کیا وقت سے پہلے انتخابات کا کوئی امکان موجود ہے؟


پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کے خاتمے اور پرویز الٰہی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے تحریک انصاف والے یہ امید کر رہے تھے کہ وفاقی حکومت عمران خان کے دباؤ میں آکر جلد الیکشن کا اعلان کردے گی۔ تاہم 28 جولائی کو اسلام آباد میں حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں نئے الیکشن کا مطالبہ مسترد کردیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ انتخابات 2023 میں ہوں گے اور موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ اس سے پہلے عمران خان نے مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکامی کے بعد فوری طور پر مستعفی ہو جائے اور نئے الیکشن کا راستہ ہموار کرے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت، جو سیاسی اور معاشی بحران درپیش ہے، اس کا حل قبل از وقت پارلیمانی انتخابات ہی ہیں۔ تاہم پی ڈی ایم کی جانب سے عمران خان کے مطالبے کو رد کیے جانے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی توڑنے سے انکاری ہیں تو پھر عمران ایسا کونسا طریقہ اختیار کر سکتے ہیں جس سے حکومت ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں حکومت حاصل کر لینے کے بعد عمران خان خان نئے انتخابات کروانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر دوبارہ اسلام آباد پر چڑھائی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے پاس خیبر پختونخوا کی حکومت بھی موجود ہے اور اگر وہ اسلام آباد میں بڑا اجتماع کر کے شہر کو جام کر دیں تو حکومت شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ دوسری جانب رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان اگر اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں تو ضرور آئیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ ان کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو 25 مئی کو ہوا تھا۔ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ عمران گیدڑ بھبھکیاں دینا بند کریں اور جو کرنا چاہتے ہیں کر کے دکھائیں تاکہ جواب میں ان کے چودہ طبق روشن کیے جا سکیں۔

دوسری جانب عمران خان، اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی جلسے کر چکے ہیں، جن میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد شرکت کرتی رہی ہے۔ ان جلسوں سے خطاب میں وہ دعوٰی کرتے رہے ہیں کہ شہباز شریف کی حکومت امریکی سربراہی میں ہونے والی ایک ”سازش کے ذریعے‘‘ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے اور پاکستان کو بچانے کے لیے اس امپورٹڈ حکومت کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے بھی رانا ثناءاللہ خان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے فوری انتخابات کا اعلان نہ کیا تو پھر مرکز کی حکومت گرانے میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر شہباز شریف حکومت نئے انتخابات کا اعلان نہیں کرتی تو عمران خان کے پاس حکومت گرانے کا کیا منصوبہ ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں اور یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کی مدد کرے گی تو ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ فوجی قیادت غیر جانبدار ہو چکی ہے اور وہ کسی سیاسی تنازعہ میں الجھ کر اپنی ساکھ مزید خراب کرنے کا رسک نہیں لے گی۔

عمران خان کے مطالبے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی عاصم نصیر کا کہنا ہے تھا کہ ملک کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال فوری الیکشن کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ اس سے فائدے کی بجائے نقصان ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ حکومت کو ختم کیا جاتا ہے تو نہ تو آئی ایم ایف پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط دے گا اور نہ ہی سعودی عرب پاکستان کو وعدے کے مطابق ادھار تیل دے گا۔ اس کے علاوہ چین، امریکہ، قطر اور دوسرے دوست ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدے بھی بھی خطرے میں پڑ جائیں گے اور پاکستان کا معاشی بحران سنگین تر ہو جائے گا جس کا سب سے زیادہ نقصان فوج کو ہوگا جسے اب تنخواہوں کے بھی لالے پڑ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کو آئین شکنی پر سزائے موت سنائے جانے کے بعد سے فوج مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں رہی اور اگر عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کر کے امن و امان کی صورتحال خراب کرتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ فوج مداخلت کرے گی تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ عاصم نصیر کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے شہباز شریف حکومت کو مشکل فیصلے کرنے کی صورت میں اگست 2023ء تک اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی عمران خان حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے بعد ملک میں جو مہنگائی کا جو طو کے بعد الیکشن میں جانا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا لہٰذا حکومت کسی بھی صورت فوری الیکشن کی طرف نہیں جائے گی چاہے اس پر کتنا ہی دباؤ کیون نہ ڈالا جائے۔

Back to top button