔

Back to top button